Posts

Showing posts with the label سیرت النبی ﷺ

مسجد قباء | سیرت مصطفےٰ ﷺ

مسجد قباء    ''قبا''میں سب سے پہلاکام ایک مسجد کی تعمیرتھی۔ اس مقصد کے لیے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ایک زمین کو پسند فرمایا جہاں خاندان عمرو بن عوف کی کھجوریں سکھائی جاتی تھیں اسی جگہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے مقدس ہاتھوں سے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی ۔یہی وہ مسجد ہے جو آج بھی''مسجد قباء''کے نام سے مشہور ہے اور جس کی شان میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ۔  لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾      یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیز گاری پر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس (مسجد) میں ایسے لوگ ہیں جن کو پاکی بہت پسند ہے اور اﷲ تعالیٰ پاک رہنے والوں سے محبت فرماتاہے۔(توبہ)     اس مبارک مسجد کی تعمیرمیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ ساتھ خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اپنے دست مبارک سے ا ت...

شہنشاہ ِرسالت مدینہ میں | سیرت مصطفےٰ ﷺ

بریدہ اسلمی کا جھنڈا    جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو ''بریدہ اسلمی'' قبیلۂ بنی سہم کے ستر سواروں کو ساتھ لے کر اس لالچ میں آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے آئے کہ قریش سے ایک سو اونٹ انعام مل جائے گا۔ مگر جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد بن عبداﷲ ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔جمال و جلال نبوت کا ان کے قلب پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر دامن اسلام میں آگئے اور کمال عقیدت سے یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری تمنا ہے کہ مدینہ میں حضور کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے،یہ کہا اور اپنا عمامہ سر سے اتار کر اپنے نیزہ پر باندھ لیا اور حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علمبردار بن کر مدینہ تک آگے آگے چلتے رہے۔ پھر دریافت کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مدینہ میں کہاں اتریں گے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اونٹنی خدا کی طرف سے مامور ہے ۔یہ جہاں بیٹھ جائے گی وہی م...

سراقہ کا گھوڑا | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 سو اونٹ کا انعام    اُدھر اہل مکہ نے اشتہار دے دیا تھا کہ جو شخص محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو ایک سو اونٹ انعام ملے گا۔ اس گراں قدر انعام کے لالچ میں بہت سے لالچی لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش شروع کر دی اور کچھ لوگ تو منزلوں دور تک تعاقب میں گئے۔ اُمِ معبد کی بکری    دوسرے روز مقامِ قدید میں اُمِ معبد عاتکہ بنت خالد خزاعیہ کے مکان پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا گزر ہوا ۔اُمِ معبد ایک ضعیفہ عورت تھی جو اپنے خیمہ کے صحن میں بیٹھی رہا کرتی تھی اور مسافروں کو کھانا پانی دیا کرتی تھی۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کھانا خریدنے کا قصد کیا مگر اس کے پاس کوئی چیز موجود نہ تھی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کے خیمہ کے ایک جانب ایک بہت ہی لاغر بکری ہے۔ دریافت فرمایا کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ اُمِ معبد نے کہا نہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو تو میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ اُمِ معبد نے اجازت دے دی اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ''بسم اﷲ'' پڑھ کر جو اس کے تھن کو ہاتھ لگایا تو ا...

کاشانۂ نبوت کا محاصرہ | سیرت مصطفےٰﷺ

کاشانۂ نبوت کا محاصرہ       کفار مکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کو گھیر لیااور انتظار کرنے لگے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سو جائیں تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا جائے۔ اس وقت گھر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس صرف علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفار مکہ اگرچہ رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امانت و دیانت پر کفار کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس امانت رکھتے تھے۔چنانچہ اس وقت بھی بہت سی امانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو رہو اور میرے چلے جانے کے بعد تم قریش کی تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر مدینہ چلے آنا۔      یہ بڑا ہی خوفناک اور بڑے سخت خطرہ کا موقع تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار ِمکہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں مگر حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ عل...

ہجرت رسول کا واقعہ | سیرت مصطفےٰ

  ہجرتِ رسول کا واقعہ جب کفار حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل پر اتفاق کرکے کانفرنس ختم کر چکے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے تو حضرت جبریل امین علیہ السلام رب العالمین کا حکم لے کر نازل ہو گئے کہ اے محبوب! آج رات کو آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جائیں۔ چنانچہ عین دوپہر کے وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ سب گھر والوں کو ہٹا دو کچھ مشورہ کرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمآپ پر میرے ماں باپ قربان یہاں آپ کی اہلیہ(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کے سوا اور کوئی نہیں ہے( اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شادی ہو چکی تھی) حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر ! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت فرما دی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان!مجھے بھی ہمراہی کا شرف عطا فرمائیے۔ آپ...

ہجرت مدینہ | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 ہجرت مدینہ    مدینہ منورہ میں جب اسلام اور مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ مل گئی تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو عام اجازت دے دی کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں ۔چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے دوسرے لوگ بھی مدینہ روانہ ہونے لگے۔ جب کفار قریش کو پتہ چلا تو انہوں نے روک ٹوک شروع کر دی مگر چھپ چھپ کر لوگوں نے ہجرت کا سلسلہ جاری رکھایہاں تک کہ رفتہ رفتہ بہت سے صحابہ کرام مدینہ منورہ چلے گئے۔ صرف وہی حضرات مکہ میں رہ گئے جو یا تو کافروں کی قید میں تھے یا اپنی مفلسی کی وجہ سے مجبور تھے۔    حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چونکہ ابھی تک خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم نہیں ملا تھا اس لئے آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ ہی میں مقیم رہے اور حضرتِ ابوبکر صدیق اور حضرتِ علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو بھی آپ نے روک لیا تھا۔ لہٰذا یہ دونوں شمع نبوت کے پروانے بھی آپ ہی کے ساتھ مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کفار کانفرنس    جب مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ لیا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور...

بیعت عقبہ اولیٰ و ثانیہ | سیرت مصطفےٰ ﷺ

مدینہ میں اسلام کیونکر پھیلا      انصار گوبت پرست تھے مگر یہودیوں کے میل جول سے اتنا جانتے تھے کہ نبی آخر الزمان کاظہور ہونے والا ہے ا ور مدینہ کے یہودی اکثر انصار کے دونوں قبیلوں اوس و خزرج کو دھمکیاں بھی دیا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان کے ظہور کے وقت ہم ان کے لشکر میں شامل ہو کر تم بت پرستوں کو دنیا سے نیست و نابود کر ڈالیں گے۔ اس لئے نبی آخر الزمان کی تشریف آوری کا یہود اور انصار دونوں کو انتظار تھا۔      11 ؁نبوی میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم معمول کے مطابق حج میں آنے والے قبائل کو دعوت اسلام دینے کے لئے منیٰ کے میدان میں تشریف لے گئے اور قرآنِ مجید کی آیتیں سنا سنا کر لوگوں کے سامنے اسلام پیش فرمانے لگے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منیٰ میں عقبہ(گھاٹی) کے پاس جہاں آج ''مسجد العقبہ'' ہے تشریف فرما تھے کہ قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی آپ کے پاس آ گئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ان کا نام و نسب پوچھا۔ پھر قرآن کی چند آیتیں سنا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جس سے یہ لوگ بے حد متاثر ہوگئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر واپسی میں یہ کہنے لگے ...

مدینہ میں آفتاب رِسالت کی تجلیاں | سیرت مصطفےٰ ﷺ

           مدینہ میں آفتاب رِسالت کی تجلیاں     ''مدینہ منورہ'' کا پرانا نام ''یثرب'' ہے۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس شہر میں سکونت فرمائی تو اس کا نام ''مدینۃ النبی'' (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ پھر یہ نام مختصر ہو کر ''مدینہ'' مشہور ہو گیا۔ تاریخی حیثیت سے یہ بہت پرانا شہر ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اِس شہر میں عرب کے دو قبیلے ''اوس'' اور ''خزرج'' اور کچھ ''یہودی'' آباد تھے۔ اوس و خزرج کفارِ مکہ کی طرح ''بت پرست'' اور یہودی ''اہل کتاب'' تھے ۔اوس و خزرج پہلے تو بڑے اتفاق و اتحاد کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے مگر پھر عربوں کی فطرت کے مطابق اِن دونوں قبیلوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ آخری لڑائی جو تاریخ عرب میں ''جنگ بعاث'' کے نام سے مشہور ہے اس قدر ہولناک اور خونریز ہوئی کہ اس لڑائی میں اوس و خزرج کے تقریباً تمام نامور بہادر لڑ بھڑ کر کٹ مر گئے اور یہ دونوں قبیلے بے حد کمزور ہوگئے۔ یہودی...

قبائل میں تبلیغ اسلام | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 قبائل میں تبلیغ اسلام    حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ حج کے زمانے میں جب کہ دور دور کے عربی قبائل مکہ میں جمع ہوتے تھے تو حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام قبائل میں دورہ فرما کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسی طرح عرب میں جا بجا بہت سے میلے لگتے تھے جن میں دور دراز کے قبائل عرب جمع ہوتے تھے ۔ان میلوں میں بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ چنانچہ عکاظ، مجنہ،ذوالمجازکے بڑے بڑے میلوں میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبائل عرب کے سامنے دعوت اسلام پیش فرمائی۔ عرب کے قبائل بنو عامر،محارب،فزارہ،غسان، مرہ،سلیم،عبس،بنو نصر، کندہ، کلب،عذرہ،حضارمہ وغیرہ ان سب مشہور قبائل کے سامنے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام پیش فرمایامگر آپ کا چچا ابو لہب ہر جگہ آپ کے ساتھ ساتھ جاتا اور جب آپ کسی قبیلہ کے سامنے وعظ فرماتے تو ابو لہب چلا چلا کر یہ کہتا کہ ''یہ دین سے پھر گیا ہے ،یہ جھوٹ کہتا ہے۔'' (زرقانی ج1 ص309)     قبیلہ بنو ذہل بن شیبان کے پاس جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ ت...

Taif Ka Safar | Seerat e Mustafa ﷺ

طائف وغیرہ کا سفر      مکہ والوں کے عناد اور سرکشی کو دیکھتے ہوئے جب حضور رَحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوسی نظر آئی تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے لئے مکہ کے قرب و جوار کی بستیوں کا رُخ کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ''طائف'' کا بھی سفر فرمایا۔ اس سفر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمراء اور مالدار لوگ رہتے تھے۔ ان رئیسوں میں ''عمرو'' کا خاندان تمام قبائل کا سردار شمار کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ تین بھائی تھے۔ عبدیالیل۔مسعود۔ حبیب۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھار دیا کہ یہ لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ برا سلوک کریں ۔چنانچہ لچوں لفنگوں کا یہ شریر گروہ ہر طرف سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ عل...

Gham Ka Saal 10 hijri | Seerat e Mustafa ﷺ

غم کا سال  10 ؁نبوی      حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ''شعب ابی طالب'' سے نکل کر اپنے گھر میں تشریف لائے اور چند ہی روز کفار قریش کے ظلم و ستم سے کچھ امان ملی تھی کہ جناب ابو طالب بیمار ہو گئے اور گھاٹی سے باہر آنے کے آٹھ مہینے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔     جناب ابو طالب کی وفات حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے ایک بہت ہی جاں گداز اور روح فرسا حادثہ تھاکیونکہ بچپن سے جس طرح پیارو محبت کے ساتھ ابو طالب نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پرورش کی تھی اور زندگی کے ہر موڑ پر جس جاں نثاری کے ساتھ آپ کی نصرت و دستگیری کی اور آپ کے دشمنوں کے مقابل سینہ سپر ہو کر جس طرح آلام و مصائب کا مقابلہ کیا اس کو بھلا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کس طرح بھول سکتے تھے۔ جناب ابو طالب کا خاتمہ    جب ابو طالب مرض الموت میں مبتلا ہو گئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے چچا! آپ کلمہ پڑھ لیجیے۔یہ وہ کلمہ ہے کہ اس کے سبب سے میں خدا کے دربار میں آپ کی مغفرت کے لئے اصرار کروں گا۔ اس وقت ابو جہل اور عبداﷲ بن ابی امیہ جناب ابو طالب کے...

Hazrat e Umar Islam Lana | Seerat e Mustafa ﷺ

 حضرت عمر کااسلام لانا      حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعد تیسرے ہی دن حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی دولت اسلام سے مالا مال ہو گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کے واقعات میں بہت سی روایات ہیں۔      ایک روایت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن غصہ میں بھرے ہوئے ننگی تلوار لے کر اس ارادہ سے چلے کہ آج میں اسی تلوار سے پیغمبرِ اسلام کا خاتمہ کر دوں گا۔ اتفاق سے راستہ میں حضرت نعیم بن عبداﷲ قریشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ یہ مسلمان ہوچکے تھے مگر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کے اسلام کی خبر نہیں تھی۔ حضرت نعیم بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کیوں؟ اے عمر! اس دوپہر کی گرمی میں ننگی تلوار لے کر کہاں چلے؟ کہنے لگے کہ آج بانئ اسلام کا فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکل پڑا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن ''فاطمہ بنت الخطاب'' اور تمہارے بہنوئی ''سعید بن زید'' بھی تو مسلمان ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر آپ بہن کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔گھر کے اندر چند مسلمان چھپ کر قرآن پڑھ رہے تھے۔...

Hazrat e Hamzah Musalman ho gaye | Seerat e Mustafa ﷺ

 حضرت حمزہ مسلمان ہو گئے     اعلان نبوت کے چھٹے سال حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما دو ایسی ہستیاں دامن اسلام میں آ گئیں جن سے اسلام اور مسلمانوں کے جاہ و جلال اور ان کے عزت و اقبال کا پرچم بہت ہی سربلند ہو گیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچاؤں میں حضرت حمزہ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑی والہانہ محبت تھی اور وہ صرف دو تین سال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عمر میں زیادہ تھے اور چونکہ انہوں نے بھی حضرت ثویبہ کا دودھ پیا تھا اسلئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے ۔حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی طاقتور اور بہادر تھے اور شکار کے بہت ہی شوقین تھے۔ روزانہ صبح سویرے تیر کمان لے کر گھر سے نکل جاتے اور شام کو شکار سے واپس لوٹ کر حرم میں جاتے، خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور قریش کے سرداروں کی مجلس میں کچھ دیر بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دن حسب معمول شکار سے واپس لوٹے تو ابن جدعان کی لونڈی اور خود ان کی بہن حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو بتایا کہ آج ابو جہل نے کس کس طرح تمہارے بھتیجے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے...

حضرت ابوبکر اور ابن دغنہ | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 حضرت ابوبکر اور ابن دغنہ     حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حبشہ کی طرف ہجرت کی مگر جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ''برک الغماد'' میں پہنچے تو قبیلہ قارہ کا سردار''مالک بن دغنہ'' راستے میں ملا اور دریافت کیا کہ کیوں ؟اے ابوبکر! کہاں چلے ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل مکہ کے مظالم کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ اب میں اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر خدا کی لمبی چوڑی زمین میں پھرتا رہوں گا اور خدا کی عبادت کرتا رہوں گا۔ ابن د غنہ نے کہا کہ اے ابوبکر! آپ جیسا آدمی نہ شہر سے نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔ آپ دوسروں کا بار اٹھاتے ہیں، مہمانانِ حرم کی مہمان نوازی کرتے ہیں، خود کما کما کر مفلسوں اور محتاجوں کی مالی امداد کرتے ہیں، حق کے کاموں میں سب کی امداد و اعانت کرتے ہیں۔ آپ میرے ساتھ مکہ واپس چلیے میں آپ کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ ابن د غنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زبردستی مکہ واپس لایا اور تمام کفار مکہ سے کہہ دیا کہ میں نے ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ لہٰذا خبردار! کوئی ان کو نہ ستائے کفار مکہ نے کہا کہ ہم کو اس شرط پر منظ...

Sheb e Abi Talib | Seerat e Mustafa ﷺ

 شعب ابی طالب    7 ؁نبوی     اعلان نبوت کے ساتویں سال   7  ؁نبوی میں کفار مکہ نے جب دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جیسے بہادر ان قریش بھی دامن اسلام میں آ گئے تو غیظ و غضب میں یہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور تمام سرداران قریش اور مکہ کے دوسرے کفار نے یہ اسکیم بنائی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے اور ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کرکے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائیں۔ چنانچہ اس خوفناک تجویز کے مطابق تمام قبائل قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم کے خاندان والے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو قتل کے لئے ہمارے حوالہ نہ کر دیں (1)کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے۔ (2)کوئی شخص ان لوگوں کے ہاتھ کسی قسم کے سامان کی خریدوفروخت نہ کرے۔ (3)کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام و کلام اور ملاقات و بات نہ کرے۔ (4)کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے د...

Kuffar Ka Safeer Najashi Ke Darbar Me | Seerat e Mustafa ﷺ

 کفار کا سفیر نجاشی کے دربار میں     تمام مہاجرین نہایت امن و سکون کے ساتھ حبشہ میں رہنے لگے۔ مگر کفار مکہ کو کب گوارا ہو سکتا تھا کہ فرزندان توحید کہیں امن و چین کے ساتھ رہ سکیں۔ ان ظالموں نے کچھ تحائف کے ساتھ ''عمرو بن العاص'' اور ''عمارہ بن ولید'' کو بادشاہ حبشہ کے دربار میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا ۔ان دونوں نے نجاشی کے دربار میں پہنچ کر تحفوں کا نذرانہ پیش کیا اور بادشاہ کو سجدہ کرکے یہ فریاد کرنے لگے کہ اے بادشاہ! ہمارے کچھ مجرم مکہ سے بھاگ کر آپ کے ملک میں پناہ گزین ہو گئے ہیں۔ آپ ہمارے ان مجرموں کو ہمارے حوالہ کر دیجیے ۔یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے نمائندہ بن کر گفتگو کے لئے آگے بڑھے اور دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کو سجدہ نہیں کیابلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہو گئے۔ درباریوں نے ٹوکا تو حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے میں بادشاہ کو سجدہ نہی...

Najashi Badshah | Seerat e Mustafa ﷺ

 نجاشی بادشاہ      حبشہ کے بادشاہ کا نام ''اصحمہ'' اور لقب ''نجاشی'' تھا۔ عیسائی دین کا پابند تھا مگر بہت ہی انصاف پسند اور رحم دل تھااور توراۃ و انجیل وغیرہ آسمانی کتابوں کا بہت ہی ماہر عالم تھا۔     اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینے میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ ان مہاجرین کرام کے مقدس نام حسب ذیل ہیں۔ (۱،۲) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔(۳،۴)حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔(۵،۶)حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اہلیہ حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔(۷،۸)حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زوجہ حضرت لیلیٰ بنت ابی حشمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔ (۹) حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۰)حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۱) حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۲)حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۳)حضرت ...

