Featured Post

BISMILLAHI_BAABUNA_KA_AMAL| بسم اللہ بابنا کا عمل | ROOHANI AMALIYAT COURSE | Sufi Imran Razvee Sb | IDARA ROOHANI IMDAD

Image
   Dua e Hizbul Bahr Shareef ke fiqraat me se ek fiqre ka ibtedai hissa Hai bismillahi baabuna , nihayat baa BARKAT aur baa quwat jumla hai.  Amileen ahbab jo door daraaz se logon ka elaaj karte hain , bandishon ki kaat karte hain unhe is fiqre ko zaroor amal me laana chahiye.    Faqeer e Quadri ne iska nisaab nikala hai pichle kai saal se ahbab ise amal me laa rahe hain . Lihaza Aap Bhi Muharramulharaam ki pehli tareekh ko iski zakaat ada karke amal me la sakte hain.iska amil ban sakte hain.    Nisaab ki tadaad isi qadar hai ke aamileen ahbaab ek nashahsht me Pura kar lenge. Aur jo  bilkul naye hain unko Bhi koi khaas dushwari pesh nahi aayegi Q ke is amal me koi parhez nahi hai.   Mard hazraat ke sath khwateen Bhi yeh amal kar sakti hain , jo log DUA E HIZBUL BAHR ke aamil hain ya is Dua ko wird me rakhte hain unhe yeh amal zaroor karna chahiye. NOTE: 29 ZULHAJ tak Amal ki tafseel PDF ki shakal me  hadiya bataur e nazr ada karke haasil...

قبائل میں تبلیغ اسلