Featured Post

BISMILLAHI_BAABUNA_KA_AMAL| بسم اللہ بابنا کا عمل | ROOHANI AMALIYAT COURSE | Sufi Imran Razvee Sb | IDARA ROOHANI IMDAD

Image
   Dua e Hizbul Bahr Shareef ke fiqraat me se ek fiqre ka ibtedai hissa Hai bismillahi baabuna , nihayat baa BARKAT aur baa quwat jumla hai.  Amileen ahbab jo door daraaz se logon ka elaaj karte hain , bandishon ki kaat karte hain unhe is fiqre ko zaroor amal me laana chahiye.    Faqeer e Quadri ne iska nisaab nikala hai pichle kai saal se ahbab ise amal me laa rahe hain . Lihaza Aap Bhi Muharramulharaam ki pehli tareekh ko iski zakaat ada karke amal me la sakte hain.iska amil ban sakte hain.    Nisaab ki tadaad isi qadar hai ke aamileen ahbaab ek nashahsht me Pura kar lenge. Aur jo  bilkul naye hain unko Bhi koi khaas dushwari pesh nahi aayegi Q ke is amal me koi parhez nahi hai.   Mard hazraat ke sath khwateen Bhi yeh amal kar sakti hain , jo log DUA E HIZBUL BAHR ke aamil hain ya is Dua ko wird me rakhte hain unhe yeh amal zaroor karna chahiye. NOTE: 29 ZULHAJ tak Amal ki tafseel PDF ki shakal me  hadiya bataur e nazr ada karke haasil...

ہجرت رسول کا واقعہ | سیرت مصطفےٰ

 ہجرتِ رسول کا واقعہ

جب کفار حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل پر اتفاق کرکے کانفرنس ختم کر چکے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے تو حضرت جبریل امین علیہ السلام رب العالمین کا حکم لے کر نازل ہو گئے کہ اے محبوب! آج رات کو آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جائیں۔ چنانچہ عین دوپہر کے وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ سب گھر والوں کو ہٹا دو کچھ مشورہ کرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمآپ پر میرے ماں باپ قربان یہاں آپ کی اہلیہ(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کے سوا اور کوئی نہیں ہے( اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شادی ہو چکی تھی) حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر ! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت فرما دی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان!مجھے بھی ہمراہی کا شرف عطا فرمائیے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی درخواست منظور فرما لی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چار مہینے سے دو اونٹنیاں ببول کی پتی کھلا کھلا کر تیار کی تھیں کہ ہجرت کے وقت یہ سواری کے کام آئیں گی۔ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان میں سے ایک اونٹنی آپ قبول فرما لیں۔ آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبول ہے مگر میں اس کی قیمت دوں گا ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بادل ناخواستہ فرمان رسالت سے مجبور ہو کر اس کو قبول کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تو اس وقت بہت کم عمر تھیں لیکن ان کی بڑی بہن حضرت بی بی اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے سامان سفر درست کیا اور توشہ دان میں کھانا رکھ کر اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے۔ ایک سے توشہ دان کوباندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا ۔یہ وہ قابل فخر شرف ہے جس کی بنا پر ان کو ''ذات النطاقین''(دو پٹکے والی) کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کافر کو جس کا نام ''عبداﷲ بن اُرَیْقَطْ'' تھا جو راستوں کا ماہر تھا راہ نمائی کے لئے اُجرت پر نوکر رکھااور ان دونوں اونٹنیوں کو اس کے سپرد کرکے فرمایا کہ تین راتوں کے بعد وہ ان دونوں اونٹنیوں کو لے کر ''غارثور'' کے پاس آ جائے۔ یہ سارا نظام کر لینے کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مکان پر تشریف لائے۔(1) (بخاری ج1 ص553 تا 554 باب ہجرت النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)




Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )