Featured Post

Sharaf e Aftab Ka Waqt 2026 | Sun glory timing | شرف آفتاب کا وقت

Image
  اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے: شرفِ آفتاب 2026 کا وقت ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے:  * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔  * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔  * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔ اہم نقوش اور اعمال  * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔  * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔  * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔ نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب  * یہ نقوش کاغذ پر...

ZAALIM SIYASAT DAANO KO SHIKASHT ظالم سیاستدانوں کو شکست | Defeat th cruel politicians | SUFI IMRAN RAZVEE SB

ازشیخ الروحانیات صوفی محمد عمران رضوی القادری  متعنا اللہ بطول حیاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ظالم سیاستدانوں کو شکست

           پچھلے کئی ہفتوں سے گاہے گاہے لوگ اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ ،ملک عزیزہندوستان میں ہونے والے الیکشن میں ظالم سیاستدانوں کی شکست کے لئے بندش کا عمل کیا جائے ابھی دو روز قبل ایک صاحب نے یہ فرمائش کی کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کی ہلاکت کا عمل کیا جائے ۔

اس سلسلے میں فقیر قادری چند باتیں عرض کرتا ہے ۔ دو چیزیں ہیں ایک ہے مجرد دعا اور دوسری ہے دعا مع تدبیر ۔دعاءِ محض یا مجرد دعا تو عبادت ہے بلکہ عبادت کا مغز ہے اور مومن کا ہتھیار ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس عبادت سے  ہم سب مجموعی طور پر غافل ہو چکے ہیں ۔ اب یہ الہی ہتھیار ہم سے اٹھتا نہیں۔ایسا لگتا ہے  ہمارے بازو نا امیدی سے شل ہو چکے ہیں ۔ہم میں یہ سکت نہیں نا ہمت ہے کہ ہم اپنے رب ذولجلال سے تیقن کے ساتھ  ظالم سیاست دانوں کی معزولی اور شکست کی دعا کریں۔ جس قدرقلبی و ذہنی قوت سے ہم کسی ٹیم کو کریکٹ میچ جتانے کے لئے دعا کرتے ہیں اس قوت کا عشرِ عشیر بھی ہم قوم و ملت کی فلاح و بہبودی کے لئے دعا میں صرف نہیں کرتے۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نفسیاتی طور پر احساس کمتری کے شکار ہیں ۔ یقین جانیں ہم مسلمانوں کے پاس دعا سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں۔اگر  مسلمان مرد عورت بوڑھے بچے سب مل کر رب ذولجلال کی بارگاہ میں پانچ وقت ہاتھ اٹھا کر بس یہی دعا کرتے رہیں ۔ائے اللہ ہمیں ان ظالم سیاستدانوں سے نجات دے۔ ان ظالموں کو ہدایت عطا فرما یا انہیں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دے۔آمین ۔میرا نہیں خیال کہ ہماری دعائیں بےکار جائیں گی۔بلکہ رب تبارک و تعالیٰ کی نصرت ضرور آئےگی ۔لہذا  جو کام ہم سب کو مل کر کرنا ہے وہ یہ کہ دن بھر میں جب بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں تو ایک دعا یہ بھی ضرور کر لیں  کہ ائے اللہ ہمیں ان ظالم سیاست دانوں سے نجات دے اور ہمارے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت فرما۔آمین۔

دوسری ہے دعا مع تدبیر  اور احباب کا سوال در اصل اسی سے متعلق ہے کہ ان ظالم سیاست دانوں کی شکست و ریخت کے لئے کچھ روحانی تدبیریں کی جائیں ۔تو اس حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا کہ دیکھیں جب مسئلہ فرد کا ہوتا ہے  تو اس کےحل کی تدبیر بھی کوئی فرد کرتاہے ،مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب مسائل اجتماعی ہوں  افرادِ قوم سے متعلق ہوں تو یہاں کسی کی انفرادی کوشس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔تاوقتیکہ قوم و ملت کی قیادت کرنے والی روحانی ،مذہبی ، سیاسی اور ملی تنظیمیں اور ان کے ذمہ داران خواہ ان کا تعلق کسی خانقاہ سے ہو یا مدارس اسلامیہ سے یا کسی سیاسی جماعت  یا تنظیم سے ، یہ سارے مل کر یک زبان ہو کے ہم آواز ہو کرقوم و ملت کے مسائل کے حل کے لئے تگ و دو کریں پھر انہی میں سے چند افراد کی جماعت ہو یا کئی جماعتیں ہوں جو روحانی طریقے اور تدابیر پر بھی  کار بند ہو ں ۔جیسے مراقب ہونا اور توجہ کرنا یہ جماعتِ صوفیہ کا عہدِ قدیم سے طریقہ رہا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ان حضرات کی روحانی توجہات سے کتنے سلاطین فاتح ہوئے ہیں ،ختم خوجگان پڑھنا،آیت کریمہ کا ختم پڑھنا،حزب البحر اور حرز یمانی جیسی دعاوں کا پڑھنا پڑھانا۔اسی طرح ہر شہر میں صالح عاملین اور حکماءکا  علم جفر کے ذریعہ ظالم سیاست دانوں کی معزولی و مقہوری کے اعمال تیار کر کے کام میں لانا۔لیکن ان ساری روحانی تدابیر کے موثر ہونےکے لئےیہ ضروری  ہے کہ قوم ملی ،سماجی ،سیاسی اور مادی اعتبار سے بھی خوب مضبوط ہو۔

احباب کو اپنی ایک آپ بیتی سنانا چاہوں گا ۔جب میں نے پہلی مرتبہ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر اطہر پر حاضر ہونے کا قصد کیا تو جاتے ہوئے میرے دل میں بار بار یہ بات آرہی تھی کہ جب حضرت کی قبر پر حاضر ہوکر مراقب ہوں گا تو سارا زور اسی بات پر لگاوں گا کہ اس وقت  مسلمانوں  کی جان و مال ،عزت و ناموس کو جو خطرہ لاحق ہے اس کا شکوہ حضرت کی روح مبارک سے کروں اور ان سے دعا اور توجہ کے لئے عرض کروں۔پورا سفر اس دلی کیفیت کے ساتھ طے کیا حتی کہ قبرستان کے احاطے میں جاتے وقت یہی کیفیت رہی ۔لیکن جیسے ہی حضرت کی قبر شریف کے پاس دو زانوں بیٹھا ،دل سے وہ ساری کیفیات دفعتاً محو ہو گئے ۔پھرمیں نے تکلفاً بھی کوشس کی لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کیفیات کےمحو ہونے کا خیال بھی دل سے نکل رہا ہے۔

ملک و ریاست کا نظام اور اس کی باگ ڈور کا فیصلہ قدرتی ہوتا ہے ۔قوموں کی استعداد کے مطابق انہیں ذمہ داریاں سپرد کی جاتی ہیں۔اگر ہم آج بحیثیت قوم کے اپنے اندر یہ استعداد پیدا کر لیں کہ ہم ملک و ریاست کی نظام کا ایک بڑا حصہ بن جائیں تو کل صبح ہوتے ہی قدرت ہمیں یہ اعزاز بخش دے گی۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ملکی و ریاستی نظام میں دخیل ہونے اور انتخاباتی نتائج کو تبدیل کردینے کے حوالے سےموجودہ صورتِ حال میں ہم کسی بھی روحانی  تدبیرکے لئے کوالیفائی نہیں کرتے ۔لہذا  ہمیں چاہئیے کہ سب مل کر ہر نماز کے بعد صرف مجرد دعا کریں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے  اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ  وہ جو لاچار کی سُنتا ہے (اور حاجت روائی فرماتا ہے) جب اُسے پکارے اور دُور کردیتا ہے بُرائی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو علم نافع اور خیرِ کثیر عطا فرمائے آمین۔

 


Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )