Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

Tuesday, November 12, 2019

Naqsh Suratul Fatiha Baraye Jumla Amraz e Jismani |🇮🇳|


Har Qism Ki Mohlak Aur Purani Bimariyo'n Ke Liye Thilya Wala Naqsh |🇮🇳|


Mujhe Chand Azeem Tabarrukat Ata Hue'n

Bara Rabiilawal Sharif Ke Mubarak o masud mauqa par faqeer e Quadri ko chand azeemush shan tabarrukat milee'n jin me Do Zulf Mubarak Aaqa e Do Jaha'n Sarwar e Kaayenat sallallahu alaihi wasallam aur ek Mue Mubarak Sarkar e Ghaus e Azam raziallahu anhu aur inke sath Rauza e Rasool sallallaho alaihi wasallam me diye jane wale jaroob charif ke chand Tinke , iske sath ek iman afroz bat bata du'n ke aj se taqriban 5 sal qabal mujhe Nabi Kareem Sallallahu alaihi wasallam ka ek Mue Mubarak mila tha jiski har sal bara rabiilawal me ziarat karta hu woh pehle se kaafi badh gaya hai سبحان اللہ

Saturday, October 19, 2019

To all my members and visitors


To ,
All My Dear
You are notifying that I will not be available all the time on WhatsApp, (+91-9883021668) but you can feel free to post here for any kind of  queries for Taweez  and lamp or spiritual treatment and therapy for black magic removal etc.
And for any questions regarding Amaliyat Course  please send your questions to this mail id (alaufaaq@gmail.com) and write your name and city name along with the question.
Regards                      
Faqeer e Quadri

Monday, October 7, 2019

Khazana Aur Dafeena Ki Qisme'n خزانہ اور دفینہ کی قسمیں


خزانہ اور دفینہ کی قسمیں
از صوفی محمد عمران رضوی القادری
قرآنِ مقدس میں حضرتِ خضر علیہ السلام کےاس واقعے کا ذکر بڑی تفصیل آیا ہے  جس میں آپ جنابِ موسی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ایک بستی  میں تشریف لے جاتے ہیں اور بستی  والوں کے نا روا سلوک کے باوجود آپ اس بستی  میں دو یتیم بچوں کے گھر کی گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دیتے ہیں اس کو قرآن مجید میں فرمایاوَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ "خضر نے فرمایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے اور ان کاباپ نیک آدمی تھا " اس آیت میں خضر علیہ السلام کی یہ کرامت بیان ہوئی کہ انہوں نے زمین کے نیچے کا دفینہ معلوم کرلیا ان جیسی بہت سی آیات میں انبیاء کرام کے معجزات اور  اولیاء اللہ کی کرامات بیان ہو ئیں ،مفسرین فرماتے ہیں  اس دیوار کے نیچے ان دو بچوں کا خزانہ تھا ان کے نام اصرم صریم تھے  اور کان ابوھما صالحا میں ان کے جس باپ کا ذکر ہے وہ ان بچوں کا آٹھویں یا دسویں پشت میں باپ تھا  ،دیکھئے نیک اور صالح انسان کی نیکی کا اثر اس کی کئی نسلوں میں باقی رہتا ہے   جاننا چاہئے  کہ باپ کے تقویٰ و پرہیز گاری کے نتیجے میں ا س کی اولاد در اولاد کو دنیا میں فائدہ ہوتا ہے، جیساکہ حضرت  عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ آدمی کے نیک ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد در اولاد  کی بہتری فرما دیتا ہے اور اس کی نسل اور اس کے ہمسایوں میں اس کی رعایت فرما دیتا ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف سے پردہ پوشی اور امان میں رہتے ہیں}درمنثور{
اور حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’ اللّٰہ تعالیٰ بندے کی نیکی سے اس کی اولاد کو اوراس کی اولاد کی اولاد کو اور اس کے کنبہ والوں کو اور اس کے محلہ داروں کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔(خازن)
 یونہی باپ کا نیک پرہیزگار ہونا آخرت میں بھی اس کی اولاد کو نفع دیتا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمٰنٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ‘‘" اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس)  اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی اولاد کو ان کےساتھ ملادیں گے اور ان( والدین) کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے}طور{
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بیشک اللّٰہ تعالیٰ مومن کی ذُرِّیَّت کو اس کے درجہ میں اس کے پاس اٹھالے گا اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہو تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔(جامع الاحادیث)
 حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جب آدمی جنت میں جائے گا تواپنے ماں باپ،بیوی اور اولاد کے بارے میں پوچھے گا۔ ارشاد ہوگا کہ وہ تیرے درجے اور عمل کو نہ پہنچے۔ عرض کرے گا ’’اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ، میں نے اپنے اور ان کے سب کے نفع کے لئے اعمال کئے تھے۔ اس پر حکم ہوگا کہ وہ اس سے ملادئیے جائیں ،ان احادیث و آثار کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نیک اعمال کا اثر  نہ صرف باقی رہتا ہے بلکہ اس سے دنیا و آخرت میں برابر فیض پہنچتا ہے ،دیکھئے ان یتیموں کا خزانہ محض اس لئے محفوظ رہا کیوں کہ ان کا دادا جو کہ آٹھویں پشت میں تھا نیک اور صالح تھا ،اور یہ بھی پتہ چلا کہ ایسا خزانہ جو نیک نیتی کے ساتھ بطور امانت کوئی دفن کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس پر محافظ مقرر ہوتے ہیں پھر کوئی لاکھ چاہے کہ اسے حاصل کرلے ہرگذ کامیاب نہیں ہو سکتا یہ نکتہ ذہن میں رہے آگے کام آئےگا
خزانہ اور دفینہ نکالنے کے تعلق سے فقیر کو  سینکڑوں کی تعداد میں کالس اور میسج آ تے ہیں اور بہت سارے سوالات بھی احباب کے جمع ہو گئے ان شاء اللہ اس آرٹیکل میں  بتدریج  ان کے جوابات بھی  آئیں گے ،سب سے پہلے میں عرض کر دوں کہ دفینہ وغیرہ  کے حوالے سے میرے بہت سارے ذاتی تجربات ہیں  یہ کام آسان نہیں بلکہ جان جوکھوںوالا کام ہے دفینہ کا حاصل کرنا ممکن توہے لیکن آسان نہیں، وہ لوگ جو خزانے کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں پہلے فقیر کی تحریر پڑھ لیں توان شاء اللہ ان کا  وقت اور مال دونوں ضائع ہونے سے محفوظ رہیں گے ،دسیوں ایسے خاندان جنہوں نے  نا تجربہ کار یا نا اہل عاملین کے بتانے پر خزانہ حاصل کرنے کے لئے لاکھوں روپئے اور وقت ضائع کر بیٹھے حاصل کچھ نا ہوا سوائے تضیع اوقات اور مال کی بربادی کے، کچھ تو نفسیاتی مریض ہو گئے ان کا علاج کیا گیا بہر کیف یہ میرا موضوع نہیں اس حوالے اداریہ میں گفتگو کر آیا ہوں فی الوقت سب سے پہلے خزانے کی اقسام کو سمجھتے ہیں  اور اس کے بعد اس کے  نکالے جانے کی ترکیب نقوش و طلسمات و عملیات کا تذکرہ ہوگا

خزانے کی دو قسمیں
 سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ خزانے کی دو قسمیں ہوتی ہیں  اگر بہت سارا قیمتی مال انسان خود کہیں دفن کرے یا رکھ چھوڑے تو عربی میں اسے کنز کہتے ہیں اردو میں دفینہ یا خزانہ اور فارسی میں گنج  کہا جاتا ہے  یہ بھی جاننا چاہئے کہ جب مطلقاً کنز یا دفینہ یا خزانہ یا گنج  بغیر کسی اضافت کے کہا جائے تو اس سے مراد مال و دولت ہوتا ہے اور اضافت کے ساتھ ہر چیز کو کنز یا گنج کہ سکتے ہیں جیسے کنزالایمان ،کنزالدقائق، پنجِ گنج قادری وغیرہ تو یہ خزانے کی ایک قسم ہوئی جسے کنزیا دفینہ کہتے ہیں  قرآن مقدس میں دو طرح کے کنز کا ذکر ہوا ایک کی حفاظت کرنے اور پوشیدہ رکھنے کا ذکر فرمایا  وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ "خضر نے فرمایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے اور ان کاباپ نیک آدمی تھا  " اس خزانے کی حفاظت کی گئی اس کے لئے محافظ مقرر کئے گئے،لیکن وہ خزانہ  جوخدا کی راہ میں مال نہ خرچ کے جمع کئے جائیں تو ایسا کرنے  والوں کو وعید سنائی گئی  فرمایا  وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ "اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی" فقیر قادری عرض کرتا ہے کہ وہ خزانے جو کسی خاص مقصد و حسنِ نیت کے ساتھ کہیں دفنائے جائیں تو وہ ہر کسی کو نہیں مل سکتیں  ہاں جو  اس کا مستحق ہوگا بلا تکلف  اسےحاصل ہو جائے گا اوریہ دفینہ رکھنے والے کی نیت پر منحصر ہے کہ اس نے اسے مباح  کر دیا ہوکسی ضرورت مند یا دیندار انسان کے لئے اس میں مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ،اور وہ دفینہ جس پر خدائے قدیر کی وعید آئی ہے اس پر کوئی محافظ مقرر نہیں ہوتا اسے مالِ غنیمت سمجھنا چاہئے اور ایسا مال جو دفینے کی شکل میں کہیں ہو اس کو حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں،واضح رہے کہ میں دفینوں کے  شرعی احکام نہیں بتا رہا بلکہ یہ روحانی تدبیر کے قبیل سے ہے ہاں یہ ضرور ملحوظ رہے کہ خزینہ و دفینہ کے تعلق سے بہارِ شریعت میں با ضابطہ ایک باب ہے وہاں سے دفینہ وغیرہ کے شرعی احکام معلوم کرنا چاہئیے،
  دوسری قسم خزانے کی وہ ہے کہ کہیں خود ہی قدرتی طور پر کوئی قیمتی جمادات مثل   فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر  جواہر یاسونا ،چاندی،سیسہ،پیتل،لوہا،تانبہ وغیرہ  پیدا ہوجائے یا ہوتا ہو تو ایسے خزانے کو عربی میں معدن اور اردو و فارسی میں کان کہتے ہیں ، دور جدید میں کسی بھی کان  کی کھوج مشینی آلات سے کی جاتی ہے اس سلسلے میں روحانی تدابیر کا کوئی ذکر بھی نہیں کرتا  

اعمالِ خزینہ و  دفینہ کی دو قسمیں
جس طرح خزانے کی دو قسمیں ہیں اسی طرح ان کا سراغ لگانے والے اعمال بھی دو طرح کے ہیں ،پہلی قسم کے اعمال و نقوش میں دفینہ کے ساتھ سحر مدفونہ بھی شامل ہے مطلب جس عمل یا طریق سے دفینہ معلوم ہوگا اسی طریقے سے سحر مدفونہ کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے   ،جبکہ دوسرے قسم کے اعمال و نقوش معدنی اشیاء مثل     فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر  جواہر یاسونا ،چاندی،سیسہ،پیتل،لوہا،تانبہ وغیرہ  کے دریافت کے لئے ہیں چونکہ دوسرے قسم کے خزانے کو دریافت کرنا یہ ہمارا موضوع نہیں اس واسطے صرف پہلی قسم کے خزانے اور اس کے حصول کے طریق اور  اعمال و نقوش وغیرہ پر بات چلے گی ،کتب عملیات میں جتنے اعمال درج ہیں وہ  زیادہ تر دفینہ کے عنوان سے  ہیں وہاں آپ کو معدن یا کان کا پتہ لگانے کے عنوان سے اعمال نظر نہیں آئیں گے  لیکن  حقیقت یہ ہے کہ ان اعمال ونقوش میں بعض  معدن کے لئے ہیں اور بعض کنز کے لئے ، لہذا دفینہ کی کھوج میں اکثر ناکامی عاملین کو اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ  وہ ان دو قسم کے اعمال میں فرق نہیں کر پاتے ،جن اعمال یا نقوش سے خزانے کی قسم اول کا پتہ چلتا ہے ضروری نہیں کے قسم دوم یعنی معدن یا کان کا پتہ بھی ان سے چل جائے اسی طرح دوسری قسم کے خزانے کا پتہ لگانے والے نقوش و اعمال و طلسمات سے قسم اول یعنی دفینہ کا سراغ ہرگذ نہیں مل سکتا مثال کے طور پر مرغ کے ذریعہ دفینہ معلوم کرنے کے جتنے طریقے ہیں وہ سب قسم اول یعنی دفینہ اور سحر مدفونہ کے لئے ہیں اس سے معدن کا پتہ نہیں چل پائے گا  نہ مرغ وہاں پنجے مارے گا اور نا بانگ دیگا ،اسی طرح  لَہُ مَقَالِیْدُالسَّمَوٰتِ وَالْاَرْض والی آیت سے دفینہ اور گنج کا پتہ نہیں لگ سکتا اس آیت ِ شریفہ کی خاصیت کان یا معدن کی کھوج میں اثر رکھتی ہے   اور اسی طرح اس  آیت کو اگر مرغ کے باندھ کر مشتبہ مقام پر چھوڑیں گے تو کچھ فائدہ نہیں ہوگا  میں نے اعمال و نقوش کی مشہورو معروف  کتابوں میں دیکھا ہے کہ نقش جو معدن کے لئے مفید ہے اسے دفینہ کے لئے لکھا گیا ہے  اس کی سب سے بڑی وجہ نقل در نقل ہے ،جب عامل بذات ِخود دفینہ کی کھوج کے روحانی طریقوں پر عمل پیرا ہوگا اور بہت سارے تجربات سے گذرے گا جب ہی اسے اعمال و نقوش جو اس سلسلے میں وارد ہیں ان کی صحیح طور پر پرکھ  اور جانچ ہو سکے گی میری اس مختصر سی تمہید سے اہل علم حضرات دفینہ و معد ن کے اعمال و نقوش میں فرق کر پائیں گے  ۔۔۔۔جاری ہے

Thursday, September 5, 2019

ذکر ونمازو دعائے ماہ محرم الحرام از


ذکر ونمازو دعائے ماہ محرم الحرام

از-صوفی محمد عمران رضوی القادری

جب محرم کا چاند نظر آئےتو یہ دعاء پڑھنی چاہئیے
آقائے دو جہاں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ جب ماہ محرم کا چاند نظر آئے تو پڑھے مَرْحَبًا بِاالسَّنَّۃِ الْجَدِیْدَۃِ وَ الشَّھْرِا لْجَدِیْدِ وَالْیَوْمِ الْجَدِیْدِ وَالسَّاعَۃِ لْجَدِیْدَۃِ  مَرْ حَبًا بِا الْکَاتِبِ وَالشَّھَادَۃِ وَالشَّھِیْدِ اَکْتَبَا صَحِیْفَتِیْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَشْھَدُ اَنْ لَآ ا ِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہ‘ لَاشَرِیکَ لَہ‘ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدً عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘ وَاَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَحَقٌّ وَاَنَّ السَّا عَۃَ اٰتِیَۃٌلاَّ رَیْبَ فِیْھَاوَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْر
پہلی رات کے نوافل
پہلی رات کو چھ رکعتیں تین سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد آیتہ الکرسی ایک بار اور سورہ  اخلاص گیارہ بار پڑھے اور تین بار سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ سُبُّوحٌ قُدُوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃُ
 وَا لرُّوحْ
سال کے پہلے دن کی نفل
اول روزمحرم الحرام  آفتاب نکلنے کے  ۲۰ منٹ بعد دو رکعت پڑھے اور دونوں رکعتوں میں جو قرآن شریف سے یاد ہو تلاوت کرے اور سلام کے بعد سات بار کلمہ طیّب پڑھےپورا  سال عافیت سے گذرے
شبِ عاشورہ کی نفل
۹ محرم الحرام کا دن گذارنے کے بعد جو  عاشورہ کی رات آئے اس میں  سو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص تین بار اور جب نماز سے فارغ ہو تو ستّر بار سُبْحَانَ اللہ ِوَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بَااللّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ گناہ بخشے جائیں دعائیں قبول ہوں
 عاشورہ کے دن کا  روزہ
محرم کا مہینہ نہایت مبارک مہینہ ہے، خاص کر عاشورہ کا دن بہت ہی مبارک ہے کہ دسویں محرم جمعہ کے دن حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے زمین پر تشریف لائے اور اسی تاریخ اور اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے نجات پائی اور فرعون غرق ہوا، اسی تاریخ اور اسی دن میں سید الشہداامام حسین نے کربلا کے میدان میں شہادت پائی اور اسی جمعہ کا دن اور غالباًاسی دسویں محرم کو قیامت آئے گی۔غرضیکہ جمعہ کا دن اور دسویں محرم بہت مبارک دن ہے اسلام میں سب سے پہلے صرف عاشورہ کا روزہ فرض ہوا،پھر رمضان شریف کے روزوں سے اس روزے کی فرضیّت تو منسوخ ہوگئی مگر اس دن کا روزہ اب بھی سنت ہے
حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،حضور اکر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ''ماہِ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ تعالی  کے مہینے محرم کے روزے ہیں ]صحیح مسلم[
   حضرت سیِّدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یومِ عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا گیاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میں نہیں جانتا کہ اللہ کے پیارے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے باقی دنوں پر فضیلت کے طور پر یومِ عاشورہ کے علاوہ کسی دن کا اور باقی مہینوں پر فضیلت کے طور پر رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا روزہ رکھا ہو۔'']صحیح مسلم[
حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا، اس کے ایک اگلے اور ایک پچھلے سال کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اس کے ایک سال کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔'']مجمع الزوائد[
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بڑا ثواب ہے یعنی ایک سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ صَامَ یَوْ مَ عَا شُوْرآءَ فَکَا نَّمَا صَامَ الدَّھُرَ کُلَّہ
عاشورہ کے دن کی دعائیں اور نوافل
چاشت کے وقت غسل کر کے اور لباس پہن کر تھوڑا پانی ہاتھ میں لے کر سر پر ملتا جائے اور یہ تسبیح پڑ ھتا جائے حَسْبِیَ اللّٰہُ وَکَفٰی سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ دَھَا لَیْسَ وَرآءِ اللّٰہِ الْمُنْتَھٰی مَنِ اعْتَصَمَ بِجَبْلِ اللّٰہ نَجٰی وَتَخْلُقُ مَا تَخْلُقُ فِی ھٰذَالْیَوْمِ اس کے بعد دو  رکعت پڑھے پہلی میں فاتحہ کے بعد آیتہ الکرسی اور دوسری میں لوانزلنا آخر سورہ حثر تک بعد نماز کے درود شریف پڑھے پھر یہ دعا پڑھے یَا اَوَّلَ الْاَ وَّ لِیْنَ یَا اٰخَرِاَلْآ خِرِیْنَ لآ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَ مَا خَلَقْتَنِیْ اَوَّلِ ھٰذالْیَوْمِ وَ تَخْلُقُ فِیْ اٰخِرِ ھٰذَالْیَوْمِ اَعْطِنِیْ فِیْہِ خَیْرَمَا اَوْ لَیْتَ فِیْہِ اَوْلِیَآءِکَ وَ انْبِیآءِکَ وَاَ صئفِیَآئِکَ  مِنْ ثَوَابِ الْبَلَا یَا وَاَسْھِمْ مَا اَ عْطَیْتَھُمْ فِیہِ مِنَ الْکَرَ اَمَۃِ وَ بِحَقِّ  مُحَمَّدٍ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَعَلیٰ اٰلِہٖ وَسَلِّمْ  اور ایک روایت میں یہ ہے کہ پیوستہ چھ رکعت ایک سلام سے پڑھے ہر رکعت میں والشمس اور والضحیٰ اور اذازلزلت الارض اور سورہ  اخلاص اور معوذ تین پڑھے اور بعد فراغ کے سجدہ کرے اور سورہ کافرون سات دفعہ پڑھ کر اپنی حاجت چاہے اور یہ دُعا پڑھے قبول ہوگی
 اَللّٰھُمَّ اَجْعَلْنِیْ مِمَّنْ دَعَاکَ فَاجَبْتَہ‘ وَاٰمَنَ بِکَ فَھَدَیْتَہ‘ وَرَغِبَ اِلَیْکَ فَاعْطَیْتَہ‘ وَتَوَکَّلَ عَلَیْکَ فَکَفَّیْتَہ‘ وَاقْتَرَبَ مِنْکَ فَاَ دْ نَیْتَہُ اَللّٰھُمَّ امْدُ دْ بِعَیْشِیْ فِی الْخَیْرَاتِ مَدً اوَّ اجَعَلْ لِیْ فِیْ قُلُوْبِ الْمُوْ مِنِیْنَ وَدًا اَللّٰھُمَّ اَسْئَلُکَ الْایْمَانَ بِکَ وَاَسْئَلُکَ الْفَضْلَ مِنَ الرِّزُقِ وَ اَسْئَلُکَ الْعَا فِیَۃَ مِنَ الْبَلاَ یَا وَاَسْئَلُکَ حُسْنَ الْعَا فِیَۃِ فِی الدَّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ یَا ذَا لْجَلَا لِ وَ الْاِکْرَامِ
رب تعالی کی بخشش
اور جوکوئی عاشورہ کے دن ستّر بار حَسبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکْیِلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُپڑھے گا حق تعالیٰ شانہ اس کو بخش دے گا
سال بھر موت نا آئے
جو کوئی عاشورہ کے دن یہ دعا سات بار پڑھے گا انشاء اللہ تعالیٰ اس سال موت کے صدمے سے محفوظ رہے گا اور جس سان اس کی موت ہوگی اس کو پڑھنے کی توفیق نہ ہوگی وہ دعا یہ ہے
سُبْحَانَ اللّٰہِ مَلاَءَ الْمِیْزَ انِ وَمُنْتَھَی الْعِلْمِ وَمُبْلَغَ الرِّ ضَا وَزِنَتہَ الْعَرْشِ  لَا مَلْجَاءَ مِنَ اللّٰہِ  اِلاَّ اِلَیْہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَ دَالشَّفْعِ وَا لْوَتَرِ وَ کَلَمَا تِہ التَّامَّاتِ کُلِّھَا اَسْئَلُہُ السَّلاَمَۃَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْ حَمَ الرّٰاحِمِیْنَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوْۃَاِلاَّ بِاللّٰہِ لْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ وَھُوَحَسْبِیْ وَ نِعْمَ الْوَکْیِلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَا بِہٖ اَجْمَعِیْنَ
 عاشورہ کے دن  اتنی باتوں کا لحاظ رکھے
(۱) اس دن کو بزرگ جاننا (۲) روزہ رکھنا (۳) فحش باتوں سے زبان کو روکنا(۴) اپنی اہل وعیال میں نفقہ کی وسعت کرنا یعنی کھانا پکوانا (۵) صلہ رحمی کرنا (۶) صدقہ دینا(۷)مسلمانوں کی زیارت کرنا(۸) سلام کرنا(۹) دشمن سے صلح کرنا (۰۱) جس سے قطع تعلق ہو اس سے میل ملاپ کرنا  (۱۱)بال منڈوانا(۲۱)مہمان کے ساتھ افطار کرنا (۳۱) بُھوکے کو کھانا کھلانا (۴۱)پیاسے کو پانی دینا(۵۱) جنازہ کے ساتھ جانا(۶۱) مریض کی عیادت کو جانا(۷۱) حَسْبِیَ اللّٰہ وَ نِعْمَ الْوَ کِیْل وَ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر ستر بار پڑھنا (۸۱) یتیم کے سَر ہاتھ پھیرنایعنی اس کو کچھ دینا (۹۱) بلا قصد زیبائش کپڑے بدلنا(۰۲) غسل کرنا(۱۲) اپنے دونوں ہاتھوں سے سر پر پانی ڈالنا(۲۲) علماء کی زیارت کرنا (۳۲) ماں باپ کی خدمت کرنا(۴۲) خدا تعالٰی کے خوف سے گریہ وزاری کرنا اور آنسو بہانا(۵۲) مسلمانوں سے اخلاص کرنا(۶۲) جناب الٰہی میں دعا کرنا
تفسیر روح البیان میں ہے محرم کی نویں اور دسویں کو رو زہ رکھے تو بہت ثواب پائے گا بال بچو ں کے لئے دسویں محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے توإن شاءاللہ عزّوجلّ! سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی ۔ بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا )پکا کر حضرت شہید کر بلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فا تحہ کر ے بہت مجر ب ہے اسی تا ریخ  کو غسل کرے تو تمام سال إن شاءاللہ عزّوجلّ! بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ ا س دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے]تفسیر روح البیان[
  سال بھر آنکھ نہ دکھیں 
اسی دسویں محرم کو جو سر مہ لگائے تو  سال بھر تک اس کی آنکھیں نہ دکھیں
سال بھر گھر میں خیر و برکت رہے
حدیث شریف میں آیا کہ جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے گھر کھانے میں وسعت کرے یعنی خوب پکائے اور کھلائے تو سال بھر اس کے گھر میں برکت رہے گی
سال بھر مال میں برکت کا نسخہ
عاشورہ کے دن اپنے والدین ،پیر و مرشد ،استاذ کی خدمت میں کچھ نقدی پیش کریں اور اپنے اہل و عیال او رضرورت مند رشتہ داروں کو بھی تحائف یا نقدی پیش کریں   تو انشاء اللہ پورا سال مال میں خوب برکت ہو