Featured Post

Sharaf e Aftab Ka Waqt 2026 | Sun glory timing | شرف آفتاب کا وقت

Image
  اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے: شرفِ آفتاب 2026 کا وقت ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے:  * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔  * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔  * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔ اہم نقوش اور اعمال  * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔  * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔  * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔ نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب  * یہ نقوش کاغذ پر...

Musibat Se Qabal Hi Nemat Ki Qadr Kijye مصیبت سے قبل ہی نعمت کی قدر کیجئے

 

قبل از مصیبت نعمت کی قدر کیجئے

فرمایا نعمت ایک پرندہ ہے اسے شکر کے پنجڑے میں قید رکھواور جو یہ چاہتا ہے کہ اسے حاصل شدہ نعمت کبھی زائل نہ ہو بلکہ اس میں اضافہ ہوتا رہے تو اسے چاہئیے کہ نعمت کی معرفت حاصل کرے  شیخ سعدی قدس سرہ ٗنے فرمایا ایک بادشاہ عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں بیٹھا تھا اس غلام نے اس سے قبل نہ دریا دیکھا تھا نہ کشتی میں بیٹھنے کی نعمت سے آگاہ تھا اس لئے آہ و زاری شروع کر دی بلکہ کانپنے لگا تمام کشتی والے سمجھاتےاور تسلی دلاتے لیکن کسی ایک نہ مانتا بادشاہ بھی پریشان ہوا لیکن کیا کر سکتے تھے جبکہ وہ کسی کی مانتا ہی نہیں تھا ایک سمجھ دار انسان کشتی میں تھا اس نے بادشاہ سے کہا حکم ہو تو میں اسے خاموش کرادوں بادشاہ نے کہا زہے کرم اس نے کہا غلام کو دریا میں پھینک دو جب اسے کشتی سے اٹھا کر دریا میں پھینکا گیا تو اس نے دو چار ڈبکیاں کھائیں  پھر اسے دریا سے نکال کر کشتی کے ایک کونے میں بٹھا دیا گیا پھر تو نہایت سکون اور خاموشی سے بیٹھ گیا بادشاہ حیران ہوا اور اس سمجھدار انسان سے ا س کا ماجرہ پوچھا تو اس نے کہا کہ اس غلام نے اس سے پہلے کبھی غرق ہونے کا دکھ نہیں دیکھا تھا اور نا  ہی وہ کشتی میں بیٹھنے کی نعمت سے باخبر تھا لیکن اب اسے معلوم ہوا کہ دریا میں غرق ہونا کیسا عذاب ہے اور کشتی میں سوار ہونا کیسی نعمت کیوں کہ نعمت کی قدر مصیبت کے بعد ہوتی  لہذا نعمت پر خدا کا شکر لازم ہے اور عطاء پر اس کی اطاعت ضروری   ہر انسان کو ضروری ہے کہ طریق ِ معرفت ِ نعمت میں جد و جہد کرے اس لئے کہ انسان کو اس کے گناہوں کے باوجود  مہلت دینے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اپنی خامی و کوتاہی کا تدارک کرے اور وقت رہتے سنبھل جائے تاکہ نعمتِ خدا واندی سے ہمیشہ لطف اندوز ہوتا رہے کون یہ چاہے گا کہ اسے غلام کی طرح دریائے مصیبت میں پہلے غرق کیا جائے پھرجاکے اسے حاصل شدہ نعمت کا احساس ہو لہذا نعمت کے چھن جانے کے خوف سے ہی نعمتِ خداوندی کی قدر پہچاننےکی کوشش کی جائے ۔



Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )