Posts
Featured Post
Tote Ka Qayaas | Parrot's hypothesis
- Get link
- X
- Other Apps
طوطے کا قیاس مولانا روم رحمہ اللہ نے مثنوی شریف میں ایک حکایت نقل فرمائ ہے ۔س کا عنوان ہے ۔ حکایت مرد بقال و روغن ریختن طوطی یعنی ایک دوکاندار اور طوطے کے تیل گرانے کا قصہ ۔ لکھتے ہیں ایک بقال تھا اس کا ایک خوش آواز سبز رنگ کا بولنے والا طوطا تھا وہ گاہکوں سے مخاطب ہو کر عقل کی باتیں کرتا تھا اور سوچوں کے چہچہے میں بڑا ماہر تھا اس کا مالک ایک دن گھر کی طرف گیا ہوا تھا طوطا دکان کی حفاظت کر رہا تھا اچانک دوکان میں ایک بلی کسی چولہا کو پکڑنے کے لئے اچھلی تو وہ طوطا جان کے خوف سے دکان کے صدر دروازے سے اچھل پڑا ،اس کے اس طرح اچھلنے سے روغن بادام کی بوتلیں گر کر ٹوٹ گئیں جب دکان کا مالک واپس آیا تو فرش کو چکنی پایا غور کیا تو معلوم ہوا کے روغن بادام کی ساری بوتلیں ٹوٹی پڑی ہیں۔ سمجھ گیا کہ یہ طوطے کی کارفرمائی ہے طوطے کو پکڑ کر اس کے سر پے زور سے مارا جس کی وجہ سے وہ خوبصورت طوطا گنجا ہو گیا اس کے سر کے بال گر گئے۔ اس صدمے کی وجہ سے طوطے نے کچھ روز بولنا ہی بند کر دیا تو مرد بقال کو افسوس ہوا کہ کاش میں اس خوش زبان پرندے کو نہ مارتا ت...