قریش کا وفد جناب ابو طالب کے پاس | سیرت مصطفئےٰ ﷺ

 قریش کا وفد جناب ابو طالب کے پاس کفار قریش میں کچھ لوگ صلح پسند بھی تھے وہ چاہتے تھے کہ بات چیت کے ذریعہ صلح و صفائی کے ساتھ معاملہ طے ہو جائے۔ چنانچہ قریش کے چند معزز رؤسا ابوطالب کے پاس آئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام اور بت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی۔ ابو طالب نے نہایت نرمی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر رخصت کر دیا لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے فرمان فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ  کی تعمیل کرتے ہوئے علی الاعلان شرک و بت پرستی کی مذمت اور دعوت توحید کا وعظ فرماتے ہی رہے۔ اس لئے قریش کا غصہ پھر بھڑک اٹھا۔ چنانچہ تمام سردارانِ قریش یعنی عتبہ و شیبہ و ابو سفیان و عاص بن ہشام و ابو جہل و ولید بن مغیرہ و عاص بن وائل وغیرہ وغیرہ سب ایک ساتھ مل کر ابو طالب کے پاس آئے اور یہ کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے اس لئے یا تو آپ درمیان میں سے ہٹ جائیں اور اپنے بھتیجا کو ہمارے سپرد کر دیں یا پھر آپ بھی کھل کر ان کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں تا کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہو جائے۔ ابو طالب نے قریش کا تیور دیکھ کر سمجھ لیا ک...

کفار کا وفد بارگاہ رسالت میں | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 کفار کا وفد بارگاہ رسالت میں ایک مرتبہ سرداران قریش حرم کعبہ میں بیٹھے ہوئے یہ سوچنے لگے کہ آخر اتنی تکالیف اور سختیاں برداشت کرنے کے باوجود محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنی تبلیغ کیوں بند نہیں کرتے؟ آخر ان کا مقصد کیا ہے؟ ممکن ہے یہ عزت و جاہ یا سرداری و دولت کے خواہاں ہوں۔ چنانچہ سبھوں نے عتبہ بن ربیعہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ تم کسی طرح ان کا دلی مقصد معلوم کرو۔چنانچہ عتبہ تنہائی میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ملا اور کہنے لگا کہ اے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)آخر اس دعوت اسلام سے آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مکہ کی سرداری چاہتے ہیں؟ یا عزت و دولت کے خواہاں ہیں؟ یا کسی بڑے گھرانے میں شادی کے خواہش مند ہیں؟ آپ کے دل میں جو تمنا ہو کھلے دل کے ساتھ کہہ دیجیے۔ میں اس کی ضمانت لیتا ہوں کہ اگر آپ دعوت اسلام سے باز آجائیں تو پورا مکہ آپ کے زیر فرمان ہو جائے گا اور آپ کی ہر خواہش اور تمنا پوری کر دی جائے گی ۔عتبہ کی یہ ساحرانہ تقریر سن کر حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جواب میں قرآن مجید کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں۔ جن کو سن کر عتبہ اس قدر...

مسلمانوں پر کفار مکہ کے مظالم | سیرت مصطفےٰ ﷺ

چند شریر کفار جو کفار مکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دشمنی اور ایذارسانی میں بہت زیادہ سرگرم تھے۔ ان میں سے چند شریروں کے نام یہ ہیں۔(۱)ابو لہب(۲)ابو جہل(۳)اسود بن عبد یغوث(۴)حارث بن قیس بن عدی (۵)ولید بن مغیرہ(۶)امیہ بن خلف(۷) ابی بن خلف(۸)ابو قیس بن فاکہہ (۹) عاص بن وائل(۱۰) نضربن حارث(۱۱)منبہ بن الحجاج(۱۲) زہیر بن ابی امیہ(۱۳)سائب بن صیفی(۱۴)عدی بن حمرا (۱۵)اسود بن عبدالاسد (۱۶) عاص بن سعید بن العاص(۱۷)عاص بن ہاشم(۱۸)عقبہ بن ابی معیط (۱۹)حکم بن ابی العاص۔ یہ سب کے سب حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پڑوسی تھے اور ان میں سے اکثر بہت ہی مالدار اور صاحب اقتدار تھے اور دن رات سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایذارسانی میں مصروف کار رہتے تھے۔ (نعوذباللہ من ذالک) مسلمانوں پر مظالم حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکہ کی زمین بلبلا اُٹھی۔ یہ آسان تھا کہ کفار مکہ ان مسلمانوں کو دم زدن میں قتل کر ڈالتے مگر اس سے ان کافروں کے جوش انتقام کا نشہ نہیں اتر سکتا تھا کیونکہ کفار ا...