Featured Post
Hazrat e Umar Islam Lana | Seerat e Mustafa ﷺ
- Get link
- X
- Other Apps
حضرت عمر کااسلام لانا
حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعد تیسرے ہی دن حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی دولت اسلام سے مالا مال ہو گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کے واقعات میں بہت سی روایات ہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن غصہ میں بھرے ہوئے ننگی تلوار لے کر اس ارادہ سے چلے کہ آج میں اسی تلوار سے پیغمبرِ اسلام کا خاتمہ کر دوں گا۔ اتفاق سے راستہ میں حضرت نعیم بن عبداﷲ قریشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ یہ مسلمان ہوچکے تھے مگر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کے اسلام کی خبر نہیں تھی۔ حضرت نعیم بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کیوں؟ اے عمر! اس دوپہر کی گرمی میں ننگی تلوار لے کر کہاں چلے؟ کہنے لگے کہ آج بانئ اسلام کا فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکل پڑا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن ''فاطمہ بنت الخطاب'' اور تمہارے بہنوئی ''سعید بن زید'' بھی تو مسلمان ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر آپ بہن کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔گھر کے اندر چند مسلمان چھپ کر قرآن پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آواز سن کر سب لوگ ڈر گئے اور قرآن کے اوراق چھوڑ کر ادھر ادھر چھپ گئے ۔بہن نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چلا کر بولے کہ اے اپنی جان کی دشمن! کیا تو بھی مسلمان ہو گئی ہے ؟پھر اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر ان کو زمین پر پٹخ دیا اور سینے پر سوار ہو کر مارنے لگے۔ ان کی بہن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااپنے شوہر کو بچانے کے لئے دوڑ پڑیں تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو ایسا طمانچہ مارا کہ ان کے کانوں کے جھومر ٹوٹ کر گر پڑے اور ان کا چہرہ خون سے لہو لہان ہو گیا۔ بہن نے صاف صاف کہہ دیا کہ عمر! سن لو ،تم سے جو ہو سکے کر لو مگر اب اسلام دل سے نہیں نکل سکتا۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بہن کا خون آلودہ چہرہ دیکھا اور ان کا عزم و استقامت سے بھرا ہوا یہ جملہ سنا تو ان پر رقت طاری ہو گئی اور ایک دم دل نرم پڑ گیا۔ تھوڑی دیر تک خاموش کھڑے رہے ۔پھر کہا کہ اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ۔ بہن نے قرآن کے اوراق کو سامنے رکھ دیا۔ اٹھا کر دیکھا تو اس آیت پر نظر پڑی کہ سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم اس آیت کا ایک ایک لفظ صداقت کی تاثیر کا تیر بن کر دل کی گہرائی میں پیوست ہوتا چلا گیا اور جسم کا ایک ایک بال لرزہ براندام ہونے لگا۔
جب اس آیت پر پہنچے کہ اٰمِنُوْا بِاﷲِ وَرَسُوْلِہٖ تو بالکل ہی بے قابو ہو گئے اور بے اختیار پکار اٹھے کہ ''اَشْھَدُ اَنْ لاَّۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ '' یہ وہ وقت تھا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں مقیم تھے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہن کے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرت ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر پہنچے تو دروازہ بند پایا، کنڈی بجائی، اندر کے لوگوں نے دروازہ کی جھری سے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ننگی تلوار لئے کھڑے تھے۔ لوگ گھبرا گئے اور کسی میں دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی مگر حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور اندر آنے دو اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اندر قدم رکھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود آگے بڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو پکڑا اور فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے! تو مسلمان ہو جا آخر تو کب تک مجھ سے لڑتا رہے گا ؟حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بہ آواز بلند کلمہ پڑھا ۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مارے خوشی کے نعرہ تکبیر بلند فرمایا اور تمام حاضرین نے اس زور سے اﷲ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ چھپ چھپ کر خدا کی عبادت کرنے کے کیا معنی؟ اٹھئے ہم کعبہ میں چل کر علی الاعلان خدا کی عبادت کریں گے اور خدا کی قسم !میں کفر کی حالت میں جن جن مجلسوں میں بیٹھ کر اسلام کی مخالفت کرتا رہا ہوں اب ان تمام مجالس میں اپنے اسلام کا اعلان کروں گا۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت کو لے کر دو قطاروں میں روانہ ہوئے۔ ایک صف کے آگے آگے حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چل رہے تھے اور دوسری صف کے آگے آگے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ اس شان سے مسجد حرام میں داخل ہوئے اور نماز ادا کی اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حرم کعبہ میں مشرکین کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ یہ سنتے ہی ہر طرف سے کفار دوڑ پڑے اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مارنے لگے اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی ان لوگوں سے لڑنے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ماموں ابو جہل آ گیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ ہنگامہ کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوگئے ہیں اس لئے لوگ برہم ہو کر ان پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ یہ سن کر ابو جہل نے حطیم کعبہ میں کھڑے ہو کر اپنی آستین سے اشارہ کرکے اعلان کر دیاکہ میں نے اپنے بھانجے عمر کو پناہ دی۔ ابو جہل کا یہ اعلان سن کر سب لوگ ہٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں ہمیشہ کفار کو مارتا اور ان کی مار کھاتا رہایہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے اسلام کو غالب فرما دیا۔ (زرقانی علی المواہب ج1 ص272)
- Get link
- X
- Other Apps