Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

Saturday, June 8, 2019

Naqsh Musallas Ka Ta'ruf Aur Zakat Ka Tariqa نقش مثلث کا تعارف اور زکات کا طریقہ

نقشِ مثلث کا تعارف اور طریقہ زکات
از۔ صوفی محمد عمران رضوی القادری

امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نےنقشِ مثلث کو قمر سے منسوب کیا ہے جبکہ امام احمد بونی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے منسوب بہ زحل بتایا ہے ،امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں ہر دو موقف کا ذکر فرمایا اور نقشِ مثلث کے اسرار و رموز کو اس شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا کہ یہ نقش ان کے نام سے منسوب ہو گیا ،اس نقش کی تاریخ اتنی ہی پانی جتنی کہ حضرتِ انسان کی تاریخ ہے ،یہ نقش حضرتِ حوا علیہا السلام کا ہے اور ان سے کامل نسبت رکھتا ہے آپ دیکھِں گے نقشِ مثلث  کے خانوں میں اسمِ حوا کس خوبصورتی سے ظاہر ہے
۷۸۶
و۶
ا۱
ح۸
ز۷
ہ۵
ج۳
ب۲
ط۹
د۴
اس نقش کا عدد طبعی ۱۵ ہے اسے پندرہ کا نقش بھی کہتے ہیں ، اس نقش کے تین ضلعیں ہیں انہیں اگر عدد طبعی میں ضرب دیا جائے تو ابوالبشرحضرتِ آدم علیہ السلام کا عدد نکل کر آئے گا  پتا چلا یہ نقش حضرت آدم علیہ السلام سے نسبتِ کلی رکھتا ہے جس طرح ماں حواء علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کی گئیں ٹھیک اسی طرح ۴۵ یعنی عدد آدم سے ۱۵ یعنی عددِ حواء کا ظہور ہوا ،پندرہ کا عدد مجموعہ ہے مرتبہ احاد کا یعنی ایک سے لے کر نو تک کے ہندسوں کو جب ہم باہم جوڑتے جائیں گے تو حاصل جمع  پینتالیس ہوگا،جس طرح انسانی نسل کی اصل حضرتِ آدم و حضرتِ حواء علیہا السلام ہیں اسی طرح تمام تر اعداد کی اصل مرتبہ احاد یعنی ایک سے نو تک کے ہندسے ہیں اور اسی طرح تمام تر نقوش و تعویذات کی اصل اور ان کا مبداء نقشِ مثلث ہے ،یہ نقش جملہ نقوش کی ماں ہے، اس نقش کے اعداد  حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کی عصاء پر موجود تھے ، خاتم سلیمانی جو  حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے  نام سے مشہور ہے وہ در اصل نقش مثلث ہی کی ایک شکل ہے اور اس کی برکت سے آپ کی حکومت پوری دنیا میں جن و انس حیوش و طیور بلکہ ہوا پر قائم تھی ان کے بعد یہ خاتم حضرت آصف بن برخیاء کو ملی تھی پھر یہ مختلف قوموں میں منتقل ہوتی رہی حتیٰ کہ امام غزالی نے اسے بلخ کے ایک بزرگ سے حاصل کر لیا
نقش مثلث اسم اعظم ہے وہ اس طرح کہ اس میں کھیعص حمعسق کے اعداد جملِ صغیر پوسیدہ ہیں اور ہر ایک حرف کا جملِ صغیر مثلث کے ایک خانے کے لئے مختص ہے،کھیعص میں ک کا جملِ صغیر ۲ ہےاسے دوسرے خانے میں رکھا  ہ کا جملِ صغیر ۵ ہے اسے پانچویں خانے میں رکھا   ی کا جملِ صغیر ۱ ہےاسے پہلے خانے میں رکھا   ع کا جملِ صغیر ۷ ہے اسے ساتویں خانے میں رکھا   ص کا جملِ صغیر ۹ ہے اسے نویں خانے میں رکھا   اسی طرح حمعسق میں ح کا جملِ صغیر ۸ ہے اسے آٹھویں خانے میں رکھا   م کا جملِ صغیر ۴ ہے  اسے چوتھے خانے میں رکھا  ع کا جملِ صغیر ۷ مکرر آیا  جو کہ ساتویں خانہ کے لئے مختص ہےس کا جملِ صغیر ۶ ہے اسے چھٹے خانے میں ق کا جملِ صغیر ایک ہے لیکن مثلث کے خانوں میں صرف تیسرا خانہ باقی ہے جس میں عدد ۳ لکھا جائےگا اس لئے ق کا جملِ صغیراگرچہ ایک ہوا لیکن اس کے دو نقطوں کو بھی شامل کرینگے تو اس کا جملِ صغیر ۳ ہوگا اسے تیسرے خانے میں رکھا   اور طرح نقش مثلث کھیعص حمعسق کے ساتھ کامل ہوا ،یہاں ایک بات کسی کے ذہن میں آسکتی ہے کہ ق کا عدد ۳ جبرا لیا گیا ہے تو اس وسوسے کا علاج یوں کیا جا ئے گا کہ کھیعص حمعسق میں صرف دو حروف ایسے ہیں جن میں نقطے ہیں اور دو نقطے ہیں  اور ان دونوں حروف کا جملِ صغیر ایک  بنتا ہے اور نقطوں کے شمار سے تین چونکہ ی مرتبہ میں دہائی کا عدد ہے اور دہائی اکائی سے قریب تر ہے اس لئے ی کو مثلث کے خانہ اول کے لئے مختص کیا اور ق کا تعلق چونکہ سینکڑہ سے ہے اور سینکڑہ ۳ عدد کا ہوتا ہے اس لئے ق سے تیسرا خانہ پر کیا گیا ملاحظہ کریں
۷۸۶
ح-۸
ی-۱
س-۶
ق-۳
ہ-۵
ع-۷
م-۴
ص-۹
ک-۲
اس طرح یہ نقش اسم اعظم ہوا، میری کتاب حروف مقطعات و اسم اعظم میں کھیعص وغیرہ حروف مقطعات کے اسم اعظم ہونے کی تحقیق ہے زیادہ تفصیل کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجئے
نقش مثلث فرد الفرد   Matchlessہے کیوں کہ اس کے ایک ضلع کے خانوں کو برابردو حصوں میں تقسیم کرنے پر  عدد سالم Perfect  نہیں رہتا بلکہ ناقص ہو جاتا مثلا مثلث کہ ایک ضلع میں تین خانے ہیں انہیں دو حصوں میں برا بر تقسیم کیا تو دیڑھ ہوا جو کہ سالم عدد نہیں اور پھر دیڑھ کو بھی تقسیم کریں گے تو چوتھائی سے ایک کم ناقص عدد ہی آئےگا اس لئے اس نقش کو فرد الفرد Matchless کہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکماء نے اس نقش کو بغض و عداوت  اور جدائی کے کاموں میں تیزی سےاثر کرنے والا نقش بتایا ہے
منسوبات نقشِ مثلث یہ نقش طبعی طور پر اربعہ عناصر میں خاک سے نسبت رکھتی ہے مزاج اس کا سرد تر ہے ، اس پر حضرت عزرائیل علیہ السلام موکل ہیں سیارہ اس کا قمر ہے
 نقشِ مثلث کی زکات با موکل
راقم السطور فقیر قادری کے علم میں مثلث کی زکات کے متعدد طریقے ہیں ان میں سے ایک ابتدائی درجے کی زکات جو میرے طریقے پر ہے احباب روحانی ممبران کے لئےنقل کرتا ہوں ، سب سے پہلے اجازت حاصل کریں تاکہ محنت مشقت رنگ لائے کم از کم تین روز قبل سے ہر قسم کا گوشت انڈا مچھلی اور جماع مطلق ترک کر دے ، ایک قسم کی سبزی اور روٹی پر دو ہفتے گذارا کرے کہ یہ معمولی سا پرہیز ہے ، بروز پیر کوشش کرے تہجد میں اٹھ جانے کی پھر تلاوت قرآن اوراد و وظائف میں طلوع آفتاب تک مشغول رہیں طلوع آفتاب کے بعد تازہ غسل کریں حجرے میں عود،صندل، کافور اور لوبان کی خوشبو روشن کرے اور خود بھی دھونی لے خالص عطر گلاب میسر ہوجائے تو کپڑوں پر اور دونوں ہتھیلیوں پر ملے ،عمل کے لئے مصلیٰ خاص رکھیں ،قبلہ رو دو زانوں بیٹھ کر پانچ منٹ کے لئے مراقب ہو اور نقش مثلث کے اسم اعظم ہونے کا خیال دل میں جمائے اور یقین کامل رکھے کہ اس کی زکات کے بعد خیر و شر کے تمام امور میں اس نقش سے کام لیا جا سکے گا   ، اب چہار قل و آیۃالکرسی پڑھ کر اپنا حصار کرے اور مشرق کی جانب رخ کر کے کاغذ کے پندرہ ٹکڑوں پر نقش مثلث آتشی چال سے لکھےہر بار نقش لکھنے سے قبل ایک بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے یعنی پندرہ نقش لکھے تو پندرہ بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے ،لکھنے کے لئے پاک کالی سیاہی یا گہرا لکھنے والی کالی پینسل کا استعمال کر سکتے ہیں جب پندرہ نقوش لکھ چکے تو یہ عزیمت پندرہ مرتبہ پڑھے
بسم اللہ الرحمن الرحیم یا اسرافیل یا جبرائیل یا کلکائیل یا دردائیل یا دوریائیل یا رفتمائیل یا شرفائیل یا تنکفیل یا اسمائیل اجیبوا دعوتی بامراللہ تعالیٰ بحق کھیعص حمعسق
جب عزیمت پڑھ چکے تو اب واپس قبلہ رو ہو جائے یعنی سمتِ مغرب اپنا رخ کرے اور کاغذ کے پندرہ ٹکڑوں پر نقش مثلث بادی چال سے لکھے بعدہ پندرہ مرتبہ عزیمت پڑھے ،اب اپنا چہرہ شمال کی جانب کر لیں اور پندرہ نقوش آبی چال سے لکھے اور پندرہ مرتبہ عزیمت پڑھ کر اپنا رخ جنوب کی طرف پھیرے اور پندرہ نقوش خاکی چال سے لکھ کر پندرہ مرتبہ عزیمت پڑھے جب چاروں عناصر کے پندرہ پندرہ نقوش لکھ کر عزیمت پڑھ چکے تو اب قبلہ رو ہوکر تمام نقوش کو سامنے رکھے اور پندرہ مرتبہ اسمائے برھتیہ پڑھےتاکہ دعوت مکمل ہو اسمائے برھتیہ یہ ہے
اسمائے برھتیہ شریف
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بِسْمِ اللہِ الْمَلِکِ الْمُحِیْطِ الدَّاءِمِ الْقَدِیْمِ الِّذِیْ مَلَاَ سَاطِعُ نُوْرِ وَجْھِہٖ جَمِیْعُ الْاَکْوَانِ وَ اَمَدَّھَا بِقُوَّۃِ جَذْبَۃِ ھَیْبَتِہٖ سُلْطَانِہٖ عَلٰی کُلِّ مَلَکٍ وَّجِنٍّ وَّ سُلْطَانٍ وَّ شَیْطَانٍ فِخَافَتہٗ جَمِیعُ مَخْلُوْقَاتِہٖ وَ اَذْ عَنَتْ وَ تَوَاضَعَتِ الْمَلٰءِکَۃُ الْکُرُّوْبِیُّونَ مِنْ اَعْلٰی مَقَامَا تِھَا وَ سَجَدَتْ وَ اَجَابَتْ لِدَعْوَۃِ اِسْمِہٖ الْعَظِیْمِ الْاَعْظَمِ لِمَنْ تَکَلَّمَ بِہٖ وَ اَسْرَعَتْ بِاالْاِجَابَۃِ وَالْبُرْھَانِ الْمُحْکَمِ الْمَکْتُوْبِ فِیْ اَلْوَاحِ قُلُوْبِ الْمُتَصَرِّفِینَ بُدُّوحٌ اَجْھَزِطٌ اَقْسَمْتُ عَلَیْکُمْ اَیَّتُھَاالْاَرْوَاحُ الرُّحَانِیَّۃُ الْعُلْوِ یَۃُ وَ السِّفْلِیَّۃُ وَ خُدَّامُ ھٰذِہِ الْعَھْدِالْکَبِیْرِ اَنْ تُجِیبُوْا دَعْوَتِیْ وَ تَقْضُوْا حَاجَتِیْ بِعِزِّہٖ بَرْھَتِیْہٍ بَرْھَتِیْہٍ کَرِیْرٍ کَرِیْرٍ تَتْلِیْہٍ تَتْلِیْہٍ طُوْرَانٍ طُوْرَانٍ مَزْجَلٍ مَزْجَلٍ بَزجَل بَزجَلٍ تَرْقَبٍ تَرْقَبٍ بَرْھَشٍ بَرْھَشٍ غَلْمَشٍ غَلْمَشٍ خُوْطِیرٍ خُوْطِیرٍ قَلْنَھُوْدٍ قَلْنَھُوْدٍ بَرْشَانٍ بَرْشَانٍ کَظَھِیْرٍ کَظَھِیْرٍنَمَوْشَلَخٍ نَمَوْشَلَخٍ بَرْھَیُوْلاَ بَرْھَیُوْلاَ بَشْکَیْلَخ بَشْکَیْلَخٍ قَزْمَزٍقَزْمَزٍ اَنْغَلَلِیطٍ اَنْغَلَلِیطٍ قَبْرَاتٍ قَبْرَاتٍ غَیَا ھَا غَیَا ھَا کَیْدُھُوْلَا کَیْدُھُوْلَا شَمْخاَھِرٍ شَمْخاَھِرٍشَمْخَاھِیْرٍ شَمْخَاھِیْرٍ شَمْھَاہِیْرٍ شَمْھَاہِیْرٍ بِکَھْطَھُوْنِیَّہٍ بِکَھْطَھُوْنِیَّہٍ بَشَارِشٍ بَشَارِشٍ طُوْنِشٍ طُوْنِشٍ شَمْخَا بَا رُوْخٍ شَمْخَا بَا رُوْخٍ وَبِحَقِّ اِھْیًا اِشْرَاھِیًا اَذُوْنَاءِی اَصْبَاوُثُ آلِ شَدَایَ وَ بِحَقِّ بَطَدٍ زَھَجٍ وَاحٍ وَ بِحَقِّ بُدُّوحٌ اَجْھَزِطٌ وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمْ اَلْعَجَل اَلْعَجَلْ اَلسَّاعَۃ اَلسَّاعَۃَ اَلْوَحَا اَلْوَحَا بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمْ الرّٰحِمِیْنْ
 اس طرح مسلسل پندرہ دنوں تک لکھے اخیر والے دن چاروں عنصر کے ایک ایک نقش زیادہ لکھے اور یہ نقوش بیوتِ نقش قولہ الحق و لہ الملک مع بسم اللہ اور ملائیکہ مقربین کے ساتھ لکھے اور ہر نقش کہ نیچے عزیمت لکھے ،ان چاروں نقوش کو اکٹھے موم جامہ کر کے اپنے پاس رکھ لے اس دوران خواب میں نقوش کی مختلف شکلیں دکھیں گی اگر ان میں سے کسی کو یاد کر کے آپ نے لکھ لیا تو سمجھو کہ ایک خزانہ ہاتھ آ گیا چاہئیے کہ ضبط کرے اور ہرکس و ناکس سے ہرگذ  ہرگذ ذکر نا کرے ،جس روز  پندرہ دن مکمل ہو جائے  اسی دن  نقوش کو اربعہ عناصر کے مطابق عمل میں لائے  آتشی نقوش کو جلا دے راکھ کسی اونچی جگہ سے ہوا میں منتشر کر دے، آبی کو بڑے تالا ب یا دریا میں ڈالے آٹے میں گولی بنانا ضروری نہیں، بادی کو  اکٹھے کسی پیلے کپڑے میں لپیٹ کر قبرستان یا کسی باغ کے درخت میں لٹکا کر چھوڑ دے اسی طرح خاکی نقوش کو کالے کپڑے میں لپیٹ کر قبرستان یا کسی باغ کی مٹی میں دفن کرے اور خوب اطمنان کر لے کہ اس مقام پر کوئی غلاظت نا ہو نا آئیندہ ہونے کا شبہ ہو،اب آپ نقش مثلث کے عامل ہو گئے زکات قائم رکھنے کے لئے روزانہ چار نقوش اربعہ عناصر کے مطابق لکھ لیا کرے کسی روز ناغہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس زکات کے بعد اگر روزانہ چار نقوش بلا ناغہ ایک سال لکھ لیا تو یہ ابتدائی  زکات ہی کافی ہوگی اس کے بعد نقشِ مربع کی  زکات ادا کر لیں گے اور یہ مداومت کے دوران بھی کر سکتے ہیں نقشِ مربع سے لے کر نقش معشر تک کی زکات میں صرف لکھنے سے کام رہے گا لہذا مثلث کی زکات سب نقوش سے پہلے ادا کرنی چاہئے
نقشِ مثلث کی زکات کے فائدے بے شمار ہیں ،فقیرِ قادری کہتا ہے کہ یہ محض مثلث کی زکات نہیں بلکہ مرتبہ احاد کی بھی زکات ہے جیسے حروفِ تہجی کی زکات اکبر ادا کرنے سے عامل ہر قسم کے عزائم کا عامل ہو جاتا ہے  اور اجابت کے لئےصرف پڑھنے کی دیر ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح مثلث کی زکات ادا کرنے کے بعد اس کا عامل اعداد کی روحانی قوت کا حامل ہوجاتا ہے اور اس کی قلم سے نقوش میں پر کئے گئے اعداد حاجت براری اور شفاء رسانی میں باذن اللہ تیزی سے اثر کرتے ہیں یہ ایک ایسا نقطہ میں نے اجاگر کر دیا اگر اہلِ بصیرت اس میں غور کریں گے تو عجیب عجیب رمزیں کھلیں گی ان شاء اللہ ،نقشِ مثلث کی زکات میں حروفِ مقطعات کھیعص حمعسق کی زکات بھی پوشیدہ ٹھہری  ، اس نقش کے اندر قائم مفردات جلالی ا ج ھ ز ط اور مفردات جمالی ب د و ح کی بھی زکات ادا ہو گئی اور عامل خیر و شر کے کاموں میں متصرف ہوا ، اس نقش کی زکات ادا کرنے والا خاتم سلیمانی کا بھی عامل ہو گیا الگ سے اسکی ریاضت کی ضرورت نہیں اور نا ہی لوح مزوجات و مفردات کی ریاضت کی حاجت
نقشِ مثلث کی چار عنصری چالیں
آتشی چال
۷۸۶
۶
۱
۸
۷
۵
۳
۲
۹
۴
بادی چال
۷۸۶
۶
۷
۲
۱
۵
۹
۸
۳
۴

آبی چال
۷۸۶
۲
۷
۶
۹
۵
۱
۴
۳
۸
خاکی چال
۷۸۶
۲
۹
۴
۸
۵
۳
۷
۱
۸
نقشِ مثلث کا عنصری نقشہ زہن نشیں کرلیں تو اس کی چالیں یاد رہیں گی ان شاء اللہ
نقشِ مثلث کا عنصری نقشہ

آتشی

بادی

آبی

خاکی