Featured Post

BISMILLAHI_BAABUNA_KA_AMAL| بسم اللہ بابنا کا عمل | ROOHANI AMALIYAT COURSE | Sufi Imran Razvee Sb | IDARA ROOHANI IMDAD

Image
   Dua e Hizbul Bahr Shareef ke fiqraat me se ek fiqre ka ibtedai hissa Hai bismillahi baabuna , nihayat baa BARKAT aur baa quwat jumla hai.  Amileen ahbab jo door daraaz se logon ka elaaj karte hain , bandishon ki kaat karte hain unhe is fiqre ko zaroor amal me laana chahiye.    Faqeer e Quadri ne iska nisaab nikala hai pichle kai saal se ahbab ise amal me laa rahe hain . Lihaza Aap Bhi Muharramulharaam ki pehli tareekh ko iski zakaat ada karke amal me la sakte hain.iska amil ban sakte hain.    Nisaab ki tadaad isi qadar hai ke aamileen ahbaab ek nashahsht me Pura kar lenge. Aur jo  bilkul naye hain unko Bhi koi khaas dushwari pesh nahi aayegi Q ke is amal me koi parhez nahi hai.   Mard hazraat ke sath khwateen Bhi yeh amal kar sakti hain , jo log DUA E HIZBUL BAHR ke aamil hain ya is Dua ko wird me rakhte hain unhe yeh amal zaroor karna chahiye. NOTE: 29 ZULHAJ tak Amal ki tafseel PDF ki shakal me  hadiya bataur e nazr ada karke haasil...

کاشانۂ نبوت کا محاصرہ | سیرت مصطفےٰﷺ

کاشانۂ نبوت کا محاصرہ

      کفار مکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کو گھیر لیااور انتظار کرنے لگے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سو جائیں تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا جائے۔ اس وقت گھر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس صرف علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفار مکہ اگرچہ رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امانت و دیانت پر کفار کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس امانت رکھتے تھے۔چنانچہ اس وقت بھی بہت سی امانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو رہو اور میرے چلے جانے کے بعد تم قریش کی تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر مدینہ چلے آنا۔

     یہ بڑا ہی خوفناک اور بڑے سخت خطرہ کا موقع تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار ِمکہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں مگر حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کہ تم قریش کی ساری امانتیں لوٹا کر مدینہ چلے آنا حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو یقین کامل تھا کہ میں زندہ رہوں گا اور مدینہ پہنچوں گا اس لئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا بستر جو آج کانٹوں کا بچھونا تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر پر صبح تک آرام کے ساتھ میٹھی میٹھی نیند سوتے رہے۔ اپنے اسی کارنامے پر فخر کرتے ہوئے شیر خدا نے اپنے اشعار میں فرمایا کہ

وَقَیْتُ بِنَفْسِیْ خَیْرَمَنْ وَطِیئَ الثَّریٰ وَمَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ وَبِالْحَجَرِ

       میں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس ذات گرامی کی حفاظت کی جو زمین پر چلنے والوں اور خانہ کعبہ و حطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر اور بلند مرتبہ ہیں۔

رَسُوْلُ اِلٰہٍ خَافَ اَنْ یَّمْکُرُوْابِہٖ فَنَجَّاہُ ذُوالطَّوْلِ الْاِلٰہُ مِنَ الْمَکْرِ

    رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ کفار مکہ ان کے ساتھ خفیہ چال چل جائیں گے مگر خداوند مہربان نے ان کو کافروں کی خفیہ تدبیر سے بچا لیا۔       (زرقانی علی المواہب ج1 ص322)

  حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بستر نبوت پر جان ولایت کو سلا کر ایک   مٹھی خاک ہاتھ میں لی اور سورهٔ یس ۤ کی ابتدائی آیتوں کو تلاوت فرماتے ہوئے نبوت خانہ سے باہر تشریف لائے اور محاصرہ کرنے والے کافروں کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے مجمع سے صاف نکل گئے۔نہ کسی کو نظر آئے نہ کسی کو کچھ خبر ہوئی۔ ایک دوسرا شخص جو اس مجمع میں موجود نہ تھااس نے ان لوگوں کو خبر دی کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تو یہاں سے نکل گئے اور چلتے وقت تمہارے سروں پر خاک ڈال گئے ہیں۔ چنانچہ ان کور بختوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرا تو واقعی ان کے سروں پر خاک اور دھول پڑی ہوئی تھی۔(مدارج النبوۃ ج2 ص57)

   رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقام ''حزورہ'' کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ''کعبہ'' کو دیکھا اور فرمایا کہ اے شہر مکہ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہی قرار داد ہو چکی تھی۔ وہ بھی اسی جگہ آ گئے اور اس خیال سے کہ کفار مکہ ہمارے قدموں کے نشان سے ہمارا راستہ پہچان کر ہمارا پیچھا نہ کریں پھر یہ بھی دیکھا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پائے نازک زخمی ہو گئے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیااور اس طرح خاردار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات ''غارِ ثور'' پہنچے ۔   (مدارج النبوۃ ج2 ص58)

   حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پہلے خود غار میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ پھر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غار کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی گودمیں اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک سوراخ کو اپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا۔ سوراخ کے اندر سے ایک سانپ نے بار بار یارغار کے پاؤں میں کاٹا مگر حضرت صدیق جاں نثار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے پاؤں نہیں ہٹایا کہ رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خوابِ راحت میں خلل نہ پڑ جائے مگر درد کی شدت سے یارغار کے آنسوؤں کی دھار کے چند قطرات سرور کائنات کے رخسار پرنثار ہو گئے۔ جس سے رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمبیدار ہو گئے اور اپنے یارِ غار کو روتا دیکھ کر بے قرار ہو گئے پوچھا ابوبکر! کیا ہوا؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زخم پر اپنا لعاب دہن لگا دیاجس سے فوراً ہی سارا درد جاتا رہا۔ حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تین رات اس غار میں رونق افروز رہے۔

   حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جوان فرزند حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روزانہ رات کو غار کے منہ پر سوتے اور صبح سویرے ہی مکہ چلے جاتے اور پتہ لگاتے کہ قریش کیا تدبیریں کر رہے ہیں؟ جو کچھ خبر ملتی شام کو آکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کردیتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کچھ رات گئے چراگاہ سے بکریاں لے کر غار کے پاس آ جاتے اور ان بکریوں کا دودھ دونوں عالم کے تاجدارصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے یار غار پی لیتے تھے۔    (زرقانی علی المواہب ج1 ص339)

    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو غار ثور میں تشریف فرما ہو گئے۔ اُدھر کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرنے والے کفار جب صبح کو مکان میں داخل ہوئے تو بستر نبوت پر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ ظالموں نے تھوڑی دیر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ گچھ کرکے آپ کو چھوڑ دیا۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش و جستجو میں مکہ اور اطراف و جوانب کا چپہ چپہ چھان مارا۔ یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار ثور تک پہنچ گئے مگر غار کے منہ پر اس وقت خداوندی حفاظت کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ یعنی غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور کنارے پر کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار قریش آپس میں کہنے لگے کہ اس غارمیں کوئی انسان موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی نہ کبوتری یہاں انڈے دیتی۔ کفار کی آہٹ پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کچھ گھبرائے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اب ہمارے دشمن اس قدر قریب آ گئے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں پر نظر ڈالیں گے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ   لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا     مت گھبراؤ !خدا ہمارے ساتھ ہے۔

   اس کے بعدﷲ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قلب پر سکون و اطمینان کا ایسا سکینہ اُتار دیا کہ وہ بالکل ہی بے خوف ہو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی یہی وہ جاں نثاریاں ہیں جن کو دربار نبوت کے مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کیا خوب کہا ہے کہ     ؎

وَثَانِیُ اثْنَیْنِ فِی الْغَارِ الْمُنِیْفِ وَقَدْ طَافَ الْعَدُوُّ بِہٖ اِذْ صَاعَدَ الْجَبَلَا

    اور دومیں کے دوسرے (ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ)جب کہ پہاڑ پر چڑھ کر بلند مرتبہ غار میں اس حال میں تھے کہ دشمن ان کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا۔

وَکَانَ حِبَّ رَسُوْلِ اﷲِ قَدْ عَلِمُوْا مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ یَعْدِلْ بِہٖ بَدَلَا

    اور وہ (ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے محبوب تھے۔ تمام مخلوق اس بات کو جانتی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی کو بھی ان کے برابر نہیں ٹھہرایا ہے۔ (زرقانی علی المواہب ج 1ص 337)

    بہر حال چوتھے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یکم ربیع الاول دوشنبہ کے دن غار ثور سے باہر تشریف لائے۔ عبداﷲ بن اریقط جس کو رہنمائی کے لئے کرایہ پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نوکر رکھ لیا تھا وہ قرارداد کے مطابق دو اونٹنیاں لے کر غار ثور پر حاضر تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور ایک اونٹنی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیٹھے اور عبداﷲ بن اُریقط آگے آگے پیدل چلنے لگا اور عام راستہ سے ہٹ کر ساحل سمندر کے غیر معروف راستوں سے سفر شروع کر دیا۔


Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )