Thursday, April 2, 2026

Ashaab e Feel Ka Waqeyah اصحاب فیل کا واقعہ | Seerat e Mustafa ﷺ


اصحابِ فیل کا واقعہ

    حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش سے صرف پچپن دن پہلے یمن کا بادشاہ ''ابرہہ'' ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبہ ڈھانے کے لئے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ''ابرہہ'' نے یمن کے دارالسلطنت ''صنعاء'' میں ایک بہت ہی شاندار اور عالی شان ''گرجاگھر'' بنایا اور یہ کوشش کرنے لگا کہ عرب کے لوگ بجائے خانہ کعبہ کے یمن آ کر اس گرجا گھر کا حج کیا کریں۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو قبیلہ ''کنانہ'' کا ایک شخص غیظ و غضب میں جل بھن کر یمن گیا،اور وہاں کے گرجا گھر میں پاخانہ پھر کر اس کو نجاست سے لت پت کر دیا۔ جب ابرہہ نے یہ واقعہ سنا تو وہ طیش میں آپے سے باہر ہو گیا اور خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لئے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر حملہ کر دیا۔ اور اس کی فوج کے اگلے دستہ نے مکہ والوں کے تمام اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کو چھین لیا اس میں دو سو یا چار سو اونٹ عبدالمطلب کے بھی تھے۔ (زرقانی ج1 ص85)
عبدالمطلب کو اس واقعہ سے بڑا رنج پہنچا۔ چنانچہ آپ اس معاملہ میں گفتگو کرنے کے لئے اس کے لشکر میں تشریف لے گئے۔ جب ابرہہ کو معلوم ہوا کہ قریش کا سردار اس سے ملاقات کرنے کے لئے آیا ہے تو اس نے آپ کو اپنے خیمہ میں بلا لیا اور جب عبدالمطلب کو دیکھا کہ ایک بلند قامت ،رعب دار اور نہایت ہی حسین و جمیل آدمی ہیں جن کی پیشانی پر نورِ نبوت کا جاہ و جلال چمک رہا ہے تو صورت دیکھتے ہی ابرہہ مرعوب ہو گیا۔ اور بے اختیار تخت شاہی سے اُتر کر آپ کی تعظیم و تکریم کے لئے کھڑا ہو گیا اور اپنے برابر بٹھا کر دریافت کیا کہ کہیے، سردار قریش!یہاں آپ کی تشریف آوری کا کیا مقصد ہے؟ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ ہمارے اونٹ اور بکریاں وغیرہ جو آپ کے لشکر کے سپاہی ہانک لائے ہیں آپ ان سب مویشیوں کو ہمارے سپرد کر دیجیے۔ یہ سن کر ابرہہ نے کہا کہ اے سردارِ قریش! میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ بہت ہی حوصلہ مند اور شاندار آدمی ہیں ۔مگر آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا سوال کرکے میری نظروں میں اپنا وقار کم کر دیا۔ اونٹ اور بکری کی حقیقت ہی کیا ہے؟ میں تو آپ کے کعبہ کو توڑ پھوڑ کر برباد کرنے کے لئے آیا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی۔ عبدالمطلب نے کہا کہ مجھے تو اپنے اونٹوں سے مطلب ہے کعبہ میراگھر نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا گھر ہے۔ وہ خود اپنے گھر کو بچا لے گا۔ مجھے کعبہ کی ذرا بھی فکر نہیں ہے۔ یہ سن کر ابرہہ اپنے فرعونی لہجہ میں کہنے لگا کہ اے سردار مکہ!سن لیجیے! میں کعبہ کو ڈھا کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا،اور روئے زمین سے اس کا نام و نشان مٹا دوں گا کیونکہ 
مکہ والوں نے میرے گرجا گھر کی بڑی بے حرمتی کی ہے اس لئے میں اس کا انتقام لینے کے لئے کعبہ کو مسمار کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ عبدالمطلب نے فرمایا کہ پھر آپ جانیں اورخدا جانے۔ میں آپ سے سفارش کرنے والا کون؟ اس گفتگو کے بعد ابرہہ نے تمام جانوروں کو واپس کر دینے کا حکم دے دیا۔ اور عبدالمطلب تمام اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر چلے آئے اور مکہ والوں سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اپنے مال مویشیوں کو لے کر مکہ سے باہر نکل جاؤ ۔ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اور دروں میں چھپ کر پناہ لو۔ مکہ والوں سے یہ کہہ کر پھر خود اپنے خاندان کے چند آدمیوں کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور دروازہ کا حلقہ پکڑ کر انتہائی بے قراری اور گریہ و زاری کے ساتھ دربار باری میں اس طرح دعا مانگنے لگے کہ ؎

لَاھُمَّ اِنَّ الْمَرْءَ یَمْنعُ رَحْلَہٗ فَامْنَعْ رِحَالَکَ 
وَانْصُرْ عَلٰی اٰلِ الصَّلِیْبِ وَعَابِدِیْہِ اَ لْیَوْمَ اٰلَکَ

اے اللہ !بے شک ہر شخص اپنے اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما،اور صلیب والوں اور صلیب کے بچاریوں (عیسائیوں) کے مقابلہ میں اپنے اطاعت شعاروں کی مدد فرما۔ عبدالمطلب نے یہ دعا مانگی اور اپنے خاندان والوں کو ساتھ لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور خدا کی قدرت کا جلوہ دیکھنے لگے۔ ابرہہ جب صبح کو کعبہ ڈھانے کے لئے اپنے لشکر جرار اور ہاتھیوں کی قطار کے ساتھ آگے بڑھا اور مقام ''مغمس'' میں پہنچا تو خود اس کا ہاتھی جس کا نام ''محمود'' تھا 
ایک دم بیٹھ گیا۔ ہر چند مارا، اور بار بار للکارا مگر ہاتھی نہیں اٹھا۔ اسی حال میں قہرالٰہی ابابیلوں کی شکل میں نمودار ہوا اور ننھے ننھے پرندے جھنڈ کے جھنڈ جن کی چونچ اور پنجوں میں تین تین کنکریاں تھیں سمندر کی جانب سے حرم کعبہ کی طرف آنے لگے۔ ابابیلوں کے ان دل بادل لشکروں نے ابرہہ کی فوجوں پر اس زورشور سے سنگ باری شروع کر دی کہ آن کی آن میں ابرہہ کے لشکر، اور اس کے ہاتھیوں کے پرخچے اڑ گئے۔ ابابیلوں کی سنگ باری خداوند قہار و جبار کے قہر و غضب کی ایسی مار تھی کہ جب کوئی کنکری کسی فیل سوار کے سرپر پڑتی تھی تو وہ اس آدمی کے بدن کو چھیدتی ہوئی ہاتھی کے بدن سے پار ہو جاتی تھی۔ ابرہہ کی فوج کا ایک آدمی بھی زندہ نہیں بچا اور سب کے سب ابرہہ اور اس کے ہاتھیوں سمیت اس طرح ہلاک و برباد ہو گئے کہ ان کے جسموں کی بوٹیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئیں ۔چنانچہ قرآن مجید کی ''سورهٔ فیل'' میں خداوند قدوس نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾اَلَمْ یَجْعَلْ کَیۡدَہُمْ فِیۡ تَضْلِیۡلٍ ۙ﴿۲﴾وَّ اَرْسَلَ عَلَیۡہِمْ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿۳﴾تَرْمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿۴﴾۪ۙفَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿۵﴾ 

یعنی(اے محبوب)کیا آپنے نہ دیکھا کہ آپکے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کر ڈالا کیا انکے داؤں کو تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں تاکہ انہیں کنکر کے پتھروں سے ماریں تو انہیں چبائے ہوئے بھُس جیسا بنا ڈالا
جب ابرہہ اور اس کے لشکروں کا یہ انجام ہوا تو عبدالمطلب پہاڑ سے نیچے 
اترے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ ان کی اس کرامت کا دور دور تک چرچا ہو گیااور تمام اہل عرب ان کو ایک خدا رسیدہ بزرگ کی حیثیت سے قابل احترام سمجھنے لگے۔


Tuesday, March 31, 2026

Sharaf e Aftab 2022 شرف آفتاب (Sun Glory)


Sharaf e Aftab Ka Waqt Aur Alahazrat Ka Khat 🇮🇳 شرفِ آفتاب کا وقت اور اعلی حضرت کا خط

Link:

https://youtu.be/Sz5OIE339eU

 

Lauh e Sharaf e Shams 🇮🇳 لوح شرف شمس (Sun Glory Talisman)

Link:

https://youtu.be/048UoR9ex9I

 

Lauh e Sharaf e Aftab 🇮🇳 لوح شرف شمس (Powerful Sun Glory Talisman)

Link:

https://youtu.be/-ZbKh73yDA0

 

Naqsh Taskheer Khalaiq 🇮🇳 نقش تسخیر خلائق در شرف آفتاب

Link:

https://youtu.be/GU6jYFxvsnc

 

Sun Glory Magical Ring & Sun Glory Talisman (Hindi-Urdu)

Link:

https://youtu.be/rU6j4OHDurQ


Timing Sharafe Aftab 2026 | Ya Allahul Mahmoodu ka Naqsh | Sufi Imran Razvee Sb
Link:

 Sharaf e Shams Ka Powerfull Amal | وظائف و اعمال شرف آفتاب | Sufi Imran Razvee Sb

حضور اقدس ﷺ کا نسب نامہ از سیرت مصطفےٰ ﷺ

     حضور اقدس ﷺ کے خاندانی حالات

نسب نامہ

    حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے:

(۱)حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۲) بن عبداللہ (۳) بن عبدالمطلب (۴) بن ہاشم (۵)بن عبد مناف(۶)بن قصی(۷)بن کلاب(۸)بن مرہ(۹)بن کعب (۱۰)بن لوی(۱۱)بن غالب(۱۲)بن فہر(۱۳)بن مالک(۱۴) بن نضر (۱۵) بن کنانہ(۱۶) بن خزیمہ(۱۷) بن مدرکہ(۱۸) بن الیاس (۱۹) بن مضر (۲۰) بن نزار(۲۱) بن معد(۲۲)بن عدنان ۔

  (بخاری ج 1، باب مبعث النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)

اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شجره نسب یہ ہے:

(1) حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم(2) بن آمنہ(3)بنت وہب(4) بن عبد مناف(5) بن زہرہ(6) بن کلاب(7) بن مرہ۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ ''کلاب بن مرہ '' پر مل جاتا ہے اور آگے چل کردونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔ '' عدنان'' تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ''عدنان'' ہی تک ذکر فرماتے تھے۔

 (کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری ج 1، ص543)

مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ''عدنان'' حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند ارجمند ہیں۔

خاندانی شرافت

حضورِاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب وہ کفر کی حالت میں تھے بادشاہ روم ہر قل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ ''ھو فیناذونسب'' یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''عالی خاندان'' ہیں۔ (بخاری ج1 ص4)

حالانکہ اس وقت وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرا دیں۔

مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ''کنانہ'' کو برگزیدہ بنایا اور ''کنانہ'' میں سے ''قریش'' کو چنا ،اور ''قریش'' میں سے ''بنی ہاشم'' کو منتخب فرمایا،اور ''بنی ہاشم'' میں سے مجھ کو چن لیا۔    (مشکوٰۃ فضائل سید المرسلین)

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ؎

لَہُ النَّسْبُ الْعَالِیْ فَلَیْسَ کَمِثْلِہٖ

حَسِیْبٌ نَسِیْبٌ مُنْعَمٌ مُتَکَرَّم،

    یعنی حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا اور نعمت و بزرگی والا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مثل نہیں ہے۔

قریش

حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاندانِ نبوت میں سبھی حضرات اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں۔ مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل و کمال پر چاند تارے بن کر چمکے۔ ان با کمالوں میں سے ''فہر بن مالک'' بھی ہیں ان کا لقب ''قریش'' ہے اور ان کی اولاد قریشی ''یا قریش'' کہلاتی ہے۔

    ''فہر بن مالک '' قریش اس لئے کہلاتے ہیں کہ ''قریش'' ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے، اور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا چونکہ ''فہر بن مالک'' اپنی شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر تمام قبائلِ عرب پر غالب تھے اس لئے تمام اہل عرب ان کو ''قریش'' کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں ''شمرخ بن عمرو حمیری'' کا شعر بہت مشہور ہے کہ ؎

وَ قُرَیْشٌ ھِیَ الَّتِیْ تَسْکُنُ الْبَحْرَ بِھَا سُمِّیَتْ قُرَیْشٌ قُرَیْشًا

    یعنی ''قریش'' ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام ''قریش '' رکھ دیا گیا۔ (زرقانی علی المواہب ج 1 ص76)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ دونوں کا سلسلۂ نسب ''فہر بن مالک'' سے ملتا ہے اس لئے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے ''قریشی'' ہیں۔

ہاشم

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردادا ''ہاشم'' بڑی شان و شوکت کے مالک تھے۔ ان کا اصلی نام ''عمرو'' تھا انتہائی بہادر ،بے حد سخی، اور اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے۔ ایک سال عرب میں بہت سخت قحط پڑ گیااور لوگ دانے دانے کو محتاج ہو گئے تو یہ ملکِ شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا کرکے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بنا کر تمام حاجیوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلایا۔اس دن سے لوگ ان کو''ہاشم''(روٹیوں کاچورا کرنے والا)کہنے لگے۔   ( مدارج النبوۃ ج2 ص8)

چونکہ یہ ''عبدمناف'' کے سب لڑکوں میں بڑے اور با صلاحیت تھے اس لئے عبد مناف کے بعد کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے بہت حسین و خوبصورت اور وجیہ تھے جب سن شعور کو پہنچے تو ان کی شادی مدینہ میں قبیلہ خزرج کے ایک سردار عمرو کی صاحبزادی سے ہوئی جن کا نام ''سلمیٰ'' تھا۔اور ان کے صاحبزادے ''عبد المطلب'' مدینہ ہی میں پیدا ہوئے چونکہ ہاشم پچیس سال کی عمر پاکر ملک شام کے راستہ میں بمقام ''غزہ'' انتقال کر گئے۔ اس لئے عبدالمطلب مدینہ ہی میں اپنے نانا کے گھر پلے بڑھے،اور جب سات یا آٹھ سال کے ہو گئے تو مکہ آکر اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہنے لگے۔

عبدالمطلب

    حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا ''عبدالمطلب''کااصلی نام ''شیبہ'' ہے۔ یہ بڑے ہی نیک نفس اور عابد و زاہد تھے۔ ''غار حرا'' میں کھانا پانی ساتھ لے کر جاتے اور کئی کئی دنوں تک لگاتار خداعزوجل کی عبادت میں مصروف رہتے۔ رمضان شریف کے مہینے میں اکثر غارِ حرا میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور خداعزوجل کے دھیان میں گوشہ نشین رہا کرتے تھے۔ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نورِ نبوت ان کی پیشانی میں چمکتا تھااور ان کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ اہل عرب خصوصاً قریش کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ مکہ والوں پر جب کوئی مصیبت آتی یا قحط پڑ جاتا تو لوگ عبدالمطلب کو ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ جاتے اور بارگاہِ خداوندی میں ان کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے تھے تو دعا مقبول ہو جاتی تھی۔ یہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے لوگوں کو بڑی سختی کے ساتھ روکتے تھے اور چور کا ہاتھ کاٹ ڈالتے تھے۔ اپنے دسترخوان سے پرندوں کو بھی کھلایا کرتے تھے اس لئے ان کا لقب ''مطعم الطیر''(پرندوں کو کھلانے والا) ہے۔ شراب اور زنا کو حرام جانتے تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے ''موحد'' تھے۔ ''زمزم شریف'' کا کنواں جو بالکل پٹ گیا تھا آپ ہی نے اس کو نئے سرے سے کھدوا کر درست کیا، اور لوگوں کو آب زمزم سے سیراب کیا۔ آپ بھی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے۔اصحاب فیل کا واقعہ آپ ہی کے وقت میں پیش آیا ۔ایک سو بیس برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔(زرقانی علی المواہب ج1 ص72)





Friday, March 27, 2026

Amaliyat me ijazat ke barakaat | عملیات میں اجازات کے برکات | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad


 

Sharaf e Aftab Ka Waqt 2026 | Sun glory timing | شرف آفتاب کا وقت

 


اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے:

شرفِ آفتاب 2026 کا وقت

ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے:

 * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔

 * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔

 * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔

اہم نقوش اور اعمال

 * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔

 * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔

 * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔

نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب

 * یہ نقوش کاغذ پر زعفران سے، یا تانبے کے پترے اور انگوٹھیوں پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔

 * یا اللہ المحمود کے نقش کو "مربع" (16 خانے) یا "مسدس" (36 خانے) میں بھرا جا سکتا ہے۔ مسدس (36 خانے) کا نقش شمس (سورج) سے منسوب ہونے کی وجہ سے زیادہ موزوں ہے۔

 * تجربے کی روشنی میں بتایا گیا کہ اگر نقش کو گول مدور (دائرے کی) شکل میں بھرا جائے تو اس کی تاثیر مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم سادہ مربع نقش بھی بھرا جا سکتا ہے۔

 * نقش کے پیچھے شرفِ آفتاب کا مخصوص طلسم لکھنا بھی ضروری ہے۔

دیگر خدمات

 * ادارہ روحانی امداد کی جانب سے شرفِ آفتاب کی انگوٹھیاں اور خاص نقوش بھی تیار کیے جاتے ہیں، جن کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے اور ضرورت مند انہیں ادارے سے حاصل کر سکتے ہیں۔

صوفی صاحب نے مزید تفصیلات اور نقش بھرنے کے عملی طریقوں کے لیے اپنے چینل پر موجود پرانی ویڈیوز اور "شرفاتِ کواکب" کی پلے لسٹ دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

Friday, March 20, 2026

Eid mubarak to all.

Eid mubarak to all from Shaik Al Ruhaniyaat Alhaj Sufi Muhammad Imran Razvee Al Quadri.
May this Eid bring joy to your heart, smile to your face, and warmth to your home.آمین 

 

GHAZAB AUR KEENAH | RAMADAN DAY 30 | FUTUHUL GHAIB | SUFI IMRAN RAZVEE SB | IDARA ROOHANI IMDAD


 

Thursday, March 19, 2026

Tilismi Angoothi Sharaf e Aftab طلسمی انگوٹھی شرف آفتاب Sun Glory Magical Ring | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad


انگوٹھی شرف آفتاب

شرفِ آفتاب کا وقت پورے سال میں ایک مرتبہ آتا ہے نقوش و تعویذات کے لئے حد درجہ موثر اور نہایت با قوت وقت ہے،  اس سال ہمارے یہاں لوحِ شرفِ آفتاب کے ساتھ طلسمی انگوٹھی کے نقوش بھی تیار کئے گئے ہیں یہ نقوش چاندی کے پانچ پتروں پر کندہ ہیں ایک پر نقش تسخیر خلق دوسرے پر خاتم شرف آفتاب تیسرے پر طلسم شرف آفتاب چوتھے اور پانچوے پر دعائے تسخیر خلق کندہ ہے ان پانچ پتروں کو چاندی کی انگوٹھی میں رکھ کر اوپر سے دم شدہ اصلی یمنی عقیق جڑ دیا جائےگا یہ انگوٹھی حاجتمندوں کی انگلیوں کی سائز کے مطابق ہی تیار کی جائے گی اسی طرح  لوحِ شرفِ آفتا ب  بھی کاغذ پر زعفران سے  وقتِ مقررہ پر تیار کیا گیا ہے یہ لوح اور انگوٹھی ہر اس شخص کے لئے ایک روحانی تحفہ ہے جو تسخیر خلائق یا عوام الناس میں مقبول ہونا چاہتا ہے، جسے سیاست میں نمایا کامیابی درکا ہے ،جو اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے،جومقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہونا چاہتا ہے ،جو شہرت عزت اور رعب و دبدبہ کا متمنی ہے ، جو دشمنوں پر غالب آنا چاہتا ہو ان سب حضرات و خواتین کے لئے لوح شمس یاطلسمی انگو ٹھی  لاجواب ہے



SHARAF E AFTAB KE NUQOOSH شرف آفتاب کے نقوش و تعویذات (Sun Glory Amulets And Magical Ring) | 2025 | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad


       Is Saal Sharaf e Aftab 7 aur 8 April ko hai. Taskheer e Khalq , Rob o Dabdaba , Taskheer e Hukkam , wusat e Rizq aur Imdad e Ghaibi ke liye is waqt ki taseer awamunnas ke nazdeek musallam aur khwas ke haan tasleem shuda hai.

       Sharf e Shams ke nuqoosh ke khwas ba mujib e irshad e Alahazrat Azeemul Barkat mulahiza farmaye'n . irshad farmaya in ke fawaaid barkaate e azeema makhlooq wa Khaliq sab ke nazdeek azeem wajahat , umar bhar ha rzeeq se najaat , hamehsa wusat e rizq , hayaate taiyeba , mahabbat e ilahi , quloob e khalaaiq me mahabbat.

     Faqeer e Quadri arz karta hai sharaf e shams ki aisi mukhtasar aur jaame khwaas ka bayan kahi nahi milega , Ap jo bhi kahsiyat bayan karna chahenge woh inhi khsussiyat ke ziman me hogi.

      Befazlihi Tala humare yaha arsa daraaz se sharafhaaye kawakib me nuqoosh wa alwaah taiyar kiye jate hain.Bilkhusus sharaf e shams ke nuqoosh jo humare yaha taiyar hote hain Allah ke fazal se inhe dawami shohrat aur khub pazerai hasil hai. sainkdo afrad ko sharaf e shams ke nuqoosh bana kar de chuka . baaz ahbab husoole barkat ke liye har sal sharaf e shams ke naqoosh banwate hain.

       Faqeer ke yahan tariqa yeh hai ke har saal sharaf e sham ke nuqoosh badal diye jaate hain , yeh tabdili faqeer e quadri ke fanni zauq aur awam ki zarurat aur hajat ke mutabiq hota hai. is ke liye baqaaida istekhara karta hun , ghaur wa tammul karta hun phir sharah sadr hota hai to nuqoosh ki shakal qalb me ilqa kar di jati hai. 

        is saal jo naqsh humne sharaf e aftab ke liye waza kia hai woh sharaf e shams ki tamam khususiyat aur khubyun ke elawa be shumar barakaat ka haamil hai. bilkhusus Alahzrat Azeemul barkat ne jin khususiyat ka zikr kia wo saare tasarrufat Deeni wa dunyawi is saal ke Lauh e Shams aur Angoothi me shamil aur daakhil hai. Allah Tala Barkat Farmaye.Amin.






                    

Featured Post

AL AUFAAQ (Vol-14) الاوفاق

Book Your Copy Now +91-9883021668