Featured Post
Hazrat Amna Ki Wafaat | Seerat e Mustafa ﷺ
- Get link
- X
- Other Apps
حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وفات
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف جب چھ برس کی ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ آپ کے دادا کے نانھیال بنو عدی بن نجار میں رشتہ داروں کی ملاقات یا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے سایہ تو ولادت سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا اب والدہ ماجدہ کی آغوش شفقت کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ لیکن حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا یہ در یتیم جس آغوشِ رحمت میں پرورش پا کر پروان چڑھنے والاہے وہ ان سب ظاہری اسبابِ تربیت سے بے نیاز ہے۔گئیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد کی باندی امِ ایمن بھی اس سفرمیں آپ کے ساتھ تھیں وہاں سے واپسی پر ''ابواء'' نامی گاؤں میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وفات ہو گئی اور وہ وہیں مدفون ہوئیں۔ والد ماجد کا
حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد حضرت امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو مکہ مکرمہ لائیں اور آپ کے دادا عبدالمطلب کے سپرد کیا اور دادا نے آپ کو اپنی آغوش تربیت میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ پرورش کیااور حضرت امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی خدمت کرتی رہیں۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف آٹھ برس کی ہو گئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔
جنابِ ابو طالب کے پاس
عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابوطالب نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نیک خصلتوں اور دل لبھا دینے والی بچپن کی پیاری پیاری اداؤں نے ابو طالب کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ مکان کے اندر اور باہر ہر وقت آپ کو اپنے ساتھ ہی رکھتے۔اپنے ساتھ کھلاتے پلاتے،اپنے پاس ہی آپ کا بستر بچھاتے اور ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔
جناب ابو طالب کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی وقت بھی کوئی جھوٹ بولے ہوں یا کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو، یا کبھی کسی کو کوئی ایذا پہنچائی ہو، یا بیہودہ لڑکوں کے پاس کھیلنے کے لئے گئے ہوں یا کبھی کوئی خلافِ تہذیب بات کی ہو۔ ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق، نیک اطوار، نرم گفتار، بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے پارسا اور پرہیز گار رہے۔