मंगलवार, 16 जून 2020

Aaseb Ki Hazri Wale Marizo'n Ka Ilaj آسیب کی حاضری والے مریضوں کا علاج

     آسیب کی حاضری والے مریضوں کا علاج
    از صوفی محمد عمران رضوی القادری
    اگر کسی پر آسیب و جنات کی حاضری رکتی نہیں یا کچھ عرصہ رک کر دوبارہ شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ میرے احباب میں سے کسی نے بتایا کہ وہ چار پانچ سالوں سے کسی آسیب زدہ لڑکی کا علاج کر رہے ہیں لیکن حاضری بند نہیں ہوئی لہذا کچھ تجویز کیا جائے تو جاننا چاہئے کہ آسیب کے علاج میں  عامل کا جو سب سے بڑا ہتھیار ہے وہ اس کی قوتِ ارادی و قوتی نفسانی ہےاور ساتھ ہی عامل کو نفسیات کا بھی کچھ علم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ مریض یا مریضہ کے نفسیات کا مطالعہ بھی کرے کیوں کہ حاضری والے مریض محض آسیبی مریض  نہیں ہوتے وہ نفسیاتی مریض بھی ہوتے ہیں اس اعتبار سے فقیر کے نزدیک حاضری والے مریض دو طرح کے ہوتے ہیں ان کی یوں درجہ بندی کر سکتے ہیں کر سکتے ہیں
    قسم اول :مغلوب از  آسیب مع نفسیات
    قسم دوم : مغلوب از  نفسیات مع آسیب
     کبھی آسیب کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور نفسیاتی اثر کم ایسے مریضوں کو مکمل آسیب زدہ یا مغلوب از آسیب مع نفسیات کہ سکتے ہیں اور کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو اگرچہ آسیب کا اثر ہوتا ہے لیکن ان پر نفسیاتی اثر کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے تو ایسے مریضو ں کو مغلوب از نفسیات مع آسیب  کہ سکتے  ہیں کیوں کہ ایسے مریض یا مریضہ کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ جب تک خود کو آسیبی قوت کے حوالے نہیں کرتے]اس خود سپردگی کی بہت ساری صورتیں ہو سکتی ہیں[  ان پر حاضری نہیں ہوتی اور جب ان کی نفسیات یہ تقاضا کرتی ہے کہ ان پر حاضری ہو یا یہ کہ وہ خود کو آسیب زدہ یا مظلوم اور دوسروں کو ظالم تصور کرتے ہیں اور مفروضہ ظالم یا ظلم پر قابو پانے کی کوئی صورت انہیں  نہیں دکھتی تو اچانک ان پر آسیب کی حاضری شروع ہو جاتی ہے ہم یہاں یہ نہیں کہ سکتے کہ ایسے مریض آسیب کی حاضری  کا ڈھونگ کرتے ہیں ہاں کچھ ضرور کرتے ہیں لیکن یہاں وہ معاملہ خارج از بحث ہے    بات در اصل یہ ہے کہ آسیب زدہ ہر دو قسم کے مریضو کا نفس مغلوب ہوتا ہے لیکن قسم اول کا زیادہ اور قسم دوم کا کم اس لئے قسم اول یعنی مغلوب از آسیب مع نفسیات پر حاضری کے لئے آسیب کو مریض کی مرضی یا خواہش کی حاجت نہیں ہوتی کیوں کہ اسے مریضوں کا نفس فاعل نہیں رہ جاتا کہ اپنا دفاع کرے وہ مطلق مفعول ہو جاتا ہے اور آسیب جب چاہے جس طرح چاہے ان پر سوار ہوجاتے ہیں بر خلاف اس کے قسم دوم یعنی مغلوب ا ز نفسیات مع آسیب کا نفس  مفعول ہونے کے ساتھ قدرے فاعل بھی ہوتا ہے کہ اگر چاہے تو اپنی فاعل نفس کہ ذریعہ قوتِ مدافعت کوحرکت دے اورآسیب کی  حاضری نا ہونے دے  اور ایسا اکثر ہوتا  بھی ہے لیکن مریض کو اس بات کا شعور نہیں وہ لا شعوری طور پر ہی سہی لیکن اس کی قدرت رکھتا ہے،ظاہر ہے ان باتوں کا علم نا تو مریض کو ہوتا ہے اور نا اکثر جھاڑ پھونک کرنے والے معالج کو  ، لہذا ایسے مریضوں کی حاضری ممکن ہے سالہا سال محض نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جاری رہے کیوں کہ یہاں معالج کی توجہ صرف حاضری پر ہوتی ہے حاضری کی نفسیات یا نفسیاتی  وجوہات  پر نہیں ،پھر یہ کہ ہرکسی کی نفسیات جدا جدا ہوتی ہے اس وجہ سے حاضری کی وجہ بھی مختلف ہوں گی معالج کو چاہئے کہ سب سے پہلے نفسیاتی وجہ تلاش کرے مریض یا مریضہ سے از اول تا آخر مکمل روداد سنے اور اسے یہ یقین دلائے کہ اس کہ پاس اللہ کے فضل سے اس کی ہر پریشانی کا حل موجود ہے جب مریض کو معالج پر یقین پختہ ہوگا تو وہ اپنے دل میں چھپے ہر ایک بات کو معالج کے سامنے بیان کرنا شروع کر دےگا مثلاً اس کے گھر والے اس پر فلاں فلاں  پابندی عائد کرتے ہیں یا اسے کسی سے عشق ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے غرض کہ اور بھی سینکڑوں وجوہات الگ الگ مریضوں کے ہوں گے ،ممکن ہے مریض یہ سب خود سے نا کہے تو معالج کو چاہئے کہ اس کے اہل خانہ سے مکمل تفصیل حاصل کرے اور قرینے سے مسئلے کی تہ تک جائے   اور پھر اُس نفسیات کے مناسبِ حال انذار و تبشیر مریض کو کرے یا اس کے اہل خانہ سے کرائے اور اہل خانہ کو بھی تلقین کریں کہ مریض پر حاضری کے وقت اسے گھیر کر نا بیٹھ جائیں اور جاہلانہ سوال مثلا ً تم کون ہو کہاں سے آئے ہو کس ے بھیجا ہے وغیرہ وغیرہ ہر گذ نا کریں بلکہ اس وقت اہل خانہ کا رویہ مریض کے لئے نارمل ہونا چاہئے نا مریض کی حرکتوں سے پریشان ہوکر اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیں اور نا ہی مریض سے سوالات کر کے اس پر چڑھے آسیب کو اہمیت دیں بلکہ مریض کو اس کی ظاہری حالت کی ابتری کا احساس دلائیں اور اس وجہ سے اس کے یا اس کے بچوں کی مستقبل کو جو خطرہ لاحق ہے وہ بتائیں   تاکہ مریض شفا یابی کے لئے اپنی قوتِ مدافعت کو بروئے کار لائے اور علاج کے لئے مکمل  طور پر تیار ہو جائے کہ جب تک یہ نا ہوگا  ایسے مریضوں کا علاج شروع کرنا نا کرنا برابر ہے  ، اور قسم اول یعنی مغلوب از آسیب مع نفسیات کے علاج میں محض روحانی علاج پر توجہ رہے  کیوں کہ اس قسم کے مریض اکثر مخبوط الحواس ہوتے ہیں ان کا ذہن ماوف ہوجاتا ہے بات کہاں سے کہاں پہنچی اب آئیے حاضری والے مریضوں کا طریقہ علاج جانتے ہیں  ایک طریقہ تو الاوفاق قسط دوم میں شائع کر چکا اس میں جو نکات میں نے دفع آسیب کے بتائے ہیں وہی ہر جگہ ملحوظ رکھنا ہے خواہ نقوش و تعویذات اور گنڈے یا غسل  و چراغ اور پلیتے انواع اقسام کے ہوں ،یہاں چنددیگر نسخہ جات لکھے دیتا ہوں 
    گنڈہ برائے آسیب
    مریض کے قد کے برابر ۲۱ تار کچا سفید رنگ کا  ناپ لیں پھر انہیں ہلدی کے پانی سے رنگ لیں بعدہ اس پر ۲۱ گرہیں لگانی ہے ہر گرہ پر ۷ مرتبہ سورہ مزمل شریف پڑھ کر دم کرنا ہے  یہ گنڈہ مریض کے گلے میں یا کمر میں ڈلوا دیں اور تاکید کر دیں کہ جب تک مکمل افاقہ نہیں ہوتا اس کو نہیں کھولنا ہے
    نقش برائے آسیب
    آیۃ الکرسی شریف کا نقش مثمن حرفی نقش اس طریح لکھیں کہ اس کے اطراف میں حرزِ ابو دجانہ ہو یہ گلے میں ڈالیں  اور دونو بازو پر باندھنے کے لئے آیت قطب و آیت غوث کے نقوش مثمن یا مربع لکھ کر دیں اور تاکید کر دیں کہ یہ نقوش پانی سے خراب نہ ہونے پائے لہذا غسل کے وقت اتار دیں بعد غسل فوراً ڈال لیں
    پینے والے تعویذات
    اس واسطے سورہ بقرہ یا سورہ جن یا جو بھی آپ کے معمول کا نقش دفع آسیب کے لئے ہو زعفران سے لکھ کر پینے کے لئے لازمی طور پر دیا جائے
    چراغ و پلیتہ
    نقش سورہ جن مع عزیمت بطورِ پلیتہ  مریض کے پہنے ہوئے پاک کپڑَے میں لپیٹ کر کورے مٹی کے چراغ میں کم از کم ۴۱ دن جلوائیں اس پلیتے میں مریض کے سر کا بال بھی شامل کریں
    غسلِ شفاءاز آسیب
    بیری کے سات پتوں والا غسل مسلسل ۴۱ دنوں تک کرائیں  اس کا طریقہ یہ ہے کہ سات تازہ پتوں کو دو پتھروں سے کچل کر ایک پیالے میں پانی بھر کرڈالیں اور بیر کی شاخ سے  اس پانی کو جنبش دیتے ہوئے الحمد شریف چہار قل و آیۃ الکرسی پڑھیں بعدہ اس پانی کو زیادہ پانی میں ملاکر مریض کو غسل کرائیں
    نیلا کپڑا سرسو تیل
    اگر بیر کے پتے دستیاب نہ ہوں تو اس طرح کریں کہ سرسو تیل اور نیلے کپڑے  پر ایک سو دس مرتبہ ناد علی شریف پڑھ کر دم کریں اور مریض  کو سر سے لیکر پاوں تک تیل لگا کر ایک گھنٹہ کا وقفہ دیں  پھر نیلے کپڑے سے تیل پونچھ کر کپڑے کو جلا دیں اور مریض غسل کر لے یہ بھی مسلسل ۴۱ دن کم از کرانا ہے
    صدقہ برائے دفع آسیب
    ایسے مریضوں کے علاج میں صدقہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس سے مرض کی سختی میں بہت جلد کمی واقع ہوتی ہے صدقات بہت سارے ہیں ان میں عمدہ و آسان صدقہ بکرے کا ہے چاہئیے کہ بروز منگل ایک تندرست بکرا لے کر مریض یا مریضہ کے گرد سات مرتبہ بنیت صدقہ پھرائے  اور اس طرح کے ایک چکر میں تیسرا کلمہ الا با للہ تک پڑھیں کل سات مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھا جائےگا اور سات چکر مکمل ہوں گے ،اس بکرے کو کسی مدرسے میں دے دیں یا اسے ذبح کرا کے اس کا گوشت غریبوں میں تقسیم کرائیں یہ صدقہ سات ،پانچ،تین یا کم از کم ایک مرتبہ ضرور کرنا چاہئے اگر کوئی بکرا صدقہ کرنے کی حیثیت نہیں رکھتا تو مرغ کا صدقہ مذکورہ بالا طریقے سے سات منگل کرے ہاں مرغ کو اٹھا کر مریض کے سر پر سات گھمائے اور تیسرا کلمہ پڑھے اگر مریض بھی ساتھ میں پڑھے تو پڑھ سکتا ہے بلکہ ایسے مریضوں کو تیسرے کلمے کی خوب کثرت کرائیں لا تعداد ہر وقت پڑھنے کی تلقین کی جائے


सोमवार, 8 जून 2020

ترک جلالی و جمالی و فلسفہ Tark e Jalali o Jamali Ka Falsafa

سوال
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ حضور بخیر ہونگے میرا سوال یہ ہے یہ جو عملیات  میں ترک جلالی و جمالی کی جو شرط لگائی جاتی ہے اس کے تعلق سے کافی پڑھا اور سنا ہے مگر جب میں اس مضمون پر پہنچاتو کافی پریشان ہوا یہ جو میٹر لکھا ہوا ہے اس کی حقیقت کیا ہے کیا واقعی میں ترک جلالی اور جمالی عملیات کی دنیا میں ضروری ہے یا نہیں اگر بندہ اللہ کا ذکر صدق دل سے کرتا ہے تو کیا اس کو روحانیت حاصل نہیں ہوئی? اور اگر کے جلالی اور جمالی کرنے کے باوجود پھر سے دل میں صداقت اور ذہین شفاف نہ ہو تو کیا عملیات کام کریں گے یا ہمارا  چلاہ ضائع ہوجائے گا برائے مہربانی تھوڑی سی اس مضمون پر نظر عنایت ہو جائے تو انشاءاللہ کافی سارے سوالات حل ہوجائیں گے اور ہم آپ کے مشکور ہوں گے*
*شہادت خان برکاتی شیرانی ناگور راجستھان انڈیا*


از صوفی محمد عمران رضوی القادری 
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ
ترکِ حیوانات جلالی و جمالی کا حاصل ملائکہ سے تشبہ پیدا کرنا ہے اور یہ تشبہ اس وقت پیدا ہوگا جب ہم ہر اس چیز کو ترک کر دیں گے جو ملائکہ کے متنفر ہونے کا باعث ہوں اور اس کی اصل احادیث سے ثابت چنانچہ فرمایا پیاز لہسن یا اس قسم کی بدبودار اشیاء کھا کر مسجد میں حاضر نا ہو کہ اس سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے  بخاری و مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو اس درخت بودار سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملٰئکہ اس چیز سے اذیت پاتے ہیں جس چیز سےآدمی کو اذیت پہنچتی ہو اسی طرح سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم  جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ  تشریف لائے تو آپ  حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں قیام فرمایا ہوئے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں لہسن کی بوٹی ڈالی گئی حضور نے اسے تناول نہیں فرمایا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جب عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بالکل بھی نہیں کھایا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس کھانے میں اُس بوٹی کی بو آ گئ تھی اور میں وہ شخص ہوں جو اپنے رب سے سرگوشیاں کرتا ہے لیکن تم اسے کھاوتمہارے لئے جائز ہے ،آدابدعاء میں اعلی حضرت عظیم البرکت رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا  جب قصدِ دعا ہو پہلے مسواک کر لے کہ اب اپنے رب سے مناجات کریگا، ایسی حالت میں رائحہ متغیّرہ (یعنی منہ کی بدبو)سخت ناپسند ہے خصوصاً حقّہ پینے والے، خصوصاً تمباکو کھانے والوں کو اس ادب کی رعایت ذکر ودعا ونماز میں نہایت اہم ہے، کچا لہسن پیاز کھانے پر حکم ہوا کہ مسجد میں نہ آئےوہی حکم یہاں بھی ہوگا، مع ہذا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:''مسواک رب کو راضی کرنے والی ہے۔' اور ظاہر ہے کہ رضائے رب باعثِ حصولِ اَرب ہے (اللہ تعالیٰ کی رضا ، مراد ملنے کا سبب ہے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ عام حالت میں بھی بندہ مومن کو ذکر اللہ کے لئے جزوی طور پر ہی سہی ترک جلالی و ترک مکروہات  کا حکم ہے اور یہ حکم  ہر قسم کے ذکر کے لئے عام ہے لیکن جب ذکر و اشغال اعمال تصریفیہ کہ طور پر بجا لایا جائے گا تو اب پیاز لہسن کا ترک کے ساتھ  کلیتاً  حیوانی غذائیں اور  فعل حیوانی کا ترک بھی لازم قرار پائے گا تاکہ ملائکہ سے کامل تشبہ پیدا ہوسکے  لہذا دعوت و اعمال میں محض صدق نیت کافی نہیں اگرچہ      
ذکر الہی کے لئے صدق نیت و خلوص قلبی کی ضرورت ایسے ہی ہے جیسے زندہ رہنے کے لئے جسم کو روح کی ضرورت ہوتی ہے اگر روح نہیں جسم مردہ ہے اسی طرح اگر خلوص و صدق نہیں تو ذکر و اشغال بے اثر لیکن ترک جلالی و جمالی ایک بالکل الگ چیز ہے  دعوت ملکیہ کے لئے جتنی ضرورت صدق نیت کی ہے اسی قدر حاجت ترک جلالی و جمالی کی بھی ہے  ترک حیوانات کو پرہیز اور صدق و صفاء کو دوا سے تعبیر کر سکتے ہیں کبھی تو صرف دوا سے شفاء مل جاتی ہے اور کبھی پرہیز کرنا بھی لازمی قرار پاتا ہے بلکہ دونو لازم و ملزوم ہو جاتے ہیں اب اگر کوئی یہ کہے کہ میں دوا تو پابندی سے کھا رہا ہوں پھر پرہیز کی کیا ضرروت تو اسے سمجھایا جائے گا ٹھیک ہے دوا سے آپ کو فائدہ ہوگا لیکن  بعض مرض میں مکمل فائدے کے لئے مرض بڑھنے کی وجہ پر بھی قدغن لگانا ضروری ہوتا ہے اس لئے آپ سے پرہیز کا بھی کہا گیا ، انسان جو کہ انواع اقسام کے عوارضاتِ قلبی و روحی میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کی وجہ قوتِ شہویہ اور قوت غضبیہ ہیں  اور حیوانی غذائیں ان قوتوں کو امداد فراہم کرتی ہین ان سے انسان کے اندر صفات بہیمیہ و سبعیہ پیدا ہوتی ہیں تو ان صفات کو مرض جانئے اور حیوانی غذاوں کو امراض قلبی و روحانی  میں اضافے کی وجہ سمجھئے اس لئے مشائخ کرام فرمایا کرتے ہیں کہ عام حالت میں بھی چالیس دن لگاتار گوشت مت کھانا کہ اس سے تمہارا دل سخت ہو جائے گالہذا  عاملین ِ با صفاء نے جو یہ قیود ترک حیوانات کے لگائے ہیں اس میں حکمت یہی ہے کہ انسان دوران چلہ ایسی مزمومم صفات سے خالی ہو اور جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دعوتِ ملکیہ اور اعمالِ تصریفیہ میں ملائکہ سفلیہ ارضیۃ جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں ان سے تشبہ پیدا کرے یہ اس لئے فرمایا تاکہ صاحب دعوت کی تدبیر اصل نظامِ عالم کی تدبیر کے موافق ہوجائے لہذا ترک حیونات جلالی و جمالی اور ہر قسم کی بدبو دار چیز کھانے سے پرہیز کا تعلق ملائکہ سے تشبہ پیدا کرنا ہے نفحات الانس میں میں نے پڑھا کہ ایک ولی اللہ جن کے پاس فرشتے آیا کرتے تھے انہوں نے ایک مرتبہ کسی چیونٹی کو مار دیا اس کے بعد فرشتوں کا موقوف  ہو گیا  یہ اسی وجہ سے ہوا کہ اس بزرگ کو ملائکہ سے کامل تشبہ نہ رہا اس لئے دوران چلہ کسی بھی جاندار کو مارنے کی ممانعت کی جاتی ہے اور اسے محرمات احرامی کہتے ہیں   امید اس قدر تفصیل سے ترک جلالی و جمالی کا فلسفہ سمجھ آگیا ہو گا  اللہ تعالی ہم سب کو علم نافع عطاء فرمائے آمین

मंगलवार, 28 अप्रैल 2020

ذکر خدا تحفظ کی ضمانت ہےاز ہر بلاء و ابتلا Zikr e Khuda Tahaffuz Ki Zamanat Hai Har Bala Se

ذکر خدا تحفظ کی ضمانت ہےاز ہر بلاء و ابتلا
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا   وَ اذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ  اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پرکہ فلاح پاؤ(پ28، الجمعہ :10)  اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللہَ ذِکْرًا کَثِیۡرًا ﴿ۙ41﴾وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿42﴾ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿43﴾ اے ایمان والو! اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح وشام اس کی پاکی بولو وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فر شتے کہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طر ف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔(پ 22 ،الا حزاب : 41 تا 43)  اسی طرح حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' کسی بندے نے اللہ عزوجل کے ذکر سے بڑھ کر عذاب سے نجات دلا نے والا کوئی عمل نہیں کیا۔'' عرض کیا گیا ،''کیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنابھی نہیں؟ فرمایا ،'' اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنا بھی نہیں مگر جب کہ لڑتے لڑتے اس کی تلوار ٹوٹ جائے۔''(طبرانی اوسط ، من اسمہ ابراھیم ، رقم ۲۲۹۶ ، ج ۲ ،ص ۳) معلوم ہوا کہ فلاح پانے ،ظلمت سے نور کی طرف نکلنے اور عذاب ِ الہی سے نجات کا صرف اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے ذکرِخدا  کہ اس کی بدولت ہم دنیا و آخرت کی ہر سختی ہر بلاءہر وباء سے نجات حاصل کر سکتے ہیں لہذا ہمہ وقت خود کو ذکر ِقلبی و ذکر لسانی  میں مشغول رکھیں فرائض و واجبات کے ساتھ نوافل کی کثرت اور تہجد کا اہتمام کریں،درود شریف کو وردِ زبان  اورتلاوتِ قرآن کو اپنے معمولات کا جزو لاینفک بنا لیں،توبہ و استغفارکو اپنی عادتِ ثانیہ قرار دیں وما توفیقی الا با اللہ

Tulu e Suraiyah Wali Hadees Ka Mauzoo Peshangoi Nahi طلوع ثریا والی حدیث کا موضوع پیشن گوئی نہیں


از۔صوفی محمد عمران رضوی القادری
طلوع ثریا والی حدیث  کا موضوع پیشن گوئی نہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
ایک خبر بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ ۱۲ مئی کو کرونا وائرس کا خاتمہ ہو جائےگا اوریہ بات بڑی قوت کے ساتھ مسندِ احمد کی حدیث کے حوالے سے کہی جا رہی ہے جس حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے ما طلع النجم صباحا قط و تقوم عاھۃ الا رفعت عنھم او خفت کہ جب کبھی صبح کے وقت کے وقت ستارہ یعنی ثریا طلوع ہوتا ہے اور کوئی آفت موجود ہوتی ہے تو وہ یا تو ختم ہو جاتی ہے یا کم ہو جاتی ہے [مسند احمد ]  
         جب کہ اسی مسند احمد کے اندر ایک دوسری حدیث بھی ہے جس کے اندر بھی عاھۃ [آفت] کا لفظ ہے وہ حدیث یہ ہے حضرت عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے پھلوں کے فروخت کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  "عاھۃ" یعنی آفت کے ختم ہونے تک  پھلوں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا  میں نے کہا کب تک تو انہوں نے کہا ثریا کے طلوع ہونے تک [مسند احمد]
دونو ں حدیثوں کے اجتماعی مطالعے سے واضح ہو تا ہے کہ عاھۃ یعنی آفت کے ختم ہونے کی بات پھلوں کے تعلق سے کی گئی  جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم شریف کی شرح میں  فرمایا کہ "اس سے مراد وہ بیماری ہے جو کھیت اور پھل وغیرہ میں لگ جاتی ہے اور اسے خراب کر دیتی ہے "
 علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی رحمہ اللہ عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ والنجم میں و قسم کے لئے ہے اور النجم سے مراد ثریا ہے یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے اور عرب ثریا کو النجم کہتے ہیں کیوں کہ وہ طلوع ہوتا ہے اور ہر طلوع ہونے والا نجم ہے  ]عمدۃ القاری[
فرمایا النجم سے ثریا مراد لینا اس لئے مناسب ہے کہ یہ آسمان کے ستاروں میں سب سے زیادہ روشن ہے اور سب سے زیادہ واضح ہےاور ہمارے نبی سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرتِ معجزات اور دلائل کے اعتبار سے نبیوں میں سب سے زیادہ روشن  اور واضح ہیں ،نیز خریف کے اواخر میں جب عشاء کے وقت ثریا کا ظہور ہوتا ہے تو زمین سے پھلوں کی آفت دور ہو جاتی ہے اور پھل پک جاتے ہیں اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو دلوں کی بیماریاں دور ہو گئیں اور ایمان و عرفان کے پھل پک کر تیار ہو گئے اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے النجم کی قسم کھائی جس کا معنیٰ ثریا ہے ]تبیان القرآن[آیت والنجم اذا ھوی کا ترجمہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے یوں کیا " اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے" سبحان اللہ کیسا خوبصورت تفسیری ترجمہ ہے 
طلوع ِ ثریا والی حدیث اور ستاروں کی تاثیر
ایک عام انسان جب یہ حدیث اس خاص پیرایہ بیان میں سنے گا  جس طرز و طریقے سے بیان کیا جا رہا ہے اس سے ممکن ہے اس کے دل میں یہ بات گھر کرے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ ۱۲مئی تک یہ وبا ختم ہوجائے گی اور یہ ثریا کےطلوع ہونے سے ہوگا تو اس سے عام ذہن میں دو خرابی واقع ہوں گی ایک یہ کہ اگر مقررہ تاریخ کو وبا ء ختم نا ہوئی تو احادیث پر ایمان متزلزل ہوگا اور دوسرا نقد یہ کہ  عام انسان کے ذہن میں ستاروں کے بذاتِ خود موثر ہونے کا فاسد خیال گردش کرے گا تو اس سے پہلے کہ ایسا خیال آئے بخاری و مسلم کی مشہور حدیث کا مطالعہ کیجئے  حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی اس وقت رات کی بارش کا اثر باقی تھا ،نماز سے فارغ ہو کر آپ حاضرین کے جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا صحابہ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہےآپ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں بعض کی صبح ایمان پر ہوئی اور بعض کی صبح کفر پر ہوئی جس نے کہا ہم پر اللہ کے فضل سے بارش ہوئی اس نے ستاروں کا انکار کیا اور مجھ پر ایمان رکھا  اور جس نے کہا فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو اس نے میرا کفر کیا اور ستاروں پر ایمان رکھا  [مسلم،کتاب الایمان]
اب طلوع ِ ثریا والی حدیث اور بارش والی حدیث کا اجتماعی مطالعہ کیجئے تو   پتہ چلے گا کہ  طلوعِ ثریا والی حدیث میں معاذ اللہ ستاروں کی تاثیریا  نجوم کے احکام کی بات نہیں کی گئی کہ جب وہ طلوع ہوگا تو [معاذ اللہ] اس کی وجہ سے عاھۃ ختم ہو جائے گی بلکہ طلوع ثریا کو پیمانہ وقت کے طور پر ارشاد فرمایا   جیسے شمس و قمر  کوقرآن میں حساب کا آلہ قرار دیا  ،  فرمایا اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ سورج اور چاند حساب سے ہیں کہ تقدیرِ معیّن کے ساتھ اپنے بروج و منازل میں سیر کرتے ہیں اور اس میں خَلق کے لئے منافع ہیں ، اوقات کے حساب ، سالوں اور مہینوں کی شمار  انہیں پر ہے  [کنزالایمان] ٹھیک اسی طرح اہل عرب ثریا کے طلوع کو سخت شدید گرمی کی علامت  سمجھتے ہیں اور اسی علامت اور وقت کا ذکر مسندِ احمد کی حدیث میں ہے کیوں کہ جب گرمی شدت سے گرتی ہے تو پھل یا کھجوریں ٹھیک طرح پک جاتی ہیں 
 طلوعِ ثیریا والی حدیث کا موضوع  علمِ نجوم نہیں علمِ ہیئت ہے
یہ بات قابلِ غور ہے کہ طلوعِ ثریا والی حدیث کا تعلق علمِ ہیئت [Astronomy]سے ہے نا کہ علم ِ نجوم [Astrology]سے   علم نجوم پیش گوئیPrediction پر مبنی علم ہے جب کہ علم ہیئت کا  تعلق پیشن گوئی سے نہیں علم ہیئت Astronomyوہ علم ہے جسے فلکیات کا علم بھی کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ ستاروں ،سیاروں اور کہکشاوں  وغیرہ کی تخلیق ،عمر،حرکات،باہمی فاصلوں،جسامت،کثافت،درجہ حرارت،ایام و سال کی مدت ،حرکت کی سمت،اجزائے ترکیبیہ اور عناصر وغیرہ پہچانے جاتے ہیں  اس فن کے ذریعہ اس عالم کے احوالِ عجیبہ ،حسن ترتیب،مضبوط نطام،اور اللہ تعالی کی قدرت ِ کاملہ و حکمتِ تامّہ کا ہماری بساط کے بقدر علم حاصل ہوتا ہے اور یہی علم اللہ تعالی کے وجود ،توحید،عضمتِ شان،توجہ الی اللہ اور اللہ تعالی کی رضاء کے طلب کا سبب و باعث ہے نیز بعض ایسی احادیث اور مسائل فقہیہ کا علی وجہ البصیرۃ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے جو اس موضوع سے متعلق ہیں  جیسا کہ طلوع ِ ثریا والی حدیث ، علم ِ ہیئت Astronomyکی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے امام غزالی رحمہ اللہ نے احیا العلوم میں فرمایا " ان کا وقت [یعنی سنتِ فجر کا وقت ]صبح صادق کے طلو ع سے شرو ع ہوتا ہے صبح صادق کناروں میں پھیلنے والی روشنی ہوتی ہے نہ کہ لمبائی میں  ابتدا میں مشاہدے کے ساتھ اس کا ادراک مشکل ہوتا ہے مگر یہ کہ چاند کی منازل کا علم ہو یایہ کہ فلاں ستارہ طلوع ہو گا تو صبح صادق اس کے ساتھ متصل ہو گی پس اس طرح ستاروں کے ذریعے اس پر رہنمائی حاصل ہوتی ہےمہینے کی دو راتوں میں چاند کے ذریعے یہ وقت معلوم ہوتا ہے کیوں  کہ چھبیسویں کی رات چاند فجر کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور مہینے کی بارہویں رات چاند کے غروب ہونے کے ساتھ فجر طلوع ہوتی ہے اکثر ایسا ہی ہوتا ہےبعض برجوں میں فرق بھی پڑتا ہے، اس کی تشریح طویل ہےسالک کے لئے چاند کی منازل کا جاننا اہم امور میں سے ہے تاکہ وہ دن رات کے اوقات کی مقدار پر مطلع ہو سکے[احیاءالعلوم]   
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے فیض القدیر شرح جامع الصغیر میں  فرمایا کہ یہ جو حدیث میں ہے کہ مجھے اپنے بعد اپنی امت پر ستاروں پر ایمان لانے کا خوف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اعتقاد کی تصدیق کا خوف ہے کہ ستارے دنیا کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں حدیث میں ایمان کے لفظ کو نکرہ ذکر فرمایا تاکہ وہ عموم کا فائدہ دے لہذا وہ ہر قسم کی تصدیق سے بچنے پر دلالت کر رہا ہے یعنی خواہ وہ تصدیق جزئی ہو یا کلی اور خواہ کسی سے بھی ہو ،سو اسے علم نجوم [Astrlogy]کہا جاتا ہے اور وہ علم تاثیر [دنیا کے نظام پر اثر انداز ہونے کا علم] ہے نہ کہ علم تسییر[Astronomy] کیوں کہ بے شک علم تسییر نقصان دہ نہیں  اور امام غزالی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ علم بذاتِ خود مذموم نہیں ہوتا بلکہ وہ بندوں کے حق میں مختلف اسباب کی وجہ سے مذموم ہوتا ہے  جیسے علم نجوم کیوں بے شک بذاتِ خود وہ مذموم نہیں کیوں کہ اس کی دو قسمیں ہیں ۱۔۔۔۔حسابی ۲۔۔۔۔احکامی  حسابی قسم کے بارے میں خود قرآن مجید نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ بے شک ستاروں کی تسییر [ستاروں کی چال طلوع و غروب وغیرہ] کا علم محبوب ہے چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا والشمس والقمر بحسبان [الرحمن]  
علم نجوم کی دوسری قسم احکامی ہے جس کا حاصل حوادث [آئندہ پیش آنے والے واقعات] پر سے استدلال کرنا  ہےاوریہ ایسا ہی ہے جیسے طبیب نبض دیکھ کر آئندہ  پیش آنے والی بیماری پر استدلال کرتا ہے ،لیکن شریعت نے اس کی سدِّ باب کے طور پر مذمت کی ہے کیوں کہ علم نجوم کی یہ قسم اکثر مخلوق کو نقصان پہنچانے والی ہے کیوں کہ بے شک جب ان کے سامنے یہ بات کی جائے گی یہ آثار ستاروں کے ملنے یا ان کے دیکھنے یا ان کے بلند ہونے یا ان کے پست ہونے وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ بات آتی ہے کہ ستارےہی بذاتِ خود موثر ہیں[معاذ اللہ]
ثریا اور اس کا طلوع
جاننا چاہئے کہ ثریا دراصل کوئی ستارہ نہیں بلکہ کئی ایک ستاروں کی جھرمٹ کو ثریا کہتے ہیں اسے پروین بھی کہا جاتا ہے اور ستاروں کے اس  مجمع کو سات سہیلیوں کا جھمکا بھی کہا جاتا ہے اہل یونان اسے سات بہنیں [seven Sisters]   کہتے آئے ہیں یہ ستارے گہرے نیلےسفیدی لئے ہوئے نہایت چمک دارہیں   اور آسمان پر ان ستاروں کے مجمع سے حسین کوئی مجمع نہیں ، ان کی تعداد مختلف اقوال کے مطابق ۸،۷،۶ یا ۹ ہے  
امام احمد بونی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ  [ثریا]قمر کی تیسری منزل ہے  اس میں سات ستارے ہیں چھ روشن اور ایک بہت چھوٹا اس کے دیکھنے میں آنکھوں کی تیزی کا امتحان ہے اس کا نام ثروت ہے یعنی سیرابی و خوشحالی اس کے علاوہ اس کے اور بھی نام ہیں چناچہ نجم بھی اسی کو کہتے ہیں بعض علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد  والنجم اذا ھوی سے یہی منزل ثریا مراد ہے کیوں عرب اکثر ثریا کو نجم ہی کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا نام نجم رکھا ہے چنانچہ ارشاد ہے کہ جب نجم طلوع ہو تو پھلوں وغیرہ سے آفتیں ختم ہو جاتی ہیں ، ثریا کبھی کبھی رات کے وقت اپریل،مئی کے اوخر میں آسمان پر نظر آتا ہے اور روزانہ ۴ منٹ قبل طلوع اور غروب ہوتا ہےاگر اسے غروب آفتاب  بعد دیکھنا ہو تو ستمبر اکتوبر کے مہینے میں دکھے گا ،اکتوبر کے شروع میں غروب آفتاب کے تین گھنٹہ بعد مشرقی افق پر دکھتا ہے اکتوبر سے روزانہ ۴ منٹ قبل طلوع ہونا شروع ہوتا ہے اور نومبر میں ٹھیک اسی جگہ پر غروبِ آفتاب کے فوراً بعد دکھنے لگتا ہےجہاں اکتوبر میں دکھتا تھا  اور طلوع آفتاب کے وقت غائب ہوجاتا  ہے  نومبر میں ثریا آفتاب سے ۱۸۰ درجے کے فاصلے پر ہوتا ہے نجوم کی اصطلاح میں اسے مقابلہ  کا وقت کہتے ہیں the time of opposition  جب کہ مئی کے مہینے میں ثریا آفتاب کے بالکل قریب ہوتا ہے  اس صورت کو اصطلاحِ نجوم میں قران conjunction   کہا جاتا ہے  اس وقت ثریا طلوع آفتاب کے ساتھ یا اس سے قبل صبح صادق کے وقت طلوع ہوتا ہے اور دن بھر آفتاب کے ساتھ چلتا رہتا ہے  
خلاصہ کلام
حاصل یہ کہ ثریا آفتاب کے جس قدر قریب ہوتا جاتا ہے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا  رہتاہے حتیٰ کہ صفر درجہ کی قربت مئی کے اوائل میں ہوتی ہے   اوریہ  علامت شدت ِصیف یعنی سخت گرمی کی ہے لہذا حدیث شریف میں جو یہ فرمایا کہ ثریا جب صبح کو طلوع کرتا ہے تو پھلوں سے آفت ختم ہو جاتی ہے یعنی پھل اچھی طرح پک جاتے ہیں ، اس کا موضوع علمِ نجوم اور پیشن گوئی نہیں بلکہ علم ہیئت  و افلاک اور مظاہرِقدرت  ہے