Thursday, January 20, 2022

Musibat Se Qabal Hi Nemat Ki Qadr Kijye مصیبت سے قبل ہی نعمت کی قدر کیجئے

 

قبل از مصیبت نعمت کی قدر کیجئے

فرمایا نعمت ایک پرندہ ہے اسے شکر کے پنجڑے میں قید رکھواور جو یہ چاہتا ہے کہ اسے حاصل شدہ نعمت کبھی زائل نہ ہو بلکہ اس میں اضافہ ہوتا رہے تو اسے چاہئیے کہ نعمت کی معرفت حاصل کرے  شیخ سعدی قدس سرہ ٗنے فرمایا ایک بادشاہ عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں بیٹھا تھا اس غلام نے اس سے قبل نہ دریا دیکھا تھا نہ کشتی میں بیٹھنے کی نعمت سے آگاہ تھا اس لئے آہ و زاری شروع کر دی بلکہ کانپنے لگا تمام کشتی والے سمجھاتےاور تسلی دلاتے لیکن کسی ایک نہ مانتا بادشاہ بھی پریشان ہوا لیکن کیا کر سکتے تھے جبکہ وہ کسی کی مانتا ہی نہیں تھا ایک سمجھ دار انسان کشتی میں تھا اس نے بادشاہ سے کہا حکم ہو تو میں اسے خاموش کرادوں بادشاہ نے کہا زہے کرم اس نے کہا غلام کو دریا میں پھینک دو جب اسے کشتی سے اٹھا کر دریا میں پھینکا گیا تو اس نے دو چار ڈبکیاں کھائیں  پھر اسے دریا سے نکال کر کشتی کے ایک کونے میں بٹھا دیا گیا پھر تو نہایت سکون اور خاموشی سے بیٹھ گیا بادشاہ حیران ہوا اور اس سمجھدار انسان سے ا س کا ماجرہ پوچھا تو اس نے کہا کہ اس غلام نے اس سے پہلے کبھی غرق ہونے کا دکھ نہیں دیکھا تھا اور نا  ہی وہ کشتی میں بیٹھنے کی نعمت سے باخبر تھا لیکن اب اسے معلوم ہوا کہ دریا میں غرق ہونا کیسا عذاب ہے اور کشتی میں سوار ہونا کیسی نعمت کیوں کہ نعمت کی قدر مصیبت کے بعد ہوتی  لہذا نعمت پر خدا کا شکر لازم ہے اور عطاء پر اس کی اطاعت ضروری   ہر انسان کو ضروری ہے کہ طریق ِ معرفت ِ نعمت میں جد و جہد کرے اس لئے کہ انسان کو اس کے گناہوں کے باوجود  مہلت دینے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اپنی خامی و کوتاہی کا تدارک کرے اور وقت رہتے سنبھل جائے تاکہ نعمتِ خدا واندی سے ہمیشہ لطف اندوز ہوتا رہے کون یہ چاہے گا کہ اسے غلام کی طرح دریائے مصیبت میں پہلے غرق کیا جائے پھرجاکے اسے حاصل شدہ نعمت کا احساس ہو لہذا نعمت کے چھن جانے کے خوف سے ہی نعمتِ خداوندی کی قدر پہچاننےکی کوشش کی جائے ۔