Featured Post

Sharaf e Aftab Ka Waqt 2026 | Sun glory timing | شرف آفتاب کا وقت

Image
  اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے: شرفِ آفتاب 2026 کا وقت ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے:  * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔  * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔  * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔ اہم نقوش اور اعمال  * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔  * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔  * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔ نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب  * یہ نقوش کاغذ پر...

حضور اقدس ﷺ اور تجارت | سیرت مصطفےٰ

 کاروباری مشاغل

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اصل خاندانی پیشہ تجارت تھا اور چونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بچپن ہی میں جناب ابو طالب کے ساتھ کئی بار تجارتی سفر فرما چکے تھے۔ جس سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تجارتی لین دین کا کافی تجربہ بھی حاصل ہو چکا تھا۔ اس لئے ذریعہ معاش کے لئے آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا۔ اور تجارت کی غرض سے شام و بُصریٰ اور یمن کا سفر فرمایا۔اورایسی راست بازی اورامانت ودیانت کے ساتھ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارتی کاروبار کیا کہ آپ کے شرکاء کار اور تمام اہل بازار آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''امین'' کے لقب سے پکارنے لگے۔

    ایک کامیاب تاجر کے لئے امانت، سچائی، وعدہ کی پابندی، خوش اخلاقی تجارت کی جان ہیں۔ ان خصوصیات میں مکہ کے تاجر امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو تاریخی شاہکار پیش کیا ہے اس کی مثال تاریخ عالم میں نادرروزگار ہے۔

حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نزول وحی اور اعلانِ نبوت سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کچھ خریدوفروخت کا معاملہ کیا۔ کچھ رقم میں نے ادا کر دی، کچھ باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں ابھی ابھی آکر باقی رقم بھی ادا کر دوں گا۔ اتفاق سے تین دن تک مجھے اپنا وعدہ یاد نہیں آیا۔ تیسرے دن جب میں اس جگہ پہنچا جہاں میں نے آنے کا وعدہ کیا تھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اسی جگہ منتظر پایا۔ مگر میری اس وعدہ خلافی سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماتھے پر اک ذرا بل نہیں آیا۔ بس صرف اتنا ہی فرمایا کہ تم کہاں تھے؟ میں اس مقام پر تین دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ 

 (سنن ابو داؤد ج۲ ص۳۳۴ باب فی العدۃ ۔مجتبائی)

اسی طرح ایک صحابی حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہوکربارگاہِ رسالت میں حاضرہوئے تو لوگ ان کی تعریف کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں انہیں تمہاری نسبت زیادہ جانتا ہوں۔حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں عرض گزار ہوا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر فداہوں آپ نے سچ فرمایا، اعلان نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے شریک تجارت تھے اور کیا ہی اچھے شریک تھے،آپ نے کبھی لڑائی جھگڑا نہیں کیا تھا۔ 

(سنن ابوداؤدج۲ص۳۱۷باب کراہیۃالمرا ۔مجتبائی )


Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )