Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

मंगलवार, 28 अप्रैल 2020

ذکر خدا تحفظ کی ضمانت ہےاز ہر بلاء و ابتلا Zikr e Khuda Tahaffuz Ki Zamanat Hai Har Bala Se

ذکر خدا تحفظ کی ضمانت ہےاز ہر بلاء و ابتلا
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا   وَ اذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ  اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پرکہ فلاح پاؤ(پ28، الجمعہ :10)  اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللہَ ذِکْرًا کَثِیۡرًا ﴿ۙ41﴾وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿42﴾ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿43﴾ اے ایمان والو! اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح وشام اس کی پاکی بولو وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فر شتے کہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طر ف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔(پ 22 ،الا حزاب : 41 تا 43)  اسی طرح حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' کسی بندے نے اللہ عزوجل کے ذکر سے بڑھ کر عذاب سے نجات دلا نے والا کوئی عمل نہیں کیا۔'' عرض کیا گیا ،''کیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنابھی نہیں؟ فرمایا ،'' اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنا بھی نہیں مگر جب کہ لڑتے لڑتے اس کی تلوار ٹوٹ جائے۔''(طبرانی اوسط ، من اسمہ ابراھیم ، رقم ۲۲۹۶ ، ج ۲ ،ص ۳) معلوم ہوا کہ فلاح پانے ،ظلمت سے نور کی طرف نکلنے اور عذاب ِ الہی سے نجات کا صرف اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے ذکرِخدا  کہ اس کی بدولت ہم دنیا و آخرت کی ہر سختی ہر بلاءہر وباء سے نجات حاصل کر سکتے ہیں لہذا ہمہ وقت خود کو ذکر ِقلبی و ذکر لسانی  میں مشغول رکھیں فرائض و واجبات کے ساتھ نوافل کی کثرت اور تہجد کا اہتمام کریں،درود شریف کو وردِ زبان  اورتلاوتِ قرآن کو اپنے معمولات کا جزو لاینفک بنا لیں،توبہ و استغفارکو اپنی عادتِ ثانیہ قرار دیں وما توفیقی الا با اللہ