بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔
ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔
اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے: شرفِ آفتاب 2026 کا وقت ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے: * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔ * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔ * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔ اہم نقوش اور اعمال * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔ * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔ * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔ نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب * یہ نقوش کاغذ پر...
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
Aaseb Ki Hazri Wale Marizo'n Ka Ilaj آسیب کی حاضری والے مریضوں کا علاج
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
-
آسیب کی حاضری والے مریضوں کا علاج
از صوفی محمد عمران رضوی
القادری
اگر کسی پر آسیب و جنات کی
حاضری رکتی نہیں یا کچھ عرصہ رک کر دوبارہ شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ میرے احباب
میں سے کسی نے بتایا کہ وہ چار پانچ سالوں سے کسی آسیب زدہ لڑکی کا علاج کر رہے
ہیں لیکن حاضری بند نہیں ہوئی لہذا کچھ تجویز کیا جائے تو جاننا چاہئے کہ آسیب کے
علاج میںعامل کا جو سب سے بڑا ہتھیار ہے
وہ اس کی قوتِ ارادی و قوتی نفسانی ہےاور ساتھ ہی عامل کو نفسیات کا بھی کچھ علم
ہونا ضروری ہے تاکہ وہ مریض یا مریضہ کے نفسیات کا مطالعہ بھی کرے کیوں کہ حاضری
والے مریض محض آسیبی مریضنہیں ہوتے وہ
نفسیاتی مریض بھی ہوتے ہیں اس اعتبار سے فقیر کے نزدیک حاضری والے مریض دو طرح کے
ہوتے ہیں ان کی یوں درجہ بندی کر سکتے ہیں
قسم اول :مغلوب ازآسیب مع نفسیات
قسم دوم : مغلوب ازنفسیات مع آسیب
کبھی آسیب کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور نفسیاتی
اثر کم ایسے مریضوں کو مکمل آسیب زدہ یا مغلوب از آسیب مع نفسیات کہ سکتے ہیں اور
کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو اگرچہ آسیب کا اثر ہوتا ہے لیکن ان پر نفسیاتی اثر
کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے تو ایسے مریضو ں کو مغلوب از نفسیات مع آسیبکہ سکتےہیں کیوں کہ ایسے مریض یا مریضہ کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ جب تک خود کو
آسیبی قوت کے حوالے نہیں کرتے]اس خود سپردگی کی بہت ساری صورتیں ہو
سکتی ہیں[ان پر حاضری نہیں ہوتی اور
جب ان کی نفسیات یہ تقاضا کرتی ہے کہ ان پر حاضری ہو یا یہ کہ وہ خود کو آسیب زدہ
یا مظلوم اور دوسروں کو ظالم تصور کرتے ہیں اور مفروضہ ظالم یا ظلم پر قابو پانے
کی کوئی صورت انہیںنہیں دکھتی تو اچانک
ان پر آسیب کی حاضری شروع ہو جاتی ہے ہم یہاں یہ نہیں کہ سکتے کہ ایسے مریض آسیب
کی حاضریکا ڈھونگ کرتے ہیں ہاں کچھ ضرور
کرتے ہیں لیکن یہاں وہ معاملہ خارج از بحث ہےبات در اصل یہ ہے کہ آسیب زدہ ہر دو قسم کے مریضو کا نفس مغلوب ہوتا ہے
لیکن قسم اول کا زیادہ اور قسم دوم کا کم اس لئے قسم اول یعنی مغلوب از آسیب مع
نفسیات پر حاضری کے لئے آسیب کو مریض کی مرضی یا خواہش کی حاجت نہیں ہوتی کیوں کہ
اسے مریضوں کا نفس فاعل نہیں رہ جاتا کہ اپنا دفاع کرے وہ مطلق مفعول ہو جاتا ہے
اور آسیب جب چاہے جس طرح چاہے ان پر سوار ہوجاتے ہیں بر خلاف اس کے قسم دوم یعنی
مغلوب ا ز نفسیات مع آسیب کا نفسمفعول
ہونے کے ساتھ قدرے فاعل بھی ہوتا ہے کہ اگر چاہے تو اپنی فاعل نفس کہ ذریعہ قوتِ
مدافعت کوحرکت دے اورآسیب کیحاضری نا
ہونے دےاور ایسا اکثر ہوتابھی ہے لیکن مریض کو اس بات کا شعور نہیں وہ
لا شعوری طور پر ہی سہی لیکن اس کی قدرت رکھتا ہے،ظاہر ہے ان باتوں کا علم نا تو
مریض کو ہوتا ہے اور نا اکثر جھاڑ پھونک کرنے والے معالج کو، لہذا ایسے مریضوں کی حاضری ممکن ہے سالہا
سال محض نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جاری رہے کیوں کہ یہاں معالج کی توجہ صرف حاضری
پر ہوتی ہے حاضری کی نفسیات یا نفسیاتیوجوہاتپر نہیں ،پھر یہ کہ ہرکسی
کی نفسیات جدا جدا ہوتی ہے اس وجہ سے حاضری کی وجہ بھی مختلف ہوں گی معالج کو
چاہئے کہ سب سے پہلے نفسیاتی وجہ تلاش کرے مریض یا مریضہ سے از اول تا آخر مکمل
روداد سنے اور اسے یہ یقین دلائے کہ اس کہ پاس اللہ کے فضل سے اس کی ہر پریشانی
کا حل موجود ہے جب مریض کو معالج پر یقین پختہ ہوگا تو وہ اپنے دل میں چھپے ہر
ایک بات کو معالج کے سامنے بیان کرنا شروع کر دےگا مثلاً اس کے گھر والے اس پر
فلاں فلاںپابندی عائد کرتے ہیں یا اسے
کسی سے عشق ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے غرض کہ اور بھی سینکڑوں وجوہات
الگ الگ مریضوں کے ہوں گے ،ممکن ہے مریض یہ سب خود سے نا کہے تو معالج کو چاہئے
کہ اس کے اہل خانہ سے مکمل تفصیل حاصل کرے اور قرینے سے مسئلے کی تہ تک جائےاور پھر اُس نفسیات کے مناسبِ حال انذار و
تبشیر مریض کو کرے یا اس کے اہل خانہ سے کرائے اور اہل خانہ کو بھی تلقین کریں کہ
مریض پر حاضری کے وقت اسے گھیر کر نا بیٹھ جائیں اور جاہلانہ سوال مثلا ً تم کون
ہو کہاں سے آئے ہو کس ے بھیجا ہے وغیرہ وغیرہ ہر گذ نا کریں بلکہ اس وقت اہل خانہ
کا رویہ مریض کے لئے نارمل ہونا چاہئے نا مریض کی حرکتوں سے پریشان ہوکر اسے برا
بھلا کہنا شروع کر دیں اور نا ہی مریض سے سوالات کر کے اس پر چڑھے آسیب کو اہمیت
دیں بلکہ مریض کو اس کی ظاہری حالت کی ابتری کا احساس دلائیں اور اس وجہ سے اس کے
یا اس کے بچوں کی مستقبل کو جو خطرہ لاحق ہے وہ بتائیںتاکہ مریض شفا یابی کے لئے اپنی قوتِ مدافعت
کو بروئے کار لائے اور علاج کے لئے مکملطور پر تیار ہو جائے کہ جب تک یہ نا ہوگاایسے مریضوں کا علاج شروع کرنا نا کرنا برابر ہے، اور قسم اول یعنی مغلوب از آسیب مع نفسیات
کے علاج میں محض روحانی علاج پر توجہ رہےکیوں کہ اس قسم کے مریض اکثر مخبوط الحواس ہوتے ہیں ان کا ذہن ماوف ہوجاتا
ہے بات کہاں سے کہاں پہنچی اب آئیے حاضری والے مریضوں کا طریقہ علاج جانتے
ہیںایک طریقہ تو الاوفاق قسط دوم میں
شائع کر چکا اس میں جو نکات میں نے دفع آسیب کے بتائے ہیں وہی ہر جگہ ملحوظ رکھنا
ہے خواہ نقوش و تعویذات اور گنڈے یا غسلو چراغ اور پلیتے انواع اقسام کے ہوں ،یہاں چنددیگر نسخہ جات لکھے دیتا
ہوں
گنڈہ برائے آسیب
مریض کے قد کے برابر ۲۱ تار
کچا سفید رنگ کاناپ لیں پھر انہیں ہلدی
کے پانی سے رنگ لیں بعدہ اس پر ۲۱ گرہیں لگانی ہے ہر گرہ پر ۷ مرتبہ سورہ مزمل
شریف پڑھ کر دم کرنا ہےیہ گنڈہ مریض کے
گلے میں یا کمر میں ڈلوا دیں اور تاکید کر دیں کہ جب تک مکمل افاقہ نہیں ہوتا اس
کو نہیں کھولنا ہے
نقش برائے آسیب
آیۃ الکرسی شریف کا نقش
مثمن حرفی نقش اس طریح لکھیں کہ اس کے اطراف میں حرزِ ابو دجانہ ہو یہ گلے میں
ڈالیںاور دونو بازو پر باندھنے کے لئے
آیت قطب و آیت غوث کے نقوش مثمن یا مربع لکھ کر دیں اور تاکید کر دیں کہ یہ نقوش پانی
سے خراب نہ ہونے پائے لہذا غسل کے وقت اتار دیں بعد غسل فوراً ڈال لیں
پینے والے تعویذات
اس واسطے سورہ بقرہ یا سورہ
جن یا جو بھی آپ کے معمول کا نقش دفع آسیب کے لئے ہو زعفران سے لکھ کر پینے کے
لئے لازمی طور پر دیا جائے
چراغ و پلیتہ
نقش سورہ جن مع عزیمت بطورِ
پلیتہمریض کے پہنے ہوئے پاک کپڑَے میں
لپیٹ کر کورے مٹی کے چراغ میں کم از کم ۴۱ دن جلوائیں اس پلیتے میں مریض کے سر کا
بال بھی شامل کریں
غسلِ شفاءاز آسیب
بیری کے سات پتوں والا غسل
مسلسل ۴۱ دنوں تک کرائیںاس کا طریقہ یہ
ہے کہ سات تازہ پتوں کو دو پتھروں سے کچل کر ایک پیالے میں پانی بھر کرڈالیں اور
بیر کی شاخ سےاس پانی کو جنبش دیتے ہوئے
الحمد شریف چہار قل و آیۃ الکرسی پڑھیں بعدہ اس پانی کو زیادہ پانی میں ملاکر
مریض کو غسل کرائیں
نیلا کپڑا سرسو تیل
اگر بیر کے پتے دستیاب نہ
ہوں تو اس طرح کریں کہ سرسو تیل اور نیلے کپڑےپر ایک سو دس مرتبہ ناد علی شریف پڑھ کر دم کریں اور مریضکو سر سے لیکر پاوں تک تیل لگا کر ایک گھنٹہ
کا وقفہ دیںپھر نیلے کپڑے سے تیل پونچھ
کر کپڑے کو جلا دیں اور مریض غسل کر لے یہ بھی مسلسل ۴۱ دن کم از کرانا ہے
صدقہ برائے دفع آسیب
ایسے مریضوں کے علاج میں
صدقہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس سے مرض کی سختی میں بہت جلد کمی واقع ہوتی
ہے صدقات بہت سارے ہیں ان میں عمدہ و آسان صدقہ بکرے کا ہے چاہئیے کہ بروز منگل
ایک تندرست بکرا لے کر مریض یا مریضہ کے گرد سات مرتبہ بنیت صدقہ پھرائےاور اس طرح کے ایک چکر میں تیسرا کلمہ الا با
للہ تک پڑھیں کل سات مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھا جائےگا اور سات چکر مکمل ہوں گے ،اس
بکرے کو کسی مدرسے میں دے دیں یا اسے ذبح کرا کے اس کا گوشت غریبوں میں تقسیم
کرائیں یہ صدقہ سات ،پانچ،تین یا کم از کم ایک مرتبہ ضرور کرنا چاہئے اگر کوئی
بکرا صدقہ کرنے کی حیثیت نہیں رکھتا تو مرغ کا صدقہ مذکورہ بالا طریقے سے سات
منگل کرے ہاں مرغ کو اٹھا کر مریض کے سر پر سات گھمائے اور تیسرا کلمہ پڑھے اگر
مریض بھی ساتھ میں پڑھے تو پڑھ سکتا ہے بلکہ ایسے مریضوں کو تیسرے کلمے کی خوب
کثرت کرائیں لا تعداد ہر وقت پڑھنے کی تلقین کی جائے
ADAD NIKALNE KA AASAN TARIQA KISI BHI NAAM KA ADAD NIKALNE KA AASAN TARIQA YEH HAI KE NAAM KE HUROOF KO MUFARRAD YANI ALAG ALAG LIKH LE.N PHIR IN HUROOF KE ADAAD ABJAD QAMRI SE HAASIL KARKE SAB KO JAMA KARDE.N TO NAAM YA KISI BHI KALMA KA SAHEEH ADAD BAR AAMAD HOJAYEGA MASLAN HUME.N KASHIF KHAN KE ADAD NIKALNE HAIN TO YOU.N LIKHE.N GE KAAF ک 20 ALIF الف 1 SHEEN ش 300 FA ف 80 KHA خ 600 ALIF الف 1 NOON ن 50 IN SAB KO JAMA KARNE PAR 1052 ADAD NIKLA BAHISAAB ABJAD QAMRI YEH KASHIF KHAN KA ADAD MAKTUBI HAASIL HUA IS TARIQE SE AAP KISI BHI SHAI KA ADAD BA AASANI NIKAL SAKTE HAI.N JADWAL ABJAD QAMRI YEH HAI ا ب ج د ہ و ز ح ط ی 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ک ل م ن س ع ف ص ق ر 20 30 40 50 60 70 80 ...
MUKHTASAR FAWAYED ISMAYE BARI TA’ALA YA HOO: ISME ZAAT BARI TA’ALA HAI SAHAB TANWEER UL ASMATEHREER FARMATE HAI KE AHLE TAHQEEQ NE ISM E AZAM KAH-A HAI AUR YE KHAAS TAREEN ISM HAI-ASMAYE BARI TA’ALA SE AUR ASMAAYE HASNAH ME SAB SE PEHLE WAQEA HUA HAI AGAR KOI SHAKHS 29 MARTABA YA HOO KAHE TO ATISHE DOZAKH US PAR HARAAM HO-JIS KA DIL AKHERAT KE ANJAM SE LARZA WATARSA HO ALLAH’HU KA ZIKR KARE HASHR ME MUTMAEEN HOGA- TANWEERUL ASMA ME HAI HUZOOR SALLALLAHU ALAIHE WASALLAM NE IRSHAD FARMAYA AGAR KOI SHAKHS PANCHSHAMBA KO ROZA RAKHE AUR CHINI KE PYALE PAR LA’ILAHA’ILALLAHU LIKH KAR AABE BARA.N YA AABE CHASHMA SE DHO KAR ROZA IFTAR KARE MARZ NASYAAN KHATAM HO JAYE JO YAAD KARE KABHI NA BHULE MASHOOR KO PILAYE SEHAR DAFA HO AGARLIKH KAR APNE PAAS RAKHE TO HAR BALA SE MAHFUZ RAHE –DUSHMANO PAR MUZAFFAR O ...