Monday, January 16, 2023

Elaj Roohani Me 33 Aayat Ki Ahammiyat o Ifadiyat علاج ِ روحانی میں سی و سہ ۳۳؎ آیات کی اہمیت و افادیت


 

از۔شیخ الروحانیات صوفی محمد عمران رضوی القادری

الاوفاق۳؎AL-AUFAAQ#3

علاج ِ روحانی میں سی و سہ ۳۳؎ آیات کی اہمیت و افادیت

قرآن مقدس کی وہ مخصوص تینتیس آیتیں جن کا چرچا ہر زمانے میں خواص و عوام میں رہا اور ہمیشہ رہےگا یہ وہ آیات ہیں جن کا پڑھنے والا ہر قسم کے جادو ٹونے ،آسیب جن شیطان آفات و بلیات سے محفوظ رہتا ہے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنے والد ماجد رحمہ اللہ سے اس کی خاصیت قول جمیل میں نقل فرمائی  جب سے بطورِ خاص سی و سہ آیات  مشائخ نقشبندیہ مجددیہ کے معمول میں رہا اور مریدوں کو اس کی تعلیم کرتے رہے ہیں ، اسی طرح سلسلہ قادریہ چشتیہ اور دیگر سلاسل میں بھی بکثرت ان  آیات کے پڑھنے پڑھانے کا اہتمام ہے، راقم السطور فقیرِ قادری عرض کرتا ہے کہ آسیب اور خبیث جن کا مکمل و محتاط  علاج ان آیات کے سوا   آپ کو کہیں نا ملے گا ان کے ذریعہ علاج کرنے پر عامل و مریض ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہتے ہیں ،یہ وہ آیات ہیں جن کو آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یک جا کرکے سب سے پہلے ایک آسیب زدہ پر دم کیا تھا جس کی برکت سے وہ آسیب زدہ پل بھر میں شفایاب ہوگیا مسند احمد بن حنبل کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن ابى لىلىٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہىں کہ مجھ سے حضرت ابى بن کعب رضى اللہ عنہ بىان فرماتے ہىں ، مَیں نبى اکرم کى خدمت اقدس مىں بىٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابى آکر کہنے لگا اے اللہ کے نبى صلی اللہ علیہ وسلم  میرا ایک بھائى ہے جسے شدىد تکلىف ہورہى ہے ، آپ نے پوچھا اُسے کىا تکلىف ہے؟ اعرابى نے کہا اُسے آسىب کا اثر ہوگىا ہے، آپ نے فرماىا اُسے مىرے پاس لاؤ، وہ اعرابى گىا اور اپنے بھائى کو لا کر حضور  کے سامنے بٹھا دىا، آپ نے اس پر (مندرجہ ذىل) آیات پڑھ کر دم کىا، سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ کے شروع کى چار آىتىں اور ىہ دو آىتىں وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ آىۃ الکرسى، سورۂ بقرہ کى آخرى تىن آىتىں، سورۂ آل عمران کى اىک آىت شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سورۂ اعراف کى اىک آىت إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض سورۂ المومنىن کى آخرى آىت فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ سورۂ جن کى اىک آىت وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا سورۂ والصّافات کے شروع کى دس آىتىں، سورۂ حشر کى آخرى تىن آىتىں، قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ،قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ آپ کے دم کرنے سے وہ شخص اس طرح اُٹھ کھڑا ہوا گوىا اسے کوئى تکلىف ہوئى ہى نہىں تھى

(مسند احمد)                                 

                                             اس حدیث سے پتہ چلتا ہے ان آیات سے آسیب زدہ کا علاج کرنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مقدس کی تینتیس آیات کو آسیب زدہ کے علاج کے لئے منتخب فرمایا اور یک جا کیا اور انہیں پڑھ کر اس آسیب زدہ  کو دم فرمایا ،لہذا اس سے دو باتیں سمجھ آئیں ایک یہ کہ تینتیس آیات کے ذریعہ آسیب و جن کا علاج کرنا یہ عین سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے مطابق ہوا اور جو بات سنت کے مطابق ہو اس میں علاج کرنے والے کو ضرر کا اندیشہ نہیں ہوتا  اور مریض بھی جلد شفایاب ہو جاتا ہے ،دوسرا یہ کہ آسیب و جن کا اثر انسانوں پر ہو جاتا ہے اور اس کا علاج بھی دم درود سے کیا جاتا ہے اور یہ حق ہے ۔

علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ بچ گئے

حضرت علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہىں ایک مرتبہ ہم نے نہر تىرى کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں کے کچھ لوگ ہمارے پاس آکر کہنے لگے کہ تم لوگ ىہاں سے چلے جاؤ کىونکہ اس جگہ ہمارے پاس جو بھى ٹھہرتا ہے اس کا سامان لوٹ لىا جاتا ہے یہ سُن کر مىرے رفقاء تو آگے چلے گئے مَىں وہىں ٹھہرا رہا کىونکہ مجھے وہ حدىث یاد تھى جو مجھ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  سے نقل کى تھى کہ آپ نے فرمایا جو شخص رات کو (مذکورہ) 33 آىات پڑھ لے گا تو اُسے کوئى موذى درندہ اور اچانک آنے والا چور کسى قسم کا نقصان نہىں پہنچا سکے گا اور صبح تک اسے اس کى جان و مال اور اہل وعىال مىں عافیت دے دى جائے گى، جب شام ہوئى تو مَىں سویانہىں کیا دىکھتا ہوں کہ(کچھ لوگ) تىس سے زائد مرتبہ ننگى تلوارىں لىے ہوئے مجھ پرحملہ آور ہوئے لىکن مجھ تک نہىں پہنچ سکے، صبح کو جب مىں وہاں سے روانہ ہوا تو مجھے ان افراد مىں سے اىک بوڑھا شخص ملا اور پوچھنے لگا کہ تم انسان ہو یاجن؟ مىں نے کہا مَىں انسان ہوں وہ بولا یہ کىا ماجرا ہےکہ ہم تم پر ستّر مرتبہ سے زىادہ حملہ آور ہوئے لیکن تمہارے اور ہمارے درمىان لوہے کى ایک  دىوار آڑے آتى رہى مَىں نے اُس بوڑھے کو وہ حدىث شرىف (جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے33 آیات والى سنى تھى ) بتلائى وہ 33 آىات درج ذىل ہىں سورۂ بقرہ کے شروع کى چار آىتىں مُفْلِحُوْنَ تک ، آىت الکرسى اور اس کے بعد کى دو آىتىں خَالِدُونَ تک ، سورۂ بقرہ کى آخرى تىن آىتىں (لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ)سے لے کر آخر سورت تک، سورۂ اعراف کى تىن آىتىں (إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي) سے لے کر الْمُحْسِنِينَ تک ، سورۂ بنى اسرائىل کى آخرى آىتىں قُلِ ادْعُوا اللَّهَ سے لے کر آخر تک ، سورۂ وَ الصَّافّات کى شروع کى دس آىتىں لَازِبٍ تک، سورۂ رحمٰن کى دو آىتىں يَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ سے لے کر فَلَا تَنْتَصِرَانِتک ، سورۂ حشر کى آخرى تىن آىتىں (لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ) سے لے کر آخر سورت تک، اور سورۂ جن کى دو آىتىں (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ) سے لے کر شَطَطًا تک اس واقعے سے ہر قسم کے نقصانات آفات و بلیات چور ڈاکو دشمنوں سے حفاظت کے باب میں  ان آیات کی اہمیت و افادیت کا پتہ چلتا ہے ۔

 

Featured Post

AL AUFAAQ (Vol-14) الاوفاق

Book Your Copy Now +91-9883021668