मंगलवार, 16 जून 2020

Aaseb Ki Hazri Wale Marizo'n Ka Ilaj آسیب کی حاضری والے مریضوں کا علاج

     آسیب کی حاضری والے مریضوں کا علاج
    از صوفی محمد عمران رضوی القادری
    اگر کسی پر آسیب و جنات کی حاضری رکتی نہیں یا کچھ عرصہ رک کر دوبارہ شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ میرے احباب میں سے کسی نے بتایا کہ وہ چار پانچ سالوں سے کسی آسیب زدہ لڑکی کا علاج کر رہے ہیں لیکن حاضری بند نہیں ہوئی لہذا کچھ تجویز کیا جائے تو جاننا چاہئے کہ آسیب کے علاج میں  عامل کا جو سب سے بڑا ہتھیار ہے وہ اس کی قوتِ ارادی و قوتی نفسانی ہےاور ساتھ ہی عامل کو نفسیات کا بھی کچھ علم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ مریض یا مریضہ کے نفسیات کا مطالعہ بھی کرے کیوں کہ حاضری والے مریض محض آسیبی مریض  نہیں ہوتے وہ نفسیاتی مریض بھی ہوتے ہیں اس اعتبار سے فقیر کے نزدیک حاضری والے مریض دو طرح کے ہوتے ہیں ان کی یوں درجہ بندی کر سکتے ہیں کر سکتے ہیں
    قسم اول :مغلوب از  آسیب مع نفسیات
    قسم دوم : مغلوب از  نفسیات مع آسیب
     کبھی آسیب کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور نفسیاتی اثر کم ایسے مریضوں کو مکمل آسیب زدہ یا مغلوب از آسیب مع نفسیات کہ سکتے ہیں اور کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو اگرچہ آسیب کا اثر ہوتا ہے لیکن ان پر نفسیاتی اثر کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے تو ایسے مریضو ں کو مغلوب از نفسیات مع آسیب  کہ سکتے  ہیں کیوں کہ ایسے مریض یا مریضہ کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ جب تک خود کو آسیبی قوت کے حوالے نہیں کرتے]اس خود سپردگی کی بہت ساری صورتیں ہو سکتی ہیں[  ان پر حاضری نہیں ہوتی اور جب ان کی نفسیات یہ تقاضا کرتی ہے کہ ان پر حاضری ہو یا یہ کہ وہ خود کو آسیب زدہ یا مظلوم اور دوسروں کو ظالم تصور کرتے ہیں اور مفروضہ ظالم یا ظلم پر قابو پانے کی کوئی صورت انہیں  نہیں دکھتی تو اچانک ان پر آسیب کی حاضری شروع ہو جاتی ہے ہم یہاں یہ نہیں کہ سکتے کہ ایسے مریض آسیب کی حاضری  کا ڈھونگ کرتے ہیں ہاں کچھ ضرور کرتے ہیں لیکن یہاں وہ معاملہ خارج از بحث ہے    بات در اصل یہ ہے کہ آسیب زدہ ہر دو قسم کے مریضو کا نفس مغلوب ہوتا ہے لیکن قسم اول کا زیادہ اور قسم دوم کا کم اس لئے قسم اول یعنی مغلوب از آسیب مع نفسیات پر حاضری کے لئے آسیب کو مریض کی مرضی یا خواہش کی حاجت نہیں ہوتی کیوں کہ اسے مریضوں کا نفس فاعل نہیں رہ جاتا کہ اپنا دفاع کرے وہ مطلق مفعول ہو جاتا ہے اور آسیب جب چاہے جس طرح چاہے ان پر سوار ہوجاتے ہیں بر خلاف اس کے قسم دوم یعنی مغلوب ا ز نفسیات مع آسیب کا نفس  مفعول ہونے کے ساتھ قدرے فاعل بھی ہوتا ہے کہ اگر چاہے تو اپنی فاعل نفس کہ ذریعہ قوتِ مدافعت کوحرکت دے اورآسیب کی  حاضری نا ہونے دے  اور ایسا اکثر ہوتا  بھی ہے لیکن مریض کو اس بات کا شعور نہیں وہ لا شعوری طور پر ہی سہی لیکن اس کی قدرت رکھتا ہے،ظاہر ہے ان باتوں کا علم نا تو مریض کو ہوتا ہے اور نا اکثر جھاڑ پھونک کرنے والے معالج کو  ، لہذا ایسے مریضوں کی حاضری ممکن ہے سالہا سال محض نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جاری رہے کیوں کہ یہاں معالج کی توجہ صرف حاضری پر ہوتی ہے حاضری کی نفسیات یا نفسیاتی  وجوہات  پر نہیں ،پھر یہ کہ ہرکسی کی نفسیات جدا جدا ہوتی ہے اس وجہ سے حاضری کی وجہ بھی مختلف ہوں گی معالج کو چاہئے کہ سب سے پہلے نفسیاتی وجہ تلاش کرے مریض یا مریضہ سے از اول تا آخر مکمل روداد سنے اور اسے یہ یقین دلائے کہ اس کہ پاس اللہ کے فضل سے اس کی ہر پریشانی کا حل موجود ہے جب مریض کو معالج پر یقین پختہ ہوگا تو وہ اپنے دل میں چھپے ہر ایک بات کو معالج کے سامنے بیان کرنا شروع کر دےگا مثلاً اس کے گھر والے اس پر فلاں فلاں  پابندی عائد کرتے ہیں یا اسے کسی سے عشق ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے غرض کہ اور بھی سینکڑوں وجوہات الگ الگ مریضوں کے ہوں گے ،ممکن ہے مریض یہ سب خود سے نا کہے تو معالج کو چاہئے کہ اس کے اہل خانہ سے مکمل تفصیل حاصل کرے اور قرینے سے مسئلے کی تہ تک جائے   اور پھر اُس نفسیات کے مناسبِ حال انذار و تبشیر مریض کو کرے یا اس کے اہل خانہ سے کرائے اور اہل خانہ کو بھی تلقین کریں کہ مریض پر حاضری کے وقت اسے گھیر کر نا بیٹھ جائیں اور جاہلانہ سوال مثلا ً تم کون ہو کہاں سے آئے ہو کس ے بھیجا ہے وغیرہ وغیرہ ہر گذ نا کریں بلکہ اس وقت اہل خانہ کا رویہ مریض کے لئے نارمل ہونا چاہئے نا مریض کی حرکتوں سے پریشان ہوکر اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیں اور نا ہی مریض سے سوالات کر کے اس پر چڑھے آسیب کو اہمیت دیں بلکہ مریض کو اس کی ظاہری حالت کی ابتری کا احساس دلائیں اور اس وجہ سے اس کے یا اس کے بچوں کی مستقبل کو جو خطرہ لاحق ہے وہ بتائیں   تاکہ مریض شفا یابی کے لئے اپنی قوتِ مدافعت کو بروئے کار لائے اور علاج کے لئے مکمل  طور پر تیار ہو جائے کہ جب تک یہ نا ہوگا  ایسے مریضوں کا علاج شروع کرنا نا کرنا برابر ہے  ، اور قسم اول یعنی مغلوب از آسیب مع نفسیات کے علاج میں محض روحانی علاج پر توجہ رہے  کیوں کہ اس قسم کے مریض اکثر مخبوط الحواس ہوتے ہیں ان کا ذہن ماوف ہوجاتا ہے بات کہاں سے کہاں پہنچی اب آئیے حاضری والے مریضوں کا طریقہ علاج جانتے ہیں  ایک طریقہ تو الاوفاق قسط دوم میں شائع کر چکا اس میں جو نکات میں نے دفع آسیب کے بتائے ہیں وہی ہر جگہ ملحوظ رکھنا ہے خواہ نقوش و تعویذات اور گنڈے یا غسل  و چراغ اور پلیتے انواع اقسام کے ہوں ،یہاں چنددیگر نسخہ جات لکھے دیتا ہوں 
    گنڈہ برائے آسیب
    مریض کے قد کے برابر ۲۱ تار کچا سفید رنگ کا  ناپ لیں پھر انہیں ہلدی کے پانی سے رنگ لیں بعدہ اس پر ۲۱ گرہیں لگانی ہے ہر گرہ پر ۷ مرتبہ سورہ مزمل شریف پڑھ کر دم کرنا ہے  یہ گنڈہ مریض کے گلے میں یا کمر میں ڈلوا دیں اور تاکید کر دیں کہ جب تک مکمل افاقہ نہیں ہوتا اس کو نہیں کھولنا ہے
    نقش برائے آسیب
    آیۃ الکرسی شریف کا نقش مثمن حرفی نقش اس طریح لکھیں کہ اس کے اطراف میں حرزِ ابو دجانہ ہو یہ گلے میں ڈالیں  اور دونو بازو پر باندھنے کے لئے آیت قطب و آیت غوث کے نقوش مثمن یا مربع لکھ کر دیں اور تاکید کر دیں کہ یہ نقوش پانی سے خراب نہ ہونے پائے لہذا غسل کے وقت اتار دیں بعد غسل فوراً ڈال لیں
    پینے والے تعویذات
    اس واسطے سورہ بقرہ یا سورہ جن یا جو بھی آپ کے معمول کا نقش دفع آسیب کے لئے ہو زعفران سے لکھ کر پینے کے لئے لازمی طور پر دیا جائے
    چراغ و پلیتہ
    نقش سورہ جن مع عزیمت بطورِ پلیتہ  مریض کے پہنے ہوئے پاک کپڑَے میں لپیٹ کر کورے مٹی کے چراغ میں کم از کم ۴۱ دن جلوائیں اس پلیتے میں مریض کے سر کا بال بھی شامل کریں
    غسلِ شفاءاز آسیب
    بیری کے سات پتوں والا غسل مسلسل ۴۱ دنوں تک کرائیں  اس کا طریقہ یہ ہے کہ سات تازہ پتوں کو دو پتھروں سے کچل کر ایک پیالے میں پانی بھر کرڈالیں اور بیر کی شاخ سے  اس پانی کو جنبش دیتے ہوئے الحمد شریف چہار قل و آیۃ الکرسی پڑھیں بعدہ اس پانی کو زیادہ پانی میں ملاکر مریض کو غسل کرائیں
    نیلا کپڑا سرسو تیل
    اگر بیر کے پتے دستیاب نہ ہوں تو اس طرح کریں کہ سرسو تیل اور نیلے کپڑے  پر ایک سو دس مرتبہ ناد علی شریف پڑھ کر دم کریں اور مریض  کو سر سے لیکر پاوں تک تیل لگا کر ایک گھنٹہ کا وقفہ دیں  پھر نیلے کپڑے سے تیل پونچھ کر کپڑے کو جلا دیں اور مریض غسل کر لے یہ بھی مسلسل ۴۱ دن کم از کرانا ہے
    صدقہ برائے دفع آسیب
    ایسے مریضوں کے علاج میں صدقہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس سے مرض کی سختی میں بہت جلد کمی واقع ہوتی ہے صدقات بہت سارے ہیں ان میں عمدہ و آسان صدقہ بکرے کا ہے چاہئیے کہ بروز منگل ایک تندرست بکرا لے کر مریض یا مریضہ کے گرد سات مرتبہ بنیت صدقہ پھرائے  اور اس طرح کے ایک چکر میں تیسرا کلمہ الا با للہ تک پڑھیں کل سات مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھا جائےگا اور سات چکر مکمل ہوں گے ،اس بکرے کو کسی مدرسے میں دے دیں یا اسے ذبح کرا کے اس کا گوشت غریبوں میں تقسیم کرائیں یہ صدقہ سات ،پانچ،تین یا کم از کم ایک مرتبہ ضرور کرنا چاہئے اگر کوئی بکرا صدقہ کرنے کی حیثیت نہیں رکھتا تو مرغ کا صدقہ مذکورہ بالا طریقے سے سات منگل کرے ہاں مرغ کو اٹھا کر مریض کے سر پر سات گھمائے اور تیسرا کلمہ پڑھے اگر مریض بھی ساتھ میں پڑھے تو پڑھ سکتا ہے بلکہ ایسے مریضوں کو تیسرے کلمے کی خوب کثرت کرائیں لا تعداد ہر وقت پڑھنے کی تلقین کی جائے