मंगलवार, 31 मार्च 2020

Batini Ankh Kholne Wali Mustanad Dua باطنی آنکھ کھولنے والی جامع و مستند دعاء


حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی دعا اس دعا سے بہتر نہیں ہے جو کوئی میری امت میں سے اس دعا کو پڑھے گا خدائے تبارک وتعالیٰ ستر ہزار بیماریاں ظاہری و باطنی اُس کی دُور فرمائے گا اور جو کوئی ایّامِ بیض میں تین رات دن برابر پڑھے گا اپنے نفس کافر پر فتح یاب ہوگا اور اس کے تمام گناہ صغیرہ و کبیرہ بخشے جاویں گے اور جو کوئی اکیس رات برابر اکیس بار اس دعا کوپڑھے گا عالم ارواح اس پر منکشف ہوگا اور سب کچھ دکھلائی دے گا دبعض نسخوں میں اتنا اور زیادہ ہے اتنا ثواب حق تعالیٰ کرامت فرمائے گا کہ سوائے خدا کے اور کوئی نا جانے گا اور جو کوئی ہمیشہ یہ دعا پڑھے گا حق تعالیٰ اس کو عذاب گور سے نجات دے گا اور قیامت کو بھی عذاب سے بچائے گا اور دارین کی آفات سے محفوظ رکھے گا اور دوذخ کی سخت آواز اس کے کان میں نہ آوے گی اور مرگ مفاجات سے ایمن رہے گا اورتو انگرہوگا اور خلائق کی نگاہ میں عزیز ہوگا اور جو کوئی اس دعا کو ایک دفعہ روز پڑھ لیا کرے گا کبھی مقروض نہ ہوگا اور اپنے دشمنوں کے شر سے مامون رہے گا اور بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر اُس کے لکھنے کی یہاں گنجائش نہیں اس دعاء کو عمل میں لانےکا ایک طریقہ یہ ہے کہپرہیز جلالی کے ساتھ ۲۱ دنوں کے تین چلے متواتر کئے جائیں اور روزانہ بعد نماز عشاء ۲۱ مرتبہ پڑھ کر ختم کریں پھر ہمیشہ ایک مرتبہ پڑھتا رہے جب کسی امر کا قصد کرے گا اس کا حل آنکھ بند کرتے ہی باطن کی آنکھ سے دیکھ لے گا یہ دعاء نا اہل کو نقصان پہچانے والی دعاء ہے لہذا کھیل تماشا اور آزمائش کے طور پر جو کرے گا سزا کا ذمہ دار وہ خود ہوگا اس واسطے چاہئے کہ مرشدِ کامل سے اس دعاء کا طالب ہواور بغیر اجازت کے ہرگذ طبع آزمائی نہ کرے دعائے  مبارک یہ ہے
دعاء کشف عالمِ ارواح

بِسْمِ للّٰہِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَللّٰھُمَّ اِنِیّ اَسْئَلُکَ بِاَ سْمَآ ئِکَ الْحُسْنٰی یَا اللّٰہُ یَا اللّٰہُ یَا اللّٰہُ فَا عْلَمْ اَنَّہ‘ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ  یَارَحْمٰنُ اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰی یَا رَحِیْمُ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْ رً ارَّ حِیْمًا یَا مَلِکُ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِیَا قُدُّوْسُ اَلْمَلِکُ الْقُدُوْسُ یَامُتَعَالُ فَتَعَالَ اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحْقُّ یَا سَلَامُ سَلَامٌ قَوْلاً مِنْ رَّبِّ الرَّ حِیْمِ یَا مُؤْمِنْ اَلْمُئْومِنُ الْمُھَیْمِنُ یَا عَزِیْزُ وَ ھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیْمُ یَا جَبَّارُاَلْجَبَّارُالْمُتْکَبِّرُ یَا خَا لِقُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِینَ یَا بَارِیُ اَلْخَالِقُ الْبَارِیئُ الْھُدٰی یَا مُصَوِّرُھُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَ رَ حَامِ کَیْفَ یَشَآ ءُ  یَا اَوَّلُ یَا اٰخِرُ ھُوَالْاَوَّلُ وَالآخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَالْباطِنُ وَ ھُوَ بِکلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ یَا شَکُوْرُ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْ رٌ شَکُوْرٌ یَا غَفُوْرُ وَ اللّٰہُ غَفُوْرُ رَّحِیْمٌ یَا وَ دُوْدُ وَھُوَالْغَفُوْرُ الْوَدُ وْدُ یَا بَا طِنُ وھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُوَ الظَّاھِرُوَالُبَاطِنُ یَاقَا ئِمُ 
www.idararoohaniimdad.in
قآئِمً بِالْقِسْطِ لآ اِلٰہِ اِلاَّ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکیْمُ یَا قَاھِرُ فُوْقَ عِبَادِہِ یَا حَیُّ وَ ھُوَالحَیُّ الْقَیُّومُ یَا سَمِیْعُ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمٌ یَا بَصِیْرُ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِاالْعِبَادِ یَا عَلِیْمُ وَا للّٰہُ بِکُلِّ شَئیْ ً عَلِیْمٌ یَا حَلِیْمُ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْع عَلِیْمٌ یَا عَظِیْمُ وَ ھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ یَا حَکِیْمُ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًاحَکِیْمًا یَاکِرَیْمُ اِنَّ رَبِّی غَنِیٌ کَرِیْمٌ یَا قَادِ رُ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ یَا مُقْتَدِ رُ عِنْدَ مَلِیْک ً مُّقْتَدِ رْ یَارَؤُفُ اِنَّ رَبِّکَ لَرَؤُفُ رَّحِیْمُ یَا لَطِیْفُ لِمَا یَشَاءُ یَا قَھَّا رُ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارْ یَا خَبِیْرُاِنَّ اللّٰہَ کَانَ خَبِیْرًا یَا قَرِیًبُ یَا مُجِیْبَ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُجِیبْ یَابَاعِثُ وِاِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبْوْرِ یَا رَزَّاقُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ یَا وَارِثُ وَللّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا صَادِقُ وَلَقَدْ صَدَ قَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہُ  یَا فَا طِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا بَاسِطُ وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ   یَا قَوِیُّ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ یَا شَھِیْدُ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیدیَا مُبْدِیئُ اِنَّہ‘ ھُوَیُبْدِیئُ وَ یُعِیْدُ یَا رَزَّاقُ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِحِسَابْ یَا تَوَابُ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ یَاوَھَّابُ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ یَاجَلِیْلُ یَاذُالْجَلاَلِ وَالْاِ کْرَامِ یَا جَمِیْلُ فَا صْبِرْصَبْرً اجَمِیْلاً  یَا کَافِیُ 
www.idararoohaniimdad.in
وَکَفٰی بِا للّٰہِ وَ کَیْلاً  یَا کَافِیُ وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ یَاوَلیِّ  وَھُوَالْوَلیِّ ُالْحَمِیْدُ یَارَبُّ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ یَا غَنِیُّ وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ یَا شَکُوْرُ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شَا کِرٌ عَلیْمٌ یَا خَلاَّقُ وَھُوَالْخَلاَّقُ الْعَلِیْمُ یَانُوْرُ اللّٰہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَامُحْسِنُ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ یَا قَدِیْرُ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ یَا مُفَضِّلُ وَ اللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ یَا مُتِمُّ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ یَا مُعِزُّ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ یَا مُذِلُّ وَ تَذِلُّ مَنْ تَشَآءُ یَارَفِیْعُ رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ ذُوالْعَرْشِ یَا شَفِیْعُ مَنْ ذالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلاَّ بِاِذْ نِہٖ یَاکَبِیْرُ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا کَبِیْرًایَاحَقُ فَتَعَالَی اللّٰہُ الْمَلِکِ الْحَقُّ یَا بَرُّ اِنَّہٗ ھُوَالْبَرَّ الرَّحِیْمُ یَا وِتْرُ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ یَا غَفَّارُ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارً ایَا غَافِرُ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ یَاحَمِیْدُوَا للّٰہُ ھُوَالْوَلیِّ الْحَمِیْدُ یَا مَنَّانُ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ھَدٰ کُمْ لِلْاِ یْمَانِ یَا اَحَدُ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ یَا مَتِیْنُ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالرَّزَاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنِ یَاھَادِیُ اِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَشآ ءُ یَا بَدِ یْعُ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ یَا عَالِمُ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ یَافَتَّاحُ وَ ھُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ یَارَقِیبُ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شّیْءٍ رَّقِیْبًا یا مُحِیْطُ اِنَّ اللّٰہَ بِماَ تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ یَاقَاضِیْ وَاللّٰہُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ یَا صَمَدُ اَللّٰہُ الصَّمَدُ یَا حَسِیْبُ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیئ ٍ حَسِیْبًا یَانَاصِرُ نِعْمَ الْمُوْلٰی  قَ نِعْمَالنَّصِیْرُ یَا وَاسِعُ وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا حَسْبِیَ اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ النَّصِیْرُ لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ بَرْ حَمِتِکَ یَا اَرْ حَمَ الرَّحِمِیْنَ



Khazana Aur Dafina Ki Qsime'n خزانہ اور دفینہ کی قسمیں


قرآنِ مقدس میں حضرتِ خضر علیہ السلام کےاس واقعے کا ذکر بڑی تفصیل آیا ہے  جس میں آپ جنابِ موسی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ایک بستی  میں تشریف لے جاتے ہیں اور بستی  والوں کے نا روا سلوک کے باوجود آپ اس بستی  میں دو یتیم بچوں کے گھر کی گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دیتے ہیں اس کو قرآن مجید میں فرمایاوَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ "خضر نے فرمایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے اور ان کاباپ نیک آدمی تھا " اس آیت میں خضر علیہ السلام کی یہ کرامت بیان ہوئی کہ انہوں نے زمین کے نیچے کا دفینہ معلوم کرلیا ان جیسی بہت سی آیات میں انبیاء کرام کے معجزات اور  اولیاء اللہ کی کرامات بیان ہو ئیں ،مفسرین فرماتے ہیں  اس دیوار کے نیچے ان دو بچوں کا خزانہ تھا ان کے نام اصرم صریم تھے  اور کان ابوھما صالحا میں ان کے جس باپ کا ذکر ہے وہ ان بچوں کا آٹھویں یا دسویں پشت میں باپ تھا  ،دیکھئے نیک اور صالح انسان کی نیکی کا اثر اس کی کئی نسلوں میں باقی رہتا ہے   جاننا چاہئے  کہ باپ کے تقویٰ و پرہیز گاری کے نتیجے میں ا س کی اولاد در اولاد کو دنیا میں فائدہ ہوتا ہے، جیساکہ حضرت  عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ آدمی کے نیک ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد در اولاد  کی بہتری فرما دیتا ہے اور اس کی نسل اور اس کے ہمسایوں میں اس کی رعایت فرما دیتا ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف سے پردہ پوشی اور امان میں رہتے ہیں}درمنثور{
اور حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’ اللّٰہ تعالیٰ بندے کی نیکی سے اس کی اولاد کو اوراس کی اولاد کی اولاد کو اور اس کے کنبہ والوں کو اور اس کے محلہ داروں کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔(خازن)
 یونہی باپ کا نیک پرہیزگار ہونا آخرت میں بھی اس کی اولاد کو نفع دیتا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمٰنٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ‘‘" اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس)  اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی اولاد کو ان کےساتھ ملادیں گے اور ان( والدین) کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے}طور{
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بیشک اللّٰہ تعالیٰ مومن کی ذُرِّیَّت کو اس کے درجہ میں اس کے پاس اٹھالے گا اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہو تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔(جامع الاحادیث)
 حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جب آدمی جنت میں جائے گا تواپنے ماں باپ،بیوی اور اولاد کے بارے میں پوچھے گا۔ ارشاد ہوگا کہ وہ تیرے درجے اور عمل کو نہ پہنچے۔ عرض کرے گا ’’اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ، میں نے اپنے اور ان کے سب کے نفع کے لئے اعمال کئے تھے۔ اس پر حکم ہوگا کہ وہ اس سے ملادئیے جائیں ،ان احادیث و آثار کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نیک اعمال کا اثر  نہ صرف باقی رہتا ہے بلکہ اس سے دنیا و آخرت میں برابر فیض پہنچتا ہے ،دیکھئے ان یتیموں کا خزانہ محض اس لئے محفوظ رہا کیوں کہ ان کا دادا جو کہ آٹھویں پشت میں تھا نیک اور صالح تھا ،اور یہ بھی پتہ چلا کہ ایسا خزانہ جو نیک نیتی کے ساتھ بطور امانت کوئی دفن کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس پر محافظ مقرر ہوتے ہیں پھر کوئی لاکھ چاہے کہ اسے حاصل کرلے ہرگذ کامیاب نہیں ہو سکتا یہ نکتہ ذہن میں رہے آگے کام آئےگا
خزانہ اور دفینہ نکالنے کے تعلق سے فقیر کو  سینکڑوں کی تعداد میں کالس اور میسج آ تے ہیں اور بہت سارے سوالات بھی احباب کے جمع ہو گئے ان شاء اللہ اس آرٹیکل میں  بتدریج  ان کے جوابات بھی  آئیں گے ،سب سے پہلے میں عرض کر دوں کہ دفینہ وغیرہ  کے حوالے سے میرے بہت سارے ذاتی تجربات ہیں  یہ کام آسان نہیں بلکہ جان جوکھوںوالا کام ہے دفینہ کا حاصل کرنا ممکن توہے لیکن آسان نہیں، وہ لوگ جو خزانے کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں پہلے فقیر کی تحریر پڑھ لیں توان شاء اللہ ان کا  وقت اور مال دونوں ضائع ہونے سے محفوظ رہیں گے ،دسیوں ایسے خاندان جنہوں نے  نا تجربہ کار یا نا اہل عاملین کے بتانے پر خزانہ حاصل کرنے کے لئے لاکھوں روپئے اور وقت ضائع کر بیٹھے حاصل کچھ نا ہوا سوائے تضیع اوقات اور مال کی بربادی کے، کچھ تو نفسیاتی مریض ہو گئے ان کا علاج کیا گیا بہر کیف یہ میرا موضوع نہیں اس حوالے اداریہ میں گفتگو کر آیا ہوں فی الوقت سب سے پہلے خزانے کی اقسام کو سمجھتے ہیں  اور اس کے بعد اس کے  نکالے جانے کی ترکیب نقوش و طلسمات و عملیات کا تذکرہ ہوگا

خزانے کی دو قسمیں

سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ خزانے کی دو قسمیں ہوتی ہیں  اگر بہت سارا قیمتی مال انسان خود کہیں دفن کرے یا رکھ چھوڑے تو عربی میں اسے کنز کہتے ہیں اردو میں دفینہ یا خزانہ اور فارسی میں گنج  کہا جاتا ہے  یہ بھی جاننا چاہئے کہ جب مطلقاً کنز یا دفینہ یا خزانہ یا گنج  بغیر کسی اضافت کے کہا جائے تو اس سے مراد مال و دولت ہوتا ہے اور اضافت کے ساتھ ہر چیز کو کنز یا گنج کہ سکتے ہیں جیسے کنزالایمان ،کنزالدقائق، پنجِ گنج قادری وغیرہ تو یہ خزانے کی ایک قسم ہوئی جسے کنزیا دفینہ کہتے ہیں  قرآن مقدس میں دو طرح کے کنز کا ذکر ہوا ایک کی حفاظت کرنے اور پوشیدہ رکھنے کا ذکر فرمایا  وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ "خضر نے فرمایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے اور ان کاباپ نیک آدمی تھا  " اس خزانے کی حفاظت کی گئی اس کے لئے محافظ مقرر کئے گئے،لیکن وہ خزانہ  جوخدا کی راہ میں مال نہ خرچ کے جمع کئے جائیں تو ایسا کرنے  والوں کو وعید سنائی گئی  فرمایا  وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ "اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی" فقیر قادری عرض کرتا ہے کہ وہ خزانے جو کسی خاص مقصد و حسنِ نیت کے ساتھ کہیں دفنائے جائیں تو وہ ہر کسی کو نہیں مل سکتیں  ہاں جو  اس کا مستحق ہوگا بلا تکلف  اسےحاصل ہو جائے گا اوریہ دفینہ رکھنے والے کی نیت پر منحصر ہے کہ اس نے اسے مباح  کر دیا ہوکسی ضرورت مند یا دیندار انسان کے لئے اس میں مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ،اور وہ دفینہ جس پر خدائے قدیر کی وعید آئی ہے اس پر کوئی محافظ مقرر نہیں ہوتا اسے مالِ غنیمت سمجھنا چاہئے اور ایسا مال جو دفینے کی شکل میں کہیں ہو اس کو حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں،واضح رہے کہ میں دفینوں کے  شرعی احکام نہیں بتا رہا بلکہ یہ روحانی تدبیر کے قبیل سے ہے ہاں یہ ضرور ملحوظ رہے کہ خزینہ و دفینہ کے تعلق سے بہارِ شریعت میں با ضابطہ ایک باب ہے وہاں سے دفینہ وغیرہ کے شرعی احکام معلوم کرنا چاہئیے،
  دوسری قسم خزانے کی وہ ہے کہ کہیں خود ہی قدرتی طور پر کوئی قیمتی جمادات مثل   فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر  جواہر یاسونا ،چاندی،سیسہ،پیتل،لوہا،تانبہ وغیرہ  پیدا ہوجائے یا ہوتا ہو تو ایسے خزانے کو عربی میں معدن اور اردو و فارسی میں کان کہتے ہیں ، دور جدید میں کسی بھی کان  کی کھوج مشینی آلات سے کی جاتی ہے اس سلسلے میں روحانی تدابیر کا کوئی ذکر بھی نہیں کرتا  
 
اعمالِ خزینہ و  دفینہ کی دو قسمیں
جس طرح خزانے کی دو قسمیں ہیں اسی طرح ان کا سراغ لگانے والے اعمال بھی دو طرح کے ہیں ،پہلی قسم کے اعمال و نقوش میں دفینہ کے ساتھ سحر مدفونہ بھی شامل ہے مطلب جس عمل یا طریق سے دفینہ معلوم ہوگا اسی طریقے سے سحر مدفونہ کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے   ،جبکہ دوسرے قسم کے اعمال و نقوش معدنی اشیاء مثل     فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر  جواہر یاسونا ،چاندی،سیسہ،پیتل،لوہا،تانبہ وغیرہ  کے دریافت کے لئے ہیں چونکہ دوسرے قسم کے خزانے کو دریافت کرنا یہ ہمارا موضوع نہیں اس واسطے صرف پہلی قسم کے خزانے اور اس کے حصول کے طریق اور  اعمال و نقوش وغیرہ پر بات چلے گی ،کتب عملیات میں جتنے اعمال درج ہیں وہ  زیادہ تر دفینہ کے عنوان سے  ہیں وہاں آپ کو معدن یا کان کا پتہ لگانے کے عنوان سے اعمال نظر نہیں آئیں گے  لیکن  حقیقت یہ ہے کہ ان اعمال ونقوش میں بعض  معدن کے لئے ہیں اور بعض کنز کے لئے ، لہذا دفینہ کی کھوج میں اکثر ناکامی عاملین کو اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ  وہ ان دو قسم کے اعمال میں فرق نہیں کر پاتے ،جن اعمال یا نقوش سے خزانے کی قسم اول کا پتہ چلتا ہے ضروری نہیں کے قسم دوم یعنی معدن یا کان کا پتہ بھی ان سے چل جائے اسی طرح دوسری قسم کے خزانے کا پتہ لگانے والے نقوش و اعمال و طلسمات سے قسم اول یعنی دفینہ کا سراغ ہرگذ نہیں مل سکتا مثال کے طور پر مرغ کے ذریعہ دفینہ معلوم کرنے کے جتنے طریقے ہیں وہ سب قسم اول یعنی دفینہ اور سحر مدفونہ کے لئے ہیں اس سے معدن کا پتہ نہیں چل پائے گا  نہ مرغ وہاں پنجے مارے گا اور نا بانگ دیگا ،اسی طرح  لَہُ مَقَالِیْدُالسَّمَوٰتِ وَالْاَرْض والی آیت سے دفینہ اور گنج کا پتہ نہیں لگ سکتا اس آیت ِ شریفہ کی خاصیت کان یا معدن کی کھوج میں اثر رکھتی ہے   اور اسی طرح اس  آیت کو اگر مرغ کے باندھ کر مشتبہ مقام پر چھوڑیں گے تو کچھ فائدہ نہیں ہوگا  میں نے اعمال و نقوش کی مشہورو معروف  کتابوں میں دیکھا ہے کہ نقش جو معدن کے لئے مفید ہے اسے دفینہ کے لئے لکھا گیا ہے  اس کی سب سے بڑی وجہ نقل در نقل ہے ،جب عامل بذات ِخود دفینہ کی کھوج کے روحانی طریقوں پر عمل پیرا ہوگا اور بہت سارے تجربات سے گذرے گا جب ہی اسے اعمال و نقوش جو اس سلسلے میں وارد ہیں ان کی صحیح طور پر پرکھ  اور جانچ ہو سکے گی میری اس مختصر سی تمہید سے اہل علم حضرات دفینہ و معد ن کے اعمال و نقوش میں فرق کر پائیں گے  ۔۔۔۔جاری ہے



Dua Taskheer e Dushmana Ki Riyazat Ka Tariqa دعاء تسخیرِ دشمناں کی ریاضت کا طریقہ


دعاء تسخیرِ دشمناں کی ریاضت کا طریقہ
مولائے کائنات حضرتِ علی شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے منسوب یہ دعاء دفع اعداء میں اثر تمام رکھتی ہے جو کوئی ۴۱ مرتبہ بوقتِ فجرقبلِ طلوعِ آفتاب پڑھے گا اس کا دشمن ہمیشہ ذلیل و خوار ہوگا اور چاہے جتنا ایڑی چوٹی کا زور لگا لے اس دعاء کے پڑھنے والے پر ہرگذ غالب نہ آسکے گا اس دعاء کو عمل میں لانے کے لئے روزانہ ۴۱ مرتبہ فجر میں پڑھ لیں کسی بھی دن سے شروع کرسکتے ہیں چلہ مکمل کرنے کے بعد روزانہ اُسی وقت ۱۱ مرتبہ پڑھتا رہے عمل قائم رہےگا ،میاں بیوی میں سے کوئی نا فرمان ہو تو ا ن کو راہِ راست پر لانے کے لئے بھی یہ عمل اکسیر ہے 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
اَللّٰھُمَّ سَخِّرْلِیْ اَعْدَآءِیْ کَمَا سَخَّرْتَ الرِّیْحَ  لِسُلَیْمَانَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَالَیَّنْھُمْ کَمَالَیَّنْتَ الْحَدِ یْدَ لِدَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَذَلِّلْھُمْ کَمَا ذَلَّلَتْ فِرْ عَوْنَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامْ وَقَھِّرْھُمْ کَمَا قَھَّرْتَ اَبَاجَھْلٍ لِمُحمَّدٍ عَلَیْہِ السَّلَام وَبِحَقِّ کھٰیٰعصؔ وَبحَقِّ حٰمؔ عسق صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فِھُمْ لَا یَرْ جِعُوْنَ 
www.idararoohaniimdad.in
صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فِھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فِھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فِھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ


Dua Jame Al Matllob Ki Riyazat Ka Tariqa دعاء جامع المطلوب کی ریاضت کا طریقہ


دعاء جامع المطلوب و دافع الکروب کی ریاضت کا طریقہ
یہ دعاء بڑی جامع اور اسم با مسمیٰ ہے ،فقیرِ قادری نے اپنے ابتدائی دنوں میں اس کی ریاضت کی تھی اور کئی ایک چلے اس دعاء کے کر ڈالے تھے ، احباب کے لئے اس کی ریاضت کے چند طریقے لکھے دیتا ہوں سب سے پہلا جو مشہور ہے اسے چالیس دنوں تک روزانہ چالیس مرتبہ پڑھ کر عمل میں لائیں فقیر نے بھی اول ایسا ہی کیا تھا لیکن جب اس کے فوائد کثیر دیکھے تو مختلف تعداد میں پڑھ کر اس دعاء سے خوب مستفید ہوا ، تو پہلا طریقہ تو چالیس مرتبہ چالیس دن کا ہے اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ایک سو چودہ مرتبہ چالیس دن پڑھ کر عمل میں لائیں یہ پہلے طریقے سے عمدہ ہے اب اس سے بھی عمدہ ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک سو چودہ دنوں تک ایک سو چودہ مرتبہ اس دعاء کی تکرار کی جائے ان شاء اللہ کیسی بھی حاجت ہوگی اس عظیم دعاء کی برکت سے ضرور پوری ہوگی پھر چاہئے کہ روزانہ ۷ مرتبہ مطابق سبع سیارگان کے اس کو ورد میں رکھا جائے تاکہ برکات اس دعاء کی جاری رہے ، اس عمل میں کسی قسم کا پرہیز نہیں ہے اور کسی بھی ماہ میں شروع کر سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ ماہ ثابت یا ذوجسدین میں ہی شروع کرے، اور اس عمل میں اجازت ضروری ہے کہ بلا اجازت کرنے سے ناکامی ہاتھ آئےگی و لہذا اول اجازت اپنے مرشد یا استاذ سے حاصل کریں
دعاء جامع المطلوب ودافع الکروب سے کام لینے کا طریقہ
کسی بھی رکے ہوَئے کام کے لئے روزانہ ۱۱ بار پڑھ کر دعاء کی جائے ان شاء اللہ جلد ہی کام ہو جائےگا،سحر زدہ پر سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا جائے تو اسے آرام ہو چاہئے کہ سات روز مسلسل دم کرے اسی طرح آسیب زدہ کو بھی فائدہ ہوتا ہے فقیر کا آزمایا ہوا ہے،جس بچی کا رشتہ نہ آتا ہو رشتے میں رکاوٹ ہو تو یہ دعاء لکھ کر اس کے گلے میں ڈالے اور اسے پڑھنے کو دی جائے روزانہ گیارہ مرتبہ بچی یا اس کے گھر میں کوئی پڑھا کرے ان شاء اللہ بندش رشتے کی ختم ہوگی،اگر کسی کا کاروبار نقصان میں چل رہا ہو تو چاہئے کہ اس دعاء کو سفید کاغذ پر زعفران سے لکھے اور اس پر چالیس مرتبہ پرھ کر دم کرے اور اس شخص کو پاس رکھنے کو دی جائے ان شاء اللہ کاروباری نقصان سے بچا رہے گا ،اگر کوئی زحل کی ساڑھ ستی یا کسی بھی سیارے کی نحوست میں گرفتار ہو تو چاہئے کہ طلسم سبعہ سیارگان کے ساتھ دعاء جامع المطلوب لکھ کر اس پر چالیس مرتبہ پڑھ کر دم کر کے دے کہ وہ شخص اپنے پاس رکھے ان شاء اللہ ساڑھ ستی اور نحوستِ سیارگان سے محفوظ رہے گا فقیرِ قادری عرصہ دراز سے یہ طلسم تیار کرتا آرہا ہے بحمدللہ بے حد موثر ہے، غرضیکہ اس دعاء سے کام لینے کے بے شمار طریقے ہیں عامل کو چاہئے کہ اپنی فراست کو کام میں لائے اللہ تعالی مجھے اور میرے تمام احباب کو علمِ نافع عطاء فرمائے آمین
دعاء جامع المطلوب ودافع الکروب پڑھنے کے فوائد
اس دعاء کو روزانہ بطور وظیفہ پڑھنے کے فوائد کثیر ہیں،میں یہاں مختصرا لکھے دیتا ہوں،اس دعاء کو روزانہ پڑھنے والے کی فرشتے اس کے کاموں میں غیبی مدد فرمائینگے،مقاصد و مراد پورے ہوں گے،جان و مال آل و اولاد دوست و احباب و اخوان گھر بار اہلِ خانہ سب آفات و بلیات و نقصانات سے محفوظ رہینگے ،سیارگان کی نحوست دفع ہو کر ہر کام آسان ہو جایا کرے گا،ہر قسم کے جن شیاطین آسیب اثرات بلیات سے محفوظی ہوگی ،جادوگروں کا جادو ناکام ہوگا اور ساحر عاجز و پریشان ہوگا،ظالم حکام کے ظلم و ستم سے امان میں رہے گا ،یہ دعاء ایک بہترین استخارہ بھی ہے ساتھ ہی آئیندہ پیش آنے والے واقعات کی خواب میں نشاندہی ہو جایا کرےگی اور سچے خواب دکھیں گے، کسی بھی حادثے  یا خوشنما واقعےسے قبل خواب یا بیداری میں اطلاع مل جایا کریگی،دشمنوں پر ہمیشہ غلبہ رہے گا اور مخلوقِ خدا خوب خوب مسخر ہوگی لوگ پیچھا نہیں چھوڑیں گے،بلا زکات بھی اجازت لے کر روزانہ پابندی سے ۱۱ بار پڑھنے والا مذکورہ بالا فوائد کم و بیش ضرور دیکھے گا چاہئے کہ اپنے مرشد یا استاذ سے اجازت حاصل کر کے روزانہ اپنے ورد میں رکھے

دعاء جامع المطلوب ودافع الکروب
نسخہءِ صحیحہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یَا مَلٰئِکَۃُ کُلُّکُمْ بِاَ مْرِاللّٰہِ  اَنْ تُغِیْثُوْنِیْ  وَاَنْ تُعِنُوْنِیْ وَاَنْ تَمَدُّ وْنِیْ فِی مُرَادِیْ وَمَقْصُوْدِیْ وَاحْفِظُوْالِیْ مَالِیْ وَاَھْلِیْ وَوُلْدِیْ وَوَالِدِیْ وَ ذُرِّ یَّاتِیْ  وَاِخْوَانِیْ وَاَحِبَّائِیْ وَاَصْدِقَائِیْ وَمَا اَحَاطَتْ عَلَیْہِ شَفَقَۃُ قَلْبِیْ مِنْ اٰفَاتِ الدُّنْیَا وَالْاٰحِرَۃ ِ وَمِنْ  نُحُوْسَاتِھِمْ وَ مِنْ نُحُوْسَاتِ الزُّحْلِ وَالْمُشْتَرِیْ  وَالْمِرّیْخ ِ وَالشَّمْسِ وَالزُّھْرَۃِ وَالعُطَارُدِ وَالْقَمَرِ وَالرَّاسِ وَالذَّنْبِ وَالْاِ کِلِیْلِ وَمِنْ شَرِّکُلِّ ذِیْ  شَرٍ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالشَّیَاطِیْنِ  وَسَا حِرٍ وَّفَاجِرٍوَظَا لِمٍ وَّ بَاغٍ وَّطَا غٍ وَ مَارِدٍ وَّمُعَانِد ًوَّوَلَا حِقّ ً وَّ سَابِق ً وَّنَا طِقٍّ وَّ سَاکِتٍ وَّمُتَحَرِّک ً  وَّ سَاکِن ً وَّھَا مَّۃٍ  وَّ لَامَّۃٍ وِّذَکَر ً وَّاُنْثٰی 
www.idararoohanimdad.in
وَمِنْ اَفَاتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمِنْ شِرِّ الْبَرِیَّۃِ  وَالْبَحْرِیَّۃِ اَجْمَعِیْنَ وَاعْمُوا اَبْصَارَ ھُمْ وَاَقْبِضُوْا لِسَا نَھُمْ وَاَیْدِیَھُمْ وَ عَلِّمُوْنِیْ عِلْمَ الَّذِیْ یَکُوْنُ نَا فِعَاً وَّ صَرْ فاً عَلٰی جَمِیْعِ الْعُلُومِ وَاَعْطُوْنِی رِزْ قًا حَلَا لًا طَیِّبًا وَّ جَلَّبْتُکُمْ لِجَلْبِ قُلُوْبِ الْخَلْقِ مِنَ الِرّ جَالِ وَالنِّسَآءِاِلَیَّ  بِالْمَوَدَّۃِ   وَالْمُحَبَّۃِ  وَا نْصُرُوْانِیْ نُصْرَۃً عَلٰی سَآءِرِا لْاَعْدَآءِ وَاخْبِرُوْنِیْ مَافِی الْحَوَ ادِثِ الْخَیْرِوَالشَّرِّقَبْلَ الْوَقْتِ الْوُقُوْعِ وَمَا اَطْلُبُ مِنْ اَخْبَارِ الْعَالَمِ اَلْعَجَلْ اَلْعَجَلْ اَلْعَجَلْ  السَّاعَۃَالسَّا عَۃَ السَّاعَۃَ اَلْوَحَاالْوَحَا اَلْوَحَا  بِحَقِّ سَیِّدِ الْاَبْرَارِ مُحَمَّدُ‘ رَّسُوُلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اٰلِہٖ وَاصْحَابِہِ  وَوَلَدِہِ الشَّرِیْفِ السَّیِّدِ مُحَیِّی الدِّیْنِ حَضْرَۃِ الشَّیْخِ عَبْدِالْقَادِرْ جِیْلَانِی رَضِیَ اَللّہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَ بِحَقِّ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَیْھِمَاالسَّلَامْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَم  َالرّٰحِمِیْنْ

نقش حزب البحر شریف Naqsh Hizbul Bahar Shareef


درود تنجینا شریفDurood e Tunajjina Sharif


بچوں کا ذہن تیز کرنے کا وظیفہ Bacho'n Ka Zehan Tez Karne Wazifa


دکان کی ترقی اور حفاظت کا نقش Dukan Ki Taraqqi Aur Hifazat Ka Naqsh


لوح تسخیر محبوب Lauh e Taskheer Mehboob


Taweez Ism سبحانک لا الہ الا انت یا رب کل شئی ووارثہ و راقہ و راحمہ

اسم اول
سبحانک لا الہ الا انت یا رب کل شئی ووارثہ و راقہ و راحمہ
خاصیت: کشائشِ رزق،تسخیرِ حکام،تیزی ذہن،تسخیرِ عام ،بر آمدن حاجات وغیرہ کے لئے رات کی نیک ساعتوں میں لکھا جائے نقش یہ ہے

وظائف حلِ مشکلات Wazaif Halle Mushkilat

از صوفی محمد عمران رضوی القادری
کشادگی رزق کا انمول وظیفہ
 لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینْ
صبح و شام ایک سو مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں  دنیا میں  فاقہ نہ ہو، قبر میں  وحشت نہ ہو،حشر میں  گھبراہٹ نہ ہو اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے اس عظیم کلمے کو الوظیفۃ الکریمہ میں شامل فرمایا
ہر مشکل آسان
لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم
 ۵۰۰ مرتبہ روز ورد میں رکھنے والے کی ہر مشکل آسان ہوگی یہ کوتاہيوں کی کمی اور ٹوٹے ہوئے دلوں کی درستگی کا باعث ہےبخاری شریف کی صحیح حدیث ِ پاک میں ہے کہ ''یہ(یعنی لَاحَوْل شریف) جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے
بگڑی اولاد سدھر جائے
یَا اَللہُ یَا ھَادِیُ یَا نَافِعُ یَا نُوْرُ
اگر کسی کی اولاد غلط صحبت میں رہ کر بگڑ جائے تو اس کے لئے یہ وظیفہ روزانہ ۵۴۳ مرتبہ مع اول آخر درود کے پڑھا کرے ان شاء اللہ سدھر جائےگا اور بری صحبت چھوڑ دیگا
امیر کبیر بننے ا وظیفہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جو شخص یہ چاہتا ہو کہ دولتِ دنیا اس کے قدم چومے وہ روزانہ بوقتِ طلوع آفتاب ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھنے کا معمول بنا لے
دکان چلنے کا وظیفہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ   اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ(۱)وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ(۲)فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠(۳)
جس کی دکان نہ چلتی ہو گراہک کم آتے ہوں اسے چاہئے کہ روزانہ صبح کے وقت ۷۰ مرتبہ سورۃ نصر پڑھ لیا کرے اول آخر درود گیارہ مرتبہ کے ساتھاور  ان شاء اللہ دکان خوب چلے گی
تنگدستی کا خاتمہ
اَللہُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّد عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ وَ صَلِّ عَلَی الْمُوْمِنِینَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمینَ وَالْمُسْلِمَاتْ
تنگدستی کے خاتمے کے لئے مذکورہ بالا درود شریف کو روزانہ ۱۰۰ مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں حضرتِ شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمہ اللہ نے اس کی بڑی تعریف فرمائی ہے
حلِ مشکلات
یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ          بروز اتوار ۱۰۰۰ مرتبہ
یَامُفَتِّحَ الْاَبْوَابِ               بروز پیر ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا مُسَبِّ الْاَسْبَابِ    بروز منگل ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ                                بروز بدھ ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِبِ               بروز جمعرات ۱۰۰۰ مرتبہ
یَا ذَالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ    بروز جمعہ ۱۰۰۰ مرتبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنّیِ کُنْتُ مِنَ الظَّا لِمِینْ     بروز اتوار ۱۰۰۰ مرتبہ
ہر قسم کی مشکلات میں پھنسے لوگوں کے لئے بہترین وظیفہ ہے چاہئیے کہ روزانہ ایک وقتِ مقررہ پر ان کا ورد کرے اول آخر درودِ تنجینا تین بار ضرور پڑھیں انشاء سب مشکلیں آسان ہوں گی
ملازمت کا حصول
حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ
بے روزگار شخص کو چاہئے کہ بعد نماز ظہر یا عشاء ۴۵۰ مرتبہ مع اول آخر درود شریف کے روز پڑھا کرے اس کے علاوہ ہر وقت بلا تعداد وردِ زبان رکھے انشاء اللہ روزگار سے لگ جائے گا اللہ بڑا کارساز ہے
برائے شادی
یَا لَطِیفُ یَا فَتَّاحُ
جن بچیوں کا رشتہ نا آتا ہو یا شادی نہ ہوتی ہو تو ۱۰۰۰ مرتبہ بعد نماز عشاء بغیر کسی سے بات کئے مع اول آخر  درود کے پڑھیں ان شاء اللہ جلد ہی رشتہ موصول ہوگا یا شادی ہو جائے گی
نافرمان بیوی کو تابع کرنا
اِنَّ وَلِیِّ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ
اگر کسی کی بیوی نا فرمانی کرتی ہو تو شوہر اس آیت کو روزانہ ۱۰۰ متربہ پڑھا کرے ان شاء اللہ فرماںبردار ہوگی
محبتِ زوجین
وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ  وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ
میاں بیوی کے درمیان محبت قائم رکھنے کے لئے اس آیت کا وظیفہ روزانہ ۱۰۰ مرتبہ کرنا چاہئے
شوہر کو دوسری عورت سے روکنا
وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ
جو عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر کسی غیر کے پاس نہ جائے یا جانے کا ندیشہ ہو تو اس آیت کو روز ۴۱ بار پڑھے
حفاظت و حصار
یَاحَفِیظُ تَحَفَّظْتُ بِالحِفْظِ وَ الْحِفْظِ فِی حِفْظِکَ یَاحَفِیظُ
جب کبھی کسی جگہ ڈر خوف یا نقصان کا اندیشہ ہو ۴۱ مرتبہ پڑھ کر خود پر دم کر لیں حفاظت رہے گی ان شاء اللہ
ادئے قرض
 اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
قرض کی ادائےگی کے واسطے روزانہ ۷۰ مرتبہ مع اول آخر درود تنجینا ۷ مرتبہ روز پڑھا جائے مجرب مجرب مجرب
 امتحان میں کامیابی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱) لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ(۲) وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا(۳الفتح)
 ہر قسم کے امتحان میں کامیابی کے لئے  سورہ فتح کی اس آیت کو روزانہ ۴۱ مرتبہ پڑھ لیجئے مع اول آخر درود
ہر بیماری سے شفاء
یَا شَافِیُّ یَا سَلَامُ
کل امراض سے شفاء کے لئے بعد نماز مغرب مریض کے سرہانے بیٹھ کر ۱۰۰۰ مرتبہ مع اول آخر درودِ شفاء کے پڑھا جائے اور مریض پر دم کریں ساتھ ہی پانی پر دم کر کے پلائیں جلد شفاء نصیب ہوگی
برائے کل مطالب
یَا اَللہُ الْمَحْمُودُ فِی کُلِّ فَعَالِہِ
روزانہ ۳۶۰ مرتبہ وقتِ مقررہ پر پڑھا جائے اول آخر درود شریف ۳ مرتبہ پڑھ لیجئے
قضائے حاجات
یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعُ
جب کوئی حاجت درپیش ہو مذکورہ اسم کو ۱۲۰۰ مرتبہ بارہ روز پڑھ کر ختم کریں وقت اور جگہ مقرر ہو اول آخر درودِ تنجینا ۳ بار پڑھیں ان شاء اللہ سبیل پیدا ہوگی
برائے جملہ حاجات
یَا شَیْخْ عَبْدُ الْقَادِرْ جِیلَانِی شَیْئاً لِلہ
اول آخت درودِ غوثیہ کہ ۱۰۰۰۰ مرتبہ روزانہ ۴۰ دنوں تک پڑھیں ان شاء اللہ حاجات بر آئے گی
برائے روشنی چشم
اَللہُمَّ مَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَ بَصَرِیْ وَاجْعَلَہُ الْوَارِثَ مِنِّیْ وَانْصُرْنِی عَلیٰ مَنْ ظَلَمَنِی
جملہ امراضِ چشم میں اس دعاء کو بعد ہر فرض نماز کے ایک بار پڑھ کر دونوں انگوٹھوں  پر دم کریں اور آنکھوں پر پھیر لیں مجرب اور  بزرگوں کا معمول ہے
بچوں کا ذہن کھولنے والی دعاء
اِلٰہی اَنْتَ اِلٰہُ عَالِمُ وَ اَنَا عَبْدُکَ جَاھِلُ اَسْئَلُکَ اَنْ تَرْزُقَنِیْ عِلْمًا نَافِعًا وَّ فَھْمًا کَامِلًا وَّ طَبْعًا زَکِیًا وَّقَلْبًا صَفِیًّا حَتّٰی اَعْبُدَکَ وَلَا تُھْلِکُنِیْ بِالْجِھَا لَۃِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینْ
سبق یا پڑھائی شروع کرنے سے قبل ۱۱ مرتبہ اس کو کو پڑھا جائے ان شاء اللہ بچہ جو پڑھے گا یاد رہے گا
برائے ملازمت
یَا فَتَّاحُ یَا رَزَّاقُ یَا وَھَّابُ یَا بَاسِطُ
ملازمت اور نوکری ملنے کے واسطے ۸۸۳ مرتبہ بعد نماز عشاء روز پڑھا جائے مع اول آخر درود شریف ۱۱ بار
فراخی رزق
یَا وَھَّابُ ذَالطَّوْلِ
فراخی رزق کے لئے علی الصبح اسم یا وھاب کو اس طرح ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھے مع اول آخر درود شریف تین تین بار
تسخیرِ خلق
یَا اَ للہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ
تسخیر خلق و جملہ حاجات کے لئے روزانہ ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھا کرے اور جمعہ کے دن سے شروع کریں
تصفیہ قلب
یَا مَلِکُ یَا قُدُّوْسُ
صفائے قلب کے واسطے خالی پیٹ ہو کر ۱۰۰۰ مرتبہ روز پڑھنے کا معمول بنائیں اول آخر درود شریف طاق مرتبہ
حفاظت از دشمن
یَا مُوْمِنُ یَا مُھَیْمِنُ
دشمنوں سے حفاظت اور تسخیر کے لئے روزانہ ۵۰۰ مرتبہ بوقتِ صبح پڑھنا مفید ہے اول آخر درود لازمی ہے
گناہوں سے توبہ
یَا غَفَّارُ اِغفِرْلِی ذُنُوْبیِ
جسے گناہوں کا چسکا لگ جائے اور چاہتا ہے کہ سچی توبہ نصیب ہو تو روزانہ صدق دل سے سو بار پڑھ لیا کرے
مقہوری اعداء
یَا قَھَّارُ
۲۱ روز بوقتِ زوال ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھ کر دشمن کی طرف پھونک مارے ان شاء اللہ دشمن مقھور ہوگا
مستجاب الدعوات
یَا سَمِیْعُ یَا بَصِیْرُ
جو بندہ مستجاب الدعوات ہونا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ روزانہ چاشت کے وقت ۱۰۰۰ مرتبہ پڑھ لیا کرے
شادی ہو جائے
 اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ
سورہ یوسف کی اس آیت کو روزانہ  ۱۱۱ مرتبہ پڑھا جائےمع اول آخر درود شریف ۱۱ مرتبہ کے  ان شاء اللہ جلد شادی  اور رشتہ طے ہو جائے گا
ذہن کی تیزی اور حافظہ
 رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ
روزانہ ۱۱۱ مرتبہ پڑھا جائے اور سبق یاد کرنے سے قبل ۷ مرتبہ پڑھ کر دل پر دم کر لیں ان شاء اللہ حافظہ قوی ہوگا
بگڑے حالات سدھر جائیں
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۶) تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘
وَ تُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٘-وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۲۷)
انتہائی پریشانی اور بگڑے حالات میں اس آیت کو ہر نماز کے بعد ۵ مرتبہ پڑغ کر ربِّ قدیر سے دعاء کریں تو ان شاء اللہ جلد ہی کوئی صورت ِ اسباب پیدا ہو اور بگڑے حالات سدھرنے لگیں گے
حصول اولاد
هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕلَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۶)
جس عورت کو حمل نا ٹھہرتا ہو اس آیت کو روزانہ ۱۱۰ مرتبہ پڑھ لیا کرے ان شاء اللہ جلد ہی حاملہ ہوگی
مرحومین کو خواب میں دیکھنا
اَللہُمَّ اَرِنیِ فِیْ مَنَامِیْ مَا اَسْتَدِل ُّ  بِہِ عَلیٰ اِجَابَۃِ دَ عْوَتِیْ 
سونے سے قبل اچھی طرح وضو بنا کر پاک بستر پر ۷ مرتبہ سورہ والشمس ۷ مرتبہ سورہ واللیل ۷ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھ کر ۷ مرتبہ دعاءِ مذکور پڑھیں اور بغیر کسی بات کئے سو جائیں اس طرح ۳ یا ۷ دن کریں
دلی مراد کا بر آنا
یَا اَللہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْم
جمعہ کے دن عصر و مغرب کی درمیان بلا تعداد بچشمِ نم اپنے مقصد کو ذہن میں رکھ کر پڑھے انشاء اللہ مراد بر آئےگی
غناء ظاہری و باطنی
یَا مُغْنِیُ
غنائے ظاہری و باطنی کے لئے ۴۰ مرتبہ سورہ مزمل شریف اور گیارہ سو مرتبہ یا مغنی عشاء کے بعد پڑھا کرے یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمہ اللہ کے  مجربات میں سے ہے اور حضرت کا تاعمر اس پر عمل رہا
قبولیت دعاء
اتوار کے دن طلوع آفتاب سے قبل بعد نماز فجر ۱۰ مرتبہ سورہ کافرون پڑھ کر جو دعاء کی جائے قبول ہوگی ان شاء اللہ
دین و دنیا کی دولت
جو شخص روزانہ ۷ مرتبہ سورہ قدر پڑھ کر اس دعاء کو سات مرتبہ پڑھ لیا کرے گا اس کو دین و دنیا کی دولت نصیب ہوگی دعاء یہ ہےَاللہُمَّ یَا مَن یَّکفِنِی مِن خَلقِہِ جَمِیعًا وَلَا یَکفِنِی مِنہ‘ اَحَد مِن خَلقِہِ یَا اَحَدُ لَا یَنقَطِعُ الرَّجَائُ اِلَّا مِنکَ وَمَا تَصَوَّرَتِ الاٰ مَالُ اِلاَّ فِیکَ یَا غَیَا ثَ المُستَغِیثِینَ اَغِثنِی
کبھی فاقہ نہ ہو
جس گھر میں عورتیں روزانہ بعد نماز مغرب ایک مرتبہ سورہ واقعہ پڑھتی ہوں اس گھر میں فاقے نہیں ہوں گے
طاقتور دشمن زیر ہو
فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ
اس آیت کو روزانہ ۳۰۳ مرتبہ پڑھنے والا کا دشمن ہمیشہ زیر رہے گا اور کوئی برائی نہ پہنچا سکے گا ان شاء اللہ
جادو کا اثر نہ ہو
جو شخص روزانہ ۷ مرتبہ سورہ مزمل پڑھ کر ۴۵۰ مرتبہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھا کرے گا اس پر جادو کا اثر نہ ہوگا
غیب سے رزق ملے
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕوَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ
جو کوئی ہر روز اس آیت کو ۱۰۰ مرتبہ پڑھا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غیب سے رزق عطاء فرمائے گا
مکان کی حفاطت
شیخ ابو الحسن شاذلی رحمہ اللہ  نے فرمایا رات کے وقت ۲۱ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لینے سے جنات ،شیطان،جلنے اور چوری سے محفوظی رہے گی
نا فرمان اولاد کے لئے
یَا مُقِیْتُ
نا فرمان بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر روزانہ ۲۱ مرتبہ یا مقیت پڑھا کریں انشاء اللہ تابع فرمان ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


روحانی مرض کی تشخیص تعبیرِ خواب کی مانند ہے Roohani Mraz Ki Tashkhees Tabeer e Khwab Ki Manind Hai

ادرایہ الاوفاق قسط ۵
از صوفی محمد عمران رضوی القادری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 روحانی مرض کی تشخیص  تعبیرِ خواب کی مانند ہے
اللہ رب العزت نے قرآن مقدس کے اندر سورہ یوسف میں حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات مفصل بیان فرمایا ہے جس میں ایک واقعہ دوران اسیری جیل خانے میں دو قیدیوں کو ان کے خواب کی تعبیر بتانے والا  بڑا مشہور ہے اس واقعے میں عقل والوں کے لئے مختلف جہات سے درسِ عبرت ہے ،تو آئیے سب سے پہلے ہم بطورِ تمہید مختصراً اس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں
جب حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر نے قید خانے میں ڈلوا دیا تو ان کے ساتھ دو اور قیدی بھی تھے جن میں ایک بادشاہ کا نانبائی تھا جو کہ مطبخ کا منتظم تھا اور دوسرا ساقی جو محفل عیش و طرب کا نگران تھا  ان دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے کھانے اور شراب میں زہر دے کر بادشاہ کوقتل کرنے کی کوشش کی تھی قید خانے میں ان دونوں نے خواب دیکھا اور آپس میں  یہ فیصلہ کیا کہ ہم دونوں اپنا خواب حضرتِ یوسف علیہ السلام کو بتا کر اس کی تعبیر معلوم کریں گے اس طرح ان کے علم کو بھی آزما لیں گے  جس کا ذکر قرآنِ مقدس میں یوں ہے
        وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِؕ-قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًاۚوَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُؕ-نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(سورۃ یوسف۔۳۶)
ترجمہ کنز الایمان:
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ان میں ایک بولا میں نے خواب دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرندے کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتائیے بےشک ہم آپ کو نیکوکار دیکھتے ہیں
ان دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر جو حضرتِ یوسف نے بیان فرمائی اسے قرآن مقدس میں یوں فرمایا

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًاۚوَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖؕقُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ(سورۃ یوسف۴۱)
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا  رہا دوسرا وہ سو لی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے
تفسیر خزائن العرفان میں صدرالافاضل رحمہ اللہ نےنقل فرمایا حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے  حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا  جو میں نے کہہ دیا یہ ضرور واقع ہوگا ، تم نے خواب دیکھا ہو  یا نہ دیکھا ہو اب یہ حکم ٹل نہیں سکتا  جاننا چاہئیے خواب کی تعبیر کا علم ظن و تخمین اور فراست  پر مبنی ہے لیکن  حضرتِ یوسف علیہ السلام کو اللہ نے  خواب کی تعبیر کا علم ظنی و تخمینی نہیں بلکہ یقینی و قطعی طور پر بذریعہ وحی عطاء فرمایا تھا  اور آپ تعبیرِ رویا کے علم میں جس درجہ پر فائز تھے کوئی اس درجے کو نا پہنچا لہذا جیسی تعبیرخواب کی حضرتِ یوسف علیہ السلام نے بتائی تھی ان دونوں قیدیوں کے ساتھ من و عن ویسا ہی ہوا  ،ساقی و نانبائی کے بیان کردہ خواب کے معلق تین قسم کے اقوال تفاسیر میں ملتےہیں
  1. حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے 
  2. مجاہد اور امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کہا انہوں نے سچا خواب بیان کیا تھا اور انہوں نے واقعی خواب دیکھا تھا
  3. ابو مجاز نے کہا نانبائی نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا اور ساقی نے سچا خواب بیان کیا تھا
اب خواب کی تعبیر کےتعلق سے اصول ذہن نشیں کیجئے تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو  مشکوۃ  شریف کی حدیث میں فرمایا  خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک اس کی خبر نہ دی جائے جب وہ بیان کردی جائےتو واقع ہوجاتا ہے   اس حدیث کی شرح مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ نے یوں فرمائی "
یہاں اتنا سمجھ لو کہ خواب تعبیر سے پہلے اڑتی ہوئی چڑیا ہے جو ظاہر نہیں ہوتی مگر تعبیر ہوجانے کی صورت میں ضرور واقع ہوتاہے اور تعبیر میں پہلی تعبیر کا اعتبار ہے بعد کی  دی ہوئی تعبیر کا اعتبار نہیں یعنی پہلی بارتعبیر لینے کے لیے اپنی خواب یا اپنے پیارے سے بیان کرو یا بہت سمجھ دار سے جسے خواب کی تعبیر کا علم ہوپیارا اگر تعبیر نہ جانتا ہوگا تو تعبیر دے گا ہی نہیں،عالم تعبیر دے گا مگر درست،بے علم بے وقوف سے خواب نہ کہو کہ وہ غلط تعبیر دے کر تمہارا خواب بگاڑ دے گا حکایت ہے  کہ ایک عورت کا خاوند تلاش روزگار میں باہر گیا ہوا تھا عورت نے خواب میں دیکھا کہ میرے خاوند کے منہ سے کوے نکل کر اڑ رہے ہیں،اس نے اپنی پڑوسن سے بیان کیا وہ بولی کہ کوے تو مردے کے منہ سے اڑتے ہیں تیرا خاوند مرگیا ہوگا،پھر وہ عالم وقت کے پاس گئی انہوں نے فرمایا کہ تیرا خاوند توپ خانہ کا مالک کردیا گیا ہے،کچھ روز بعد اس کی موت کی خبر آگئی تو وہ پھر ان عالم کے پاس گئی اور ماجرا بیان کیا،عالم نے فرمایا کہ خواب کی پہلی تعبیر ہی ہوتی ہے تو نے اس نادان عورت سے اپنا خواب کہہ کر تعبیر خراب کرلی۔"

روحانی مرض خواب کی مثل اور علاج تعبیر کی طرح ہے
جس طرح خواب دیکھنے والے کو چاہئیے کہ اپنا خواب کسی معتبر شخص یا عالمِ دین کو سنا کر تعبیر لے اسی طرح روحانی مسائل کے شکار افراد کو بھی چاہئے کہ مخلص عامل یا عالم دین کو ہی اپنا مسئلہ بتائے بلکہ پہلے خوب تحقیق کر لے کہ یہ معالج کیسا ہے  اس کے بعد ہی رابطہ کرے اور  ان کے لگائے گئے احکام اور بتائے گئے علاج پر کاربند ہو تاکہ سلامتی کے ساتھ علاج مکمل ہو اور مریض سحر جادو شیاطین یا جنات سے نجات حاصل کرے ،لیکن افسوس ایسا ہوتا نہیں لوگ ایک مسئلہ کے لئے مختلف عاملین سےرابطہ کر تےہیں ظاہر ہے ہر کسی کی تشخیص الگ الگ ہوگی اور یہ ایک بدیہی امر ہے جیسے ڈاکٹروں کے رپورٹس جدا ہوتے ہیں ، اس طرح وہ تشخیص کے مرحلے میں ہی تردد کا شکارہوکر روحانی معالجین سے بد ظن یا سوئے اعتقاد میں مبتلا ء ہو جاتا ہےاور اگریہ نہ ہو تو کم از کم جو اس کا سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے  وہ یہ کہ مختلف عاملوں کی فاعل قوتِ نفسی ان کے بتائے گئے احکام و علاج کے ذریعہ سائل کے مفعول نفس و قلب  پر اثر انداز ہوتے ہیں اس طرح جو مسئلہ چند ہفتوں میں حل ہونا چاہئے اسے مہینوں لگ جاتے ہیں   اس لئے فقیر قادری کہتا ہے کہ روحانی مرض خواب کی مثل ہے جیسے خواب بیان کرنے سے قبل خوب غور و فکر کرتے ہیں کہ کس کو بتاکر تعبیر لی جائے ایسے ہی خدا نخواستہ آپ کسی روحانی مرض سے شکار ہوں ہو پہلے خوب چھان بین کیجئے جب اعتماد ہوجائے تب رابطہ کیجئے کیوں کہ کوئی بھی روحانی معالج جب تشخیص کے بعد علاج تجویز کرتا ہے تو اس تجویز شدہ باتوں کا پورا کرنا علاج کے لئے نہایت ضروری اور لازمی ہو جاتا ہے ورنہ علاج مکمل نہیں ہوتا میری اس بات سے ہر اس شخص کو  اتفاق ہوگا جو روحانی علاج  و معالجہ کا شغل رکھتا ہے اس واسطے میں نے عنوان قائم کیا کہ روحانی علاج خواب کی تعبیر کے مثل ہے جیسی دی جائے ویسے ہو جاتی ہے اس کی بے شمار نظیر میرے سامنے ہے مثلاً آج  میں نے کسی خاتون کا علاج کیا جسے شیطانی اثرات تھے ان کا علاج شروع کرنے سے قبل میں نے ان کے شوہر کو بتایا کہ بھئی دورانِ چلہ ان کے نام سے ایک بکری صدقہ کی نیت سے کسی مدرسے میں دینا ہے انہوں کہا جی ٹھیک ہے  چلہ مکمل ہو گیا اور مریضہ اچھی ہو گئی ،جب فائدہ ہو جاتا ہے تو کوئی کیوں بتانے آئے لہذا ایسا ہی ہوا وہ صاحب اپنے مسئلے کے ساتھ غائب ہو گئے لیکن ایک سال کے بعد پھر ہانپتے کانپتے آئے اور کہنے لگے میری اہلیہ وہی سب حرکتیں پھر سے کر رہی ہے میں نے تشخیص کری تو کچھ نا آیا پھر معاً مجھے القا ء ہوا کہ کہیں اس نے صدقہ سے  تو ہاتھ نہیں روک لیا تھا میں  نےبرجستہ اس شخص سے کہا جو صدقہ تمہیں بتایا گیا کیا وہ تم نے کیا تھا؟ بولا نہیں میں نے سوچا فائدہ ہو رہا ہے تعویذ سے تو رہنے دو میں نے کہا ابھی جا اور ایک بکری خرید وہ شخص اٹھا بازار گیا جانور خرید کر مدرسہ میں دے کر گھر چلا گیا گھر پہنچ کر مجھے فون پر بولتا ہے ابھی میری اہلیہ کچھ ٹھیک ہے میں نے تین دن میں بالکل ٹھیک ہو جائے گی اوراللہ کے فضل ویسا ہی ہوا 

شوقیہ تشخیص کرانے والے لوگوں کا حال
روحانی معالجین کے پاس اکژ ایسے لوگ بھی رابطہ کرتے ہیں جن کو کوئی مرض روحانی نہیں ہوتا بس شوقیہ سوال کرتے ہیں کہ زرا دیکھئے کوئی جادوبندش وغیرہ تو نہیں میرے ساتھ ،اور کہتے ہیں حضرت زرا اچھا سے چیک کر کے بتائیے   اس طرح وہ خود کو خوامخواہ مصیبت میں ڈالتے ہیں کہ اگراس  عامل کی قوتِ نفسی  فاعل ہوئی تو اس کے لگائے گئے احکام کا اثر سائل کے نفس تک پہنچتا ہے اور خدا نخواستہ اگر نیت امتحان کی ہو اور عامل اپنے تشخیص میں بھی خوب اخلاص کا مظاہرہ کرے تو سائل کی حالت اس نانبائی کی طرح ہو جائے گی جس کا قصہ آپ اوپر پڑھ آئے ہیں کہ اس نے خواب تو نہیں دیکھا تھا لیکن ہنسی یا آزمائش کے طور پر حضرتِ یوسف علیہ السلام کو جھوٹا خواب بتاکر تعبیر لینا چاہتا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے موت کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا اس طرح کے بہت سارے واقعات مختلف  بزرگوں کے آپ نے سنے ہوں گے کچھ لوگوں نے بطورِ آزمائش  ایک بندے کو مردےکی کھاٹ پر لٹا کر بزرگ کے پاس لائے اور کہا حضرت جناہ پڑھا دیجئے جب بزرگ نے جنازہ پڑھا دیا تو بات مکمل ہو گئی اور کام تمام ہو گیا  ان مثالوں کے دینے سے کوئی یہ گمان ہرگذ نہ کرے کہ کوئی بھی روحانی معالج یا عامل جو کہہ دیتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے ،نہیں بلکہ تعبیرِ خواب اور تشخیصِ مرض کے مابین جو نکتئہ روحانی مشترک ہے یہاںصرف اسی سے کام ہے   اور سمجھانا صرف یہ مقصود ہے کہ جس طرح خواب دیکھ کر تعبیر لینے کے اصول ہیں اور بنا خواب دیکھے جھوٹا خواب گڑنا فضول ہے اسی طرح اگر آپ کسی روحانی مرض کے شکار نہ ہوں تو بلا وجہ شوقیہ تشخیص و استخارے کرواتے نہ پھریں کہ کسی بندہ خدا کے ہتھے چڑھ گئے تو لینی کے دینی پڑجائے گی الامان والحفیظ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح فکر اور علمِ نافع عطاء فرمائے

سچا سائل و حاجتمند بادشاہ کےساقی کی طرح ہے
ساقی اور نانبائی کے خواب  کے متعلق  تین قسم کے  اقوال   کتبِ تفاسیر میں ملتے ہیں  ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ نانبائی نے جھوٹا خواب دیکھا تھا اور ساقی نے سچا لہذا ساقی کا تعبیر دریافت کرنا  بالکل صحیح تھا اور نانبائی کا نہایت غلط اس واسطے تعبیر ِ رویا سے فائدہ صرف ساقی کو پہنچا اور کامیاب ہوا جبکہ نانبائی ناکام ہوکر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ،اسی طرح جو سچا سائل یا حاجتمند ہوتا ہے وہ فائز المرام ہوتا ہے اور تشخیصِ مرض کا فائدہ صرف اسے ہی پہنچتا ہے حتیٰ کہ اس کا علاج مکمل ہوتا ہے اور وہ روحانی معالج سےمکمل یا  مثبت استفادہ کرتا لیکن جو سائل بناوٹی ہوتا ہے وہ نانبائی کی طرح شوقیہ تشخیص کرواتا پھرتا ہے اور اپنے زعم میں استفادہ توکرتا ہے لیکن وہ استفادہ نا مکمل یا منفی ہوتا ہے
اس موضوع پر کہنا تو بہت کچھ ہے لیکن اختصار بھی مطلوب ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو علمِ نافع عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم