Ashura ME In Panch Mujarrab Amaal Ke Amil Bane | عاشورہ میں ان پانچ مجرب اعمال کے عامل بنیں | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔ ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔ اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
حبشہ کے بادشاہ کا نام ''اصحمہ'' اور لقب ''نجاشی'' تھا۔ عیسائی دین کا پابند تھا مگر بہت ہی انصاف پسند اور رحم دل تھااور توراۃ و انجیل وغیرہ آسمانی کتابوں کا بہت ہی ماہر عالم تھا۔
اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینے میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ ان مہاجرین کرام کے مقدس نام حسب ذیل ہیں۔
(۱،۲) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔(۳،۴)حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔(۵،۶)حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اہلیہ حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔(۷،۸)حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زوجہ حضرت لیلیٰ بنت ابی حشمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔ (۹) حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۰)حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۱) حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۲)حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۳)حضرت ابو سبرہ بن ابی رہم یا حاطب بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہما۔(۱۴) حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(۱۵)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
(زرقانی علی المواہب ج۱ ص۲۷۰)
کفار مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو ان ظالموں نے ان لوگوں کی گرفتاری کے لئے ان کا تعاقب کیا لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے۔ اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے ۔یہ مہاجرین کا قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اتر کر امن و امان کے ساتھ خدا کی عبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں کے بعد ناگہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے۔ یہ خبر سن کر چند لوگ حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آکر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔ چنانچہ بعض لوگ تو پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں روپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفار مکہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ سے واپس آنے والے اور ان کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی (83) مرداور اٹھارہ عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔
(زرقانی علی المواہب ج1 ص287)