Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

Sunday, June 16, 2019

دعائے سیفی شریف کے اشارات کے متعلق جواب کا خلاص


بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
بنارس کے ایک صاحب نے میری وڈیو حزب البحر شریف کے اشارات کے تعلق سے دیکھی اور اس کے بعد مجھے یہ سوال لکھ کر بھیجا تھا کہ جس طرح آپنے دعائے حزب البحر شریف کے اشارات کا بتایا ہے کیادعائے سیفی شریف میں بھی ویسے ہی اشارات ہیں ،اگر ہیں تو بتا دیجئے ،اسکا جو جواب میں نے لکھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دعائے سیفی ہمارے یہاں ویسے ہی پڑھی جاتی ہے اس میں اشارات نہیں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ جس طرح روز مرہ حزب البحر شریف خاص اشاراتِ حسی سے پڑھی جاتی ہے اس طرح روزانہ دعائے سیفی کو اشارات حسی ،معنوی و خفی کے ساتھ پڑھنے کا معمول ہمارے یہاں نہیں ہے ، یہ جواب سائل کے سوال کے عین مطابق تھا کہ اس نے اشارہ مثل حزب البحر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوال کیا تھا جس میں کھیعص حمعسق وغیرہ پر انگلیوں کو بند کرنا اور کھولنا ہوتا ہے شاہت الوجوہ پر زمیں پے ہاتھ مارنا ہوتا ہے اور حم پر جہات ستہ میں دم کرنا ہوتا ہے اور اس طرح اشارات ِ حسی سے پڑھنا روز مرہ کا معمول ہے جب کہ دعائے سیفی کو اشاراتِ حسی ومعنوی و خفی کے ساتھ روز پڑھنے کا  معمول نہیں بلکہ اس کے مخصوص اشارات کا لحاظ مخصوص مواقع  پر اشد ضرورت کے تحت شرائطِ عامل بجا لا کر کیا جاتا ہے اور اہل فہم پر شرائطِ عامل کا مطلب و معنی خوب روشن ہے ساتھ ہی یہ دعاء اپنی عظمت و بزرگی کے لحاظ سے آج بھی اس قدر عام نہیں کہ ہرکس و ناکس اس کے پڑھنے کا مجاز ہو سکے اس کے بالمقابل اگرچہ حزب البحر شریف کا شمار بھی بڑی علوی دعاوں میں ہوتا ہے لیکن عوام الناس میں کثرت سے پڑھی جانےوالی دعاء ہے اور معمولی اہلیت پر مشائخ اس کے پڑھنے کی اجازت بھی دے دیتے ہیں لیکن حرزِ مرتضوی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اجازت ہر کسی کونہیں ملتی ہے نا عوام اس دعاء کے طریق قراءت سے واقف نا انہیں ہونے ضرورت ،اس تناظر میں سائل کے فہم و ادراک اور موقع محل کی مناسبت سے جو جواب اسے دینا تھا وہ دیا گیا  مطلب اس کا یہی تھا کہ روز مرہ کے وظیفے میں جس طرح کے اشارات حزب البحر میں پڑھے جاتے ہیں ،دعائے سیفی شریف میں پڑھنے کا معمول نہیں اور اس جواب کے پیچھے میرے Subconscious Mind میں جو بات میرے معمولات کے مطابق تھی وہ میں نے دیا یعنی میں دعائے سیفی کو بغیر کسی اشارے کے روز پڑھتا  ہوں اور ہمارے مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں سے کسی کا معمول یا تحریر میری نظر سے نہیں گذری جس میں انہوں نے روزمرہ کے معمولات میں دعائے سیفی شریف کو  مثل اشارات حزب البحر شریف پڑھنے کا لکھا ہو یا ان کا طریقہ رہا ہو خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں یہ دعاء روز مرہ کے معمولات میں یوں ہی بغیر کسی اشارے کے پڑھی جاتی ہے اوریہ جو میں نے کہا اس میں کوئی اشارہ نہیں اس سے مراد  یہی ہے کہ مثل حزب البحرشریف  دعائے سیفی میں روزانہ کی قراءت میں اشارات نہیں اور اگر کوئی دو ایک اشارے مثلا سجدہ کرنا یا نظر بجہت آسمان کرنا روز ملحوظ رکھتا ہو تو اس سے مجھے کیا اختلاف ہو سکتا ہے،اس قدر تفصیل سے وضاحت کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہو سکتا ہے کوئی شخص میرے جواب کا پس منظر اور Context  کو نا سمجھ پائے خواہ مخواہ غلط فہمی اور بد زنی کا شکار ہو جائے اللہ تبارک و تعالی مجھے اور میرے تمام احباب کو علم نافع عطاء فرمائے
دعاء گو
فقیر قادری گدائے چشتی
 محمد عمران رضوی القادری