Featured Post

BISMILLAHI_BAABUNA_KA_AMAL| بسم اللہ بابنا کا عمل | ROOHANI AMALIYAT COURSE | Sufi Imran Razvee Sb | IDARA ROOHANI IMDAD

Image
   Dua e Hizbul Bahr Shareef ke fiqraat me se ek fiqre ka ibtedai hissa Hai bismillahi baabuna , nihayat baa BARKAT aur baa quwat jumla hai.  Amileen ahbab jo door daraaz se logon ka elaaj karte hain , bandishon ki kaat karte hain unhe is fiqre ko zaroor amal me laana chahiye.    Faqeer e Quadri ne iska nisaab nikala hai pichle kai saal se ahbab ise amal me laa rahe hain . Lihaza Aap Bhi Muharramulharaam ki pehli tareekh ko iski zakaat ada karke amal me la sakte hain.iska amil ban sakte hain.    Nisaab ki tadaad isi qadar hai ke aamileen ahbaab ek nashahsht me Pura kar lenge. Aur jo  bilkul naye hain unko Bhi koi khaas dushwari pesh nahi aayegi Q ke is amal me koi parhez nahi hai.   Mard hazraat ke sath khwateen Bhi yeh amal kar sakti hain , jo log DUA E HIZBUL BAHR ke aamil hain ya is Dua ko wird me rakhte hain unhe yeh amal zaroor karna chahiye. NOTE: 29 ZULHAJ tak Amal ki tafseel PDF ki shakal me  hadiya bataur e nazr ada karke haasil...

سراقہ کا گھوڑا | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 سو اونٹ کا انعام

   اُدھر اہل مکہ نے اشتہار دے دیا تھا کہ جو شخص محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو ایک سو اونٹ انعام ملے گا۔ اس گراں قدر انعام کے لالچ میں بہت سے لالچی لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش شروع کر دی اور کچھ لوگ تو منزلوں دور تک تعاقب میں گئے۔

اُمِ معبد کی بکری

   دوسرے روز مقامِ قدید میں اُمِ معبد عاتکہ بنت خالد خزاعیہ کے مکان پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا گزر ہوا ۔اُمِ معبد ایک ضعیفہ عورت تھی جو اپنے خیمہ کے صحن میں بیٹھی رہا کرتی تھی اور مسافروں کو کھانا پانی دیا کرتی تھی۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کھانا خریدنے کا قصد کیا مگر اس کے پاس کوئی چیز موجود نہ تھی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کے خیمہ کے ایک جانب ایک بہت ہی لاغر بکری ہے۔ دریافت فرمایا کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ اُمِ معبد نے کہا نہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو تو میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ اُمِ معبد نے اجازت دے دی اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ''بسم اﷲ'' پڑھ کر جو اس کے تھن کو ہاتھ لگایا تو اس کا تھن دودھ سے بھر گیا اور اتنا دودھ نکلا کہ سب لوگ سیراب ہو گئے اور اُمِ معبد کے تمام برتن دودھ سے بھر گئے۔ یہ معجزہ دیکھ کر ام معبد اور ان کے خاوند دونوں مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ (مدارج النبوۃ ج 2 ص61)

    روایت ہے کہ اُمِ معبد کی یہ بکری 18ھ؁ تک زندہ رہی اور برابر دودھ دیتی رہی اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب ''عام الرماد'' کا سخت قحط پڑا کہ تمام جانوروں کے تھنوں کا دودھ خشک ہو گیا اس وقت بھی یہ بکری صبح و شام برابر دودھ دیتی رہی۔(زرقانی علی المواہب ج1 ص346)

سراقہ کا گھوڑا

     جب اُمِ معبد کے گھر سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے تو مکہ کا ایک مشہور شہسوار سراقہ بن مالک بن جعشم تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر تعاقب کرتا نظر آیا۔ قریب پہنچ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا مگر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا مگر سو اونٹوں کا انعام کوئی معمولی چیز نہ تھی۔ انعام کے لالچ نے اسے دوبارہ اُبھارا اور وہ حملہ کی نیت سے آگے بڑھا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے پتھریلی زمین میں اس کے گھوڑے کا پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ یہ معجزہ دیکھ کر خوف و دہشت سے کانپنے لگا اور امان ! امان! پکارنے لگا۔ رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دل رحم و کرم کا سمندر تھا۔ سراقہ کی لاچاری اور گریہ زاری پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دریائے رحمت جوش میں آ گیا۔ دعا فرما دی تو زمین نے اس کے گھوڑے کو چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد سراقہ نے عرض کیا کہ مجھ کو امن کا پروانہ لکھ دیجیے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے سراقہ کے لئے امن کی تحریر لکھ دی۔ سراقہ نے اس تحریر کو اپنے ترکش میں رکھ لیااور واپس لوٹ گیا۔ راستہ میں جو شخص بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرتا تو سراقہ اس کو یہ کہہ کر لوٹا دیتے کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرف نہیں ہیں۔ واپس لوٹتے ہوئے سراقہ نے کچھ سامان سفر بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور نذرانہ کے پیش کیا مگر آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا۔

(بخاری باب ہجرۃ النبی ج1 ص554 و زرقانی ج1 ص346 و مدارج النبوۃ ج2 ص62)

سراقہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوئے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت نبوت اور اسلام کی صداقت کا سکہ ان کے دل پر بیٹھ گیا۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ اور جنگ طائف و حنین سے فارغ ہو کر ''جعرانہ'' میں پڑاؤ کیا تو سراقہ اسی پروانۂ امن کو لے کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو گئے اور اپنے قبیلہ کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔

 (دلائل النبوۃ ج2 ص15 و مدارج النبوۃ ج2 ص62)

   واضح رہے کہ یہ وہی سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے بارے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے علم غیب سے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اے سراقہ!تیرا کیا حال ہو گا جب تجھ کو ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے دونوں کنگن پہنائے جائیں گے؟ اس ارشاد کے برسوں بعد جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن دربار خلافت میں لائے گئے تو امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق و تحقیق کے لئے وہ کنگن حضرت سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پہنا دیئے اور فرمایا کہ اے سراقہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہو کہ اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے حمد ہے جس نے ان کنگنوں کو بادشاہ فارس کسریٰ سے چھین کر سراقہ بدوی کو پہنا دیا۔ حضرت سراقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے 24ھ ؁میں وفات پائی۔جب کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تخت خلافت پر رونق افروز تھے۔(زرقانی علی المواہب ج1 ص246 و ص348)


Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )