Saturday, April 4, 2026

Nad e Ali Shareef Ke Mashhoor Khwas | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad

📿 نادِ علی شریف کے مشہور خواص

🛡️ 1. مشکلات کا حل

 نادِ علی پڑھنے سے بڑی سے بڑی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور بند راستے کھلنے لگتے ہیں۔


⚔️ 2. دشمن سے حفاظت

روحانی روایات کے مطابق:

  • دشمن کے شر سے بچاؤ

  • نظرِ بد اور حسد سے حفاظت

  • خوف اور ڈر کا خاتمہ


😌 3. دل کا سکون

اس کے ورد سے:

  • بے چینی کم ہوتی ہے

  • ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے

  • دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے


💰 4. رزق اور برکت

 اسے رزق میں کشادگی اور کاروبار میں برکت کے لیے پڑھتے ہیں۔


🤲 5. فوری مدد کے لیے

مشہور ہے کہ:

  • مشکل وقت میں فوری پڑھنے سے اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے

  • خاص طور پر اچانک پریشانی میں پڑھا جاتا ہے


🌙 6. روحانی قوت میں اضافہ

اس کے مستقل ورد سے:

  • روحانی طاقت بڑھتی ہے

  • اعتماد اور یقین میں اضافہ ہوتا ہے


📿 پڑھنے کا طریقہ

🌹 عام وظیفہ

  • اول و آخر درود شریف 11 مرتبہ

  • درمیان میں نادِ علی 11 یا 21 مرتبہ

  • پھر دعا کریں


⚡ فوری حاجت کے لیے

  • 41 مرتبہ ایک ہی نشست میں پڑھیں

  • مکمل یقین کے ساتھ


🛡️ حفاظت کے لیے

  • روزانہ 7 مرتبہ پڑھیں

  • اپنے اوپر دم کریں


⚠️ ناد علی شریف کو بطور وضیفہ ہر انسان پڑھ سکتا ہے لیکن اس کاعامل بننے کے لئے اجازت اور نگرانی شرط ہے۔

📖 عملیات کورس

ہر ماہ ہمارے یہاں ناد علی شریف و دیگر مستند اعمال کی زکاتیں ادا کرائی جاتی ہیں حضرات و خواتین ناد علی کا عامل بن کر روحانی علاج معالجہ کر سکتے ہیں۔

 

حضور اقدس ﷺ کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما از سیرت مصطفےٰ ﷺ

حضور اقدس ﷺ کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ ہمارے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد ہیں ۔یہ عبد المطلب کے تمام بیٹوں میں سب سے زیادہ باپ کے لاڈلے اور پیارے تھے۔ چونکہ ان کی پیشانی میں نور محمدی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر تھا اس لئے حسن و خوبی کے پیکر، اور جمالِ صورت و کمال سیرت کے آئینہ دار، اور عفت و پارسائی میں یکتائے روزگار تھے۔ قبیلۂ قریش کی تمام حسین عورتیں ان کے حسن و جمال پر فریفتہ اور ان سے شادی کی خواست گار تھیں۔ مگر عبدالمطلب ان کے لئے ایک ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو حسن و جمال کے ساتھ ساتھ حسب و نسب کی شرافت اور عفت و پارسائی میں بھی ممتاز ہو۔ عجیب اتفاق کہ ایک دن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شکار کے لئے جنگل میں تشریف لے گئے تھے ملک شام کے یہودی چند علامتوں سے پہچان گئے تھے کہ نبی آخرالزماں کے والد ماجد یہی ہیں۔ چنانچہ ان یہودیوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارہا قتل کر ڈالنے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ بھی یہودیوں کی ایک بہت بڑی جماعت مسلح ہو کر اس نیت سے جنگل میں گئی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تنہائی میں دھوکہ سے قتل کر دیا جائے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مرتبہ بھی اپنے فضل و کرم سے بچا لیا۔ عالم غیب سے چند ایسے سوار ناگہاں نمودار ہوئے جو اس دنیا کے لوگوں سے کوئی مشابہت ہی نہیں رکھتے تھے،ان سواروں نے آ کر یہودیوں کو مار بھگایا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحفاظت ان کے مکان تک پہنچا دیا۔''وہب بن مناف'' بھی اس دن جنگل میں تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا، اس لئے ان کوحضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے انتہا محبت و عقیدت پیدا ہو گئی، اور گھر آ کر یہ عزم کرلیا کہ میں اپنی نورِ نظر حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے کروں گا۔ چنانچہ اپنی اس دلی تمنا کو اپنے چند دوستوں کے ذریعہ انہوں نے عبدالمطلب تک پہنچا دیا۔خدا کی شان کہ عبدالمطلب اپنے نورِ نظرحضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے جیسی دلہن کی تلاش میں تھے، وہ ساری خوبیاں حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابنت وہب میں موجود تھیں۔ عبدالمطلب نے اس رشتہ کو خوشی خوشی منظور کر لیا۔چنانچہ چوبیس سال کی عمر میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے نکاح ہو گیااور نور محمدی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منتقل ہو کر حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے شکم اطہر میں جلوہ گر ہو گیا اور جب حمل شریف کو دو مہینے پورے ہو گئے تو عبدالمطلب نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھجوریں لینے کے لئے مدینہ بھیجا،یا تجارت کے لئے ملک شام روانہ کیا، وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے مدینہ میں اپنے والد کے ننہال ''بنو عدی بن نجار'' میں ایک ماہ بیمار رہ کر پچیس برس کی عمر میں وفات پا گئے اور وہیں ''دارِ نابغہ'' میں مدفون ہوئے۔

(زرقانی علی المواہب ج 1 ص101 و مدارج جلد2 ص14)

قافلہ والوں نے جب مکہ واپس لوٹ کر عبدالمطلب کو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری کا حال سنایا تو انہوں نے خبر گیری کے لئے اپنے سب سے بڑے لڑکے ''حارث'' کو مدینہ بھیجا۔ان کے مدینہ پہنچنے سے قبل ہی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راہی ملک بقا ہو چکے تھے۔ حارث نے مکہ واپس آ کر جب وفات کی خبر سنائی تو سارا گھر ماتم کدہ بن گیااور بنو ہاشم کے ہر گھر میں ماتم برپا ہو گیا ۔خود حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے مرحوم شوہر کا ایسا پردرد مرثیہ کہا ہے کہ جس کو سن کر آج بھی دل دردسے بھر جاتا ہے ۔روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر فرشتوں نے غمگین ہو کر بڑی حسرت کے ساتھ یہ کہا کہ الٰہی !عزوجل تیرا نبی یتیم ہو گیا ۔حضرت حق نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں اس کا حامی و حافظ ہوں ۔

(مدارج النبوۃ ج2 ص14)

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ترکہ ایک لونڈی ''اُم ایمن'' جس کا نام ''برکہ'' تھاکچھ اونٹ کچھ بکریاں تھیں،یہ سب ترکہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ملا۔ ''اُمِ ایمن'' بچپن میں حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کرتی تھیں کھلاتیں، کپڑا پہناتیں، پرورش کی پوری ضروریات مہیا کرتیں، اس لئے حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عمر''اُم ایمن'' کی دل جوئی فرماتے رہے اپنے محبوب و متبنٰی غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا،اور ان کے شکم سے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔ (عامہ کتب سیر)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا ایمان

حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ وہ دونوں مؤمن ہیں یا نہیں؟بعض علماء ان دونوں کو مؤمن نہیں مانتے اور بعض علماء نے اس مسئلہ میں توقف کیا اور فرمایا کہ ان دونوں کو مؤمن یا کافر کہنے سے زبان کو روکنا چاہیے اور اس کا علم خدا عزوجل کے سپرد کر دینا چاہیے،مگر اہل سنت کے علماء محققین مثلاً امام جلال الدین سیوطی و علامہ ابن حجرہیتمی و امام قرطبی و حافظ الشام ابن ناصر الدین و حافظ شمس الدین د مشقی و قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی و شیخ ماں باپ دونوں یقینا بلا شبہ مؤمن ہیں۔ چنانچہ اس بار ے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشاد ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو مؤمن نہ ماننا یہ علماء متقدمین کا مسلک ہے لیکن علماء متأخرین نے تحقیق کے ساتھ اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بلکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام آباء و اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے سب ''مؤمن'' ہیں اور ان حضرات کے ایمان کو ثابت کرنے میں علماء متأخرین کے تین طریقے ہیں: اول یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہمااور آباء و اجداد سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھے، لہٰذا ''مؤمن''ہوئے۔ دوم یہ کہ یہ تمام حضرات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلان نبوت سے پہلے ہی ایسے زمانے میں وفات پا گئے جو زمانہ ''فترت'' کہلاتا ہے اوران لوگوں تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعوتِ ایمان پہنچی ہی نہیں لہٰذا ہر گز ہر گز ان حضرات کو کافر نہیں کہا جا سکتابلکہ ان لوگوں کو مؤمن ہی کہا جائے گا۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ فرما کر ان کی قبروں سے اٹھایا اور ان لوگوں نے کلمہ پڑھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق کی اور حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو زندہ کرنے کی حدیث اگرچہ بذات خود ضعیف ہے مگر اس کی سندیں اس قدر کثیر ہیں کہ یہ حدیث ''صحیح'' اور ''حسن'' کے درجے کو پہنچ گئی ہے۔اور یہ وہ علم ہے جو علماء متقدمین پر پوشیدہ رہ گیا جس کو حق تعالیٰ نے علماء متأخرین پر منکشف فرمایا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے اپنی رحمت کے ساتھ خاصفرما لیتا ہے اور شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں چند رسائل تصنیف کیے ہیں اور اس مسئلہ کو دلیلوں سے ثابت کیا ہے اور مخالفین کے شبہات کا جواب دیا ہے۔

(اشعۃ اللمعات ج اول ص 718)

اسی طرح خاتمۃ المفسرین حضرت شیخ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ امام قرطبی نے اپنی کتاب ''تذکرہ'' میں تحریر فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب ''حجۃ الوداع'' میں ہم لوگوں کو ساتھ لے کر چلے اور'' حجون '' کی گھاٹی پر گزرے تو رنج و غم میں ڈوبے ہوئے رونے لگے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگی۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنی اونٹنی سے اتر پڑے اور کچھ دیر کے بعد میرے پاس واپس تشریف لائے تو خوش خوش مسکراتے ہوئے تشریف لائے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ !عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، کیا بات ہے؟ کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم رنج و غم میں ڈوبے ہوئے اونٹنی سے اترے اور واپس لوٹے تو شاداں و فرحاں مسکراتے ہوئے تشریف فرما ہوئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اپنی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کی زیارت کے لئے گیا تھا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ ان کو زندہ فرما دے تو خداوند تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا اور وہ ایمان لائیں۔

اور ''الاشباہ والنظائر'' میں ہے کہ ہر وہ شخص جو کفر کی حالت میں مر گیا ہو اس پر لعنت کرنا جائز ہے بجز رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے،کیونکہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو زندہ فرمایااور یہ دونوں ایمان لائے۔ یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ماں باپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قبروں کے پاس روئے اور ایک خشک درخت زمین میں بو دیا،اور فرمایا کہ اگر یہ درخت ہرا ہو گیا تو یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ ان دونوں کا ایمان لانا ممکن ہے ۔ چنانچہ وہ درخت ہرا ہو گیا پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے وہ دونوں اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اسلام لائے اور پھر اپنی اپنی قبروں میں تشریف لے گئے۔اور ان دونوں کا زندہ ہونا، اور ایمان لانا ،نہ عقلاً محال ہے نہ شرعاً کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتایا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دست مبارک سے بھی چند مردے زندہ ہوئے۔ جب یہ سب باتیں ثابت ہیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے زندہ ہو کر ایمان لانے میں بھلا کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اور جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ ''میں نے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی تو مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔'' یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زندہ ہو کر ایمان لانے سے بہت پہلے کی ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا زندہ ہو کر ایمان لانا یہ ''حجۃ الوداع'' کے موقع پر ہوا ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مراتب و درجات ہمیشہ بڑھتے ہی رہے تو ہو سکتا ہے کہ پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خداوند تعالیٰ نے یہ شرف نہیں عطا فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہمامسلمان ہوں مگر بعد میں اس فضل و شرف سے بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سرفراز فرمادیا کہ آپ کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو صاحب ایمان بنا دیا اور قاضی امام ابوبکر ابن العربی مالکی سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آباء و اجداد جہنم میں ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ یہ شخص ملعون ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں ملعون کر دے گا۔(احزاب)

حافظ شمس الدین د مشقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس مسئلہ کو اپنے نعتیہ اشعار میں

اس طرح بیان فرمایا ہے : ؎

حَبَا اللہُ النَّبِیَّ مَزِیْدَ فَضْلٍ عَلٰی فَضْلٍ وَّکَانَ بِہٖ رَءُ وْفًا

اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کوفضل بالائے فضل سے بھی بڑھ کر فضیلت عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ان پر بہت مہربان ہے۔

فَاَحْیَا اُمَّہٗ وَکَذَا اَبَاہُ لِاِیْمَان بِہٖ فَضْلاً لَّطِیْفًا

کیونکہ خدا وند تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ کو حضور پر ایمان لانے کے لئے اپنے فضل لطیف سے زندہ فرما دیا۔فَسَلِّمْ فَالْقَدِیْمُ بِہٖ قَدِیْرٌوَاِنْ کَانَ الْحَدِیْثُ بِہٖ ضَعِیْفًا تو تم اس بات کو مان لو کیونکہ خداوند قدیم اس بات پر قادر ہے اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ صاحب الاکلیل حضرت علامہ شیخ عبدالحق مہاجر مدنی قدس سرہ الغنی نے تحریر فرمایا کہ علامہ ابن حجر ہیتمی نے مشکوٰۃ کی شرح میں فرمایا ہے کہ ''حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا،یہاں تک کہ وہ دونوں ایمان لائے اور پھر وفات پا گئے۔ '' یہ حدیث صحیح ہے اور جن محدثین نے اس حدیث کو صحیح بتایا ہے ان میں سے امام قرطبی اور شام کے حافظ الحدیث ابن ناصر الدین بھی ہیں اور اس میں طعن کرنا بے محل اور بے جا ہے، کیونکہ کرامات اور خصوصیات کی شان ہی یہ ہے کہ وہ قواعد اور عادات کے خلاف ہوا کرتی ہیں۔چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا موت کے بعد اٹھ کر ایمان لانا،یہ ایمان ان کے لئے نافع ہے حالانکہ دوسروں کے لئے یہ ایمان مفید نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو نسبت رسول کی وجہ سے جو کمال حاصل ہے وہ دوسروں کے لئے نہیں ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی حدیث لیت شعری ما فعل ابوای (کاش! مجھے خبر ہوتی کہ میرے والدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا) کے بارے میں امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ''درمنثور'' میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث مرسل اور ضعیف الاسناد ہے۔بہرکیف مندرجہ بالا اقتباسات جو معتبر کتابوں سے لئے گئے ہیں ان کو پڑھ لینے کے بعد حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ عقیدت اور ایمانی محبت کا یہی تقاضا ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہمااور تمام آباء و اجداد بلکہ تمام رشتہ داروں کے ساتھ ادب و احترام کا التزام رکھا جائے۔ بجزان رشتہ داروں کے جن کا کافر اور جہنمی ہونا قرآن و حدیث سے یقینی طور پر ثابت ہے جیسے ''ابو لہب'' اور اس کی بیوی ''حمالۃ الحطب'' باقی تمام قرابت والوں کا ادب ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے کیونکہ جن لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نسبت قرابت حاصل ہے ان کی بے ادبی و گستاخی یقینا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایذا رسانی کا باعث ہو گا اور آپ قرآن کا فرمان پڑھ چکے کہ جو لوگ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں،وہ دنیا و آخرت میں ملعون ہیں۔ اس مسئلہ میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب قبلہ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک محققانہ رسالہ بھی ہے جس کا نام ''شمول الاسلام لاباء الکرام''ہے۔ جس میں آپ نے نہایت ہی مفصل و مدلل طور پر یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے آباء و اجداد موحد و مسلم ہیں۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)

Thursday, April 2, 2026

Ashaab e Feel Ka Waqeyah اصحاب فیل کا واقعہ | Seerat e Mustafa ﷺ


اصحابِ فیل کا واقعہ

    حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش سے صرف پچپن دن پہلے یمن کا بادشاہ ''ابرہہ'' ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبہ ڈھانے کے لئے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ''ابرہہ'' نے یمن کے دارالسلطنت ''صنعاء'' میں ایک بہت ہی شاندار اور عالی شان ''گرجاگھر'' بنایا اور یہ کوشش کرنے لگا کہ عرب کے لوگ بجائے خانہ کعبہ کے یمن آ کر اس گرجا گھر کا حج کیا کریں۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو قبیلہ ''کنانہ'' کا ایک شخص غیظ و غضب میں جل بھن کر یمن گیا،اور وہاں کے گرجا گھر میں پاخانہ پھر کر اس کو نجاست سے لت پت کر دیا۔ جب ابرہہ نے یہ واقعہ سنا تو وہ طیش میں آپے سے باہر ہو گیا اور خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لئے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر حملہ کر دیا۔ اور اس کی فوج کے اگلے دستہ نے مکہ والوں کے تمام اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کو چھین لیا اس میں دو سو یا چار سو اونٹ عبدالمطلب کے بھی تھے۔ (زرقانی ج1 ص85)
عبدالمطلب کو اس واقعہ سے بڑا رنج پہنچا۔ چنانچہ آپ اس معاملہ میں گفتگو کرنے کے لئے اس کے لشکر میں تشریف لے گئے۔ جب ابرہہ کو معلوم ہوا کہ قریش کا سردار اس سے ملاقات کرنے کے لئے آیا ہے تو اس نے آپ کو اپنے خیمہ میں بلا لیا اور جب عبدالمطلب کو دیکھا کہ ایک بلند قامت ،رعب دار اور نہایت ہی حسین و جمیل آدمی ہیں جن کی پیشانی پر نورِ نبوت کا جاہ و جلال چمک رہا ہے تو صورت دیکھتے ہی ابرہہ مرعوب ہو گیا۔ اور بے اختیار تخت شاہی سے اُتر کر آپ کی تعظیم و تکریم کے لئے کھڑا ہو گیا اور اپنے برابر بٹھا کر دریافت کیا کہ کہیے، سردار قریش!یہاں آپ کی تشریف آوری کا کیا مقصد ہے؟ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ ہمارے اونٹ اور بکریاں وغیرہ جو آپ کے لشکر کے سپاہی ہانک لائے ہیں آپ ان سب مویشیوں کو ہمارے سپرد کر دیجیے۔ یہ سن کر ابرہہ نے کہا کہ اے سردارِ قریش! میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ بہت ہی حوصلہ مند اور شاندار آدمی ہیں ۔مگر آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا سوال کرکے میری نظروں میں اپنا وقار کم کر دیا۔ اونٹ اور بکری کی حقیقت ہی کیا ہے؟ میں تو آپ کے کعبہ کو توڑ پھوڑ کر برباد کرنے کے لئے آیا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی۔ عبدالمطلب نے کہا کہ مجھے تو اپنے اونٹوں سے مطلب ہے کعبہ میراگھر نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا گھر ہے۔ وہ خود اپنے گھر کو بچا لے گا۔ مجھے کعبہ کی ذرا بھی فکر نہیں ہے۔ یہ سن کر ابرہہ اپنے فرعونی لہجہ میں کہنے لگا کہ اے سردار مکہ!سن لیجیے! میں کعبہ کو ڈھا کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا،اور روئے زمین سے اس کا نام و نشان مٹا دوں گا کیونکہ 
مکہ والوں نے میرے گرجا گھر کی بڑی بے حرمتی کی ہے اس لئے میں اس کا انتقام لینے کے لئے کعبہ کو مسمار کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ عبدالمطلب نے فرمایا کہ پھر آپ جانیں اورخدا جانے۔ میں آپ سے سفارش کرنے والا کون؟ اس گفتگو کے بعد ابرہہ نے تمام جانوروں کو واپس کر دینے کا حکم دے دیا۔ اور عبدالمطلب تمام اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر چلے آئے اور مکہ والوں سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اپنے مال مویشیوں کو لے کر مکہ سے باہر نکل جاؤ ۔ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اور دروں میں چھپ کر پناہ لو۔ مکہ والوں سے یہ کہہ کر پھر خود اپنے خاندان کے چند آدمیوں کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور دروازہ کا حلقہ پکڑ کر انتہائی بے قراری اور گریہ و زاری کے ساتھ دربار باری میں اس طرح دعا مانگنے لگے کہ ؎

لَاھُمَّ اِنَّ الْمَرْءَ یَمْنعُ رَحْلَہٗ فَامْنَعْ رِحَالَکَ 
وَانْصُرْ عَلٰی اٰلِ الصَّلِیْبِ وَعَابِدِیْہِ اَ لْیَوْمَ اٰلَکَ

اے اللہ !بے شک ہر شخص اپنے اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما،اور صلیب والوں اور صلیب کے بچاریوں (عیسائیوں) کے مقابلہ میں اپنے اطاعت شعاروں کی مدد فرما۔ عبدالمطلب نے یہ دعا مانگی اور اپنے خاندان والوں کو ساتھ لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور خدا کی قدرت کا جلوہ دیکھنے لگے۔ ابرہہ جب صبح کو کعبہ ڈھانے کے لئے اپنے لشکر جرار اور ہاتھیوں کی قطار کے ساتھ آگے بڑھا اور مقام ''مغمس'' میں پہنچا تو خود اس کا ہاتھی جس کا نام ''محمود'' تھا 
ایک دم بیٹھ گیا۔ ہر چند مارا، اور بار بار للکارا مگر ہاتھی نہیں اٹھا۔ اسی حال میں قہرالٰہی ابابیلوں کی شکل میں نمودار ہوا اور ننھے ننھے پرندے جھنڈ کے جھنڈ جن کی چونچ اور پنجوں میں تین تین کنکریاں تھیں سمندر کی جانب سے حرم کعبہ کی طرف آنے لگے۔ ابابیلوں کے ان دل بادل لشکروں نے ابرہہ کی فوجوں پر اس زورشور سے سنگ باری شروع کر دی کہ آن کی آن میں ابرہہ کے لشکر، اور اس کے ہاتھیوں کے پرخچے اڑ گئے۔ ابابیلوں کی سنگ باری خداوند قہار و جبار کے قہر و غضب کی ایسی مار تھی کہ جب کوئی کنکری کسی فیل سوار کے سرپر پڑتی تھی تو وہ اس آدمی کے بدن کو چھیدتی ہوئی ہاتھی کے بدن سے پار ہو جاتی تھی۔ ابرہہ کی فوج کا ایک آدمی بھی زندہ نہیں بچا اور سب کے سب ابرہہ اور اس کے ہاتھیوں سمیت اس طرح ہلاک و برباد ہو گئے کہ ان کے جسموں کی بوٹیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئیں ۔چنانچہ قرآن مجید کی ''سورهٔ فیل'' میں خداوند قدوس نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾اَلَمْ یَجْعَلْ کَیۡدَہُمْ فِیۡ تَضْلِیۡلٍ ۙ﴿۲﴾وَّ اَرْسَلَ عَلَیۡہِمْ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿۳﴾تَرْمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿۴﴾۪ۙفَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿۵﴾ 

یعنی(اے محبوب)کیا آپنے نہ دیکھا کہ آپکے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کر ڈالا کیا انکے داؤں کو تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں تاکہ انہیں کنکر کے پتھروں سے ماریں تو انہیں چبائے ہوئے بھُس جیسا بنا ڈالا
جب ابرہہ اور اس کے لشکروں کا یہ انجام ہوا تو عبدالمطلب پہاڑ سے نیچے 
اترے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ ان کی اس کرامت کا دور دور تک چرچا ہو گیااور تمام اہل عرب ان کو ایک خدا رسیدہ بزرگ کی حیثیت سے قابل احترام سمجھنے لگے۔


Tuesday, March 31, 2026

Sharaf e Aftab 2022 شرف آفتاب (Sun Glory)


Sharaf e Aftab Ka Waqt Aur Alahazrat Ka Khat 🇮🇳 شرفِ آفتاب کا وقت اور اعلی حضرت کا خط

Link:

https://youtu.be/Sz5OIE339eU

 

Lauh e Sharaf e Shams 🇮🇳 لوح شرف شمس (Sun Glory Talisman)

Link:

https://youtu.be/048UoR9ex9I

 

Lauh e Sharaf e Aftab 🇮🇳 لوح شرف شمس (Powerful Sun Glory Talisman)

Link:

https://youtu.be/-ZbKh73yDA0

 

Naqsh Taskheer Khalaiq 🇮🇳 نقش تسخیر خلائق در شرف آفتاب

Link:

https://youtu.be/GU6jYFxvsnc

 

Sun Glory Magical Ring & Sun Glory Talisman (Hindi-Urdu)

Link:

https://youtu.be/rU6j4OHDurQ


Timing Sharafe Aftab 2026 | Ya Allahul Mahmoodu ka Naqsh | Sufi Imran Razvee Sb
Link:

 Sharaf e Shams Ka Powerfull Amal | وظائف و اعمال شرف آفتاب | Sufi Imran Razvee Sb

حضور اقدس ﷺ کا نسب نامہ از سیرت مصطفےٰ ﷺ

     حضور اقدس ﷺ کے خاندانی حالات

نسب نامہ

    حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے:

(۱)حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۲) بن عبداللہ (۳) بن عبدالمطلب (۴) بن ہاشم (۵)بن عبد مناف(۶)بن قصی(۷)بن کلاب(۸)بن مرہ(۹)بن کعب (۱۰)بن لوی(۱۱)بن غالب(۱۲)بن فہر(۱۳)بن مالک(۱۴) بن نضر (۱۵) بن کنانہ(۱۶) بن خزیمہ(۱۷) بن مدرکہ(۱۸) بن الیاس (۱۹) بن مضر (۲۰) بن نزار(۲۱) بن معد(۲۲)بن عدنان ۔

  (بخاری ج 1، باب مبعث النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)

اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شجره نسب یہ ہے:

(1) حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم(2) بن آمنہ(3)بنت وہب(4) بن عبد مناف(5) بن زہرہ(6) بن کلاب(7) بن مرہ۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ ''کلاب بن مرہ '' پر مل جاتا ہے اور آگے چل کردونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔ '' عدنان'' تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ''عدنان'' ہی تک ذکر فرماتے تھے۔

 (کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری ج 1، ص543)

مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ''عدنان'' حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند ارجمند ہیں۔

خاندانی شرافت

حضورِاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب وہ کفر کی حالت میں تھے بادشاہ روم ہر قل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ ''ھو فیناذونسب'' یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''عالی خاندان'' ہیں۔ (بخاری ج1 ص4)

حالانکہ اس وقت وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرا دیں۔

مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ''کنانہ'' کو برگزیدہ بنایا اور ''کنانہ'' میں سے ''قریش'' کو چنا ،اور ''قریش'' میں سے ''بنی ہاشم'' کو منتخب فرمایا،اور ''بنی ہاشم'' میں سے مجھ کو چن لیا۔    (مشکوٰۃ فضائل سید المرسلین)

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ؎

لَہُ النَّسْبُ الْعَالِیْ فَلَیْسَ کَمِثْلِہٖ

حَسِیْبٌ نَسِیْبٌ مُنْعَمٌ مُتَکَرَّم،

    یعنی حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا اور نعمت و بزرگی والا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مثل نہیں ہے۔

قریش

حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاندانِ نبوت میں سبھی حضرات اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں۔ مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل و کمال پر چاند تارے بن کر چمکے۔ ان با کمالوں میں سے ''فہر بن مالک'' بھی ہیں ان کا لقب ''قریش'' ہے اور ان کی اولاد قریشی ''یا قریش'' کہلاتی ہے۔

    ''فہر بن مالک '' قریش اس لئے کہلاتے ہیں کہ ''قریش'' ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے، اور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا چونکہ ''فہر بن مالک'' اپنی شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر تمام قبائلِ عرب پر غالب تھے اس لئے تمام اہل عرب ان کو ''قریش'' کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں ''شمرخ بن عمرو حمیری'' کا شعر بہت مشہور ہے کہ ؎

وَ قُرَیْشٌ ھِیَ الَّتِیْ تَسْکُنُ الْبَحْرَ بِھَا سُمِّیَتْ قُرَیْشٌ قُرَیْشًا

    یعنی ''قریش'' ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام ''قریش '' رکھ دیا گیا۔ (زرقانی علی المواہب ج 1 ص76)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ دونوں کا سلسلۂ نسب ''فہر بن مالک'' سے ملتا ہے اس لئے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے ''قریشی'' ہیں۔

ہاشم

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردادا ''ہاشم'' بڑی شان و شوکت کے مالک تھے۔ ان کا اصلی نام ''عمرو'' تھا انتہائی بہادر ،بے حد سخی، اور اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے۔ ایک سال عرب میں بہت سخت قحط پڑ گیااور لوگ دانے دانے کو محتاج ہو گئے تو یہ ملکِ شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا کرکے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بنا کر تمام حاجیوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلایا۔اس دن سے لوگ ان کو''ہاشم''(روٹیوں کاچورا کرنے والا)کہنے لگے۔   ( مدارج النبوۃ ج2 ص8)

چونکہ یہ ''عبدمناف'' کے سب لڑکوں میں بڑے اور با صلاحیت تھے اس لئے عبد مناف کے بعد کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے بہت حسین و خوبصورت اور وجیہ تھے جب سن شعور کو پہنچے تو ان کی شادی مدینہ میں قبیلہ خزرج کے ایک سردار عمرو کی صاحبزادی سے ہوئی جن کا نام ''سلمیٰ'' تھا۔اور ان کے صاحبزادے ''عبد المطلب'' مدینہ ہی میں پیدا ہوئے چونکہ ہاشم پچیس سال کی عمر پاکر ملک شام کے راستہ میں بمقام ''غزہ'' انتقال کر گئے۔ اس لئے عبدالمطلب مدینہ ہی میں اپنے نانا کے گھر پلے بڑھے،اور جب سات یا آٹھ سال کے ہو گئے تو مکہ آکر اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہنے لگے۔

عبدالمطلب

    حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا ''عبدالمطلب''کااصلی نام ''شیبہ'' ہے۔ یہ بڑے ہی نیک نفس اور عابد و زاہد تھے۔ ''غار حرا'' میں کھانا پانی ساتھ لے کر جاتے اور کئی کئی دنوں تک لگاتار خداعزوجل کی عبادت میں مصروف رہتے۔ رمضان شریف کے مہینے میں اکثر غارِ حرا میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور خداعزوجل کے دھیان میں گوشہ نشین رہا کرتے تھے۔ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نورِ نبوت ان کی پیشانی میں چمکتا تھااور ان کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ اہل عرب خصوصاً قریش کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ مکہ والوں پر جب کوئی مصیبت آتی یا قحط پڑ جاتا تو لوگ عبدالمطلب کو ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ جاتے اور بارگاہِ خداوندی میں ان کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے تھے تو دعا مقبول ہو جاتی تھی۔ یہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے لوگوں کو بڑی سختی کے ساتھ روکتے تھے اور چور کا ہاتھ کاٹ ڈالتے تھے۔ اپنے دسترخوان سے پرندوں کو بھی کھلایا کرتے تھے اس لئے ان کا لقب ''مطعم الطیر''(پرندوں کو کھلانے والا) ہے۔ شراب اور زنا کو حرام جانتے تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے ''موحد'' تھے۔ ''زمزم شریف'' کا کنواں جو بالکل پٹ گیا تھا آپ ہی نے اس کو نئے سرے سے کھدوا کر درست کیا، اور لوگوں کو آب زمزم سے سیراب کیا۔ آپ بھی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے۔اصحاب فیل کا واقعہ آپ ہی کے وقت میں پیش آیا ۔ایک سو بیس برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔(زرقانی علی المواہب ج1 ص72)





Friday, March 27, 2026

Amaliyat me ijazat ke barakaat | عملیات میں اجازات کے برکات | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad


 

Sharaf e Aftab Ka Waqt 2026 | Sun glory timing | شرف آفتاب کا وقت

 


اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے:

شرفِ آفتاب 2026 کا وقت

ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے:

 * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔

 * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔

 * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔

اہم نقوش اور اعمال

 * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔

 * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔

 * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔

نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب

 * یہ نقوش کاغذ پر زعفران سے، یا تانبے کے پترے اور انگوٹھیوں پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔

 * یا اللہ المحمود کے نقش کو "مربع" (16 خانے) یا "مسدس" (36 خانے) میں بھرا جا سکتا ہے۔ مسدس (36 خانے) کا نقش شمس (سورج) سے منسوب ہونے کی وجہ سے زیادہ موزوں ہے۔

 * تجربے کی روشنی میں بتایا گیا کہ اگر نقش کو گول مدور (دائرے کی) شکل میں بھرا جائے تو اس کی تاثیر مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم سادہ مربع نقش بھی بھرا جا سکتا ہے۔

 * نقش کے پیچھے شرفِ آفتاب کا مخصوص طلسم لکھنا بھی ضروری ہے۔

دیگر خدمات

 * ادارہ روحانی امداد کی جانب سے شرفِ آفتاب کی انگوٹھیاں اور خاص نقوش بھی تیار کیے جاتے ہیں، جن کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے اور ضرورت مند انہیں ادارے سے حاصل کر سکتے ہیں۔

صوفی صاحب نے مزید تفصیلات اور نقش بھرنے کے عملی طریقوں کے لیے اپنے چینل پر موجود پرانی ویڈیوز اور "شرفاتِ کواکب" کی پلے لسٹ دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

Friday, March 20, 2026

Eid mubarak to all.

Eid mubarak to all from Shaik Al Ruhaniyaat Alhaj Sufi Muhammad Imran Razvee Al Quadri.
May this Eid bring joy to your heart, smile to your face, and warmth to your home.آمین 

 

GHAZAB AUR KEENAH | RAMADAN DAY 30 | FUTUHUL GHAIB | SUFI IMRAN RAZVEE SB | IDARA ROOHANI IMDAD


 

Featured Post

AL AUFAAQ (Vol-14) الاوفاق

Book Your Copy Now +91-9883021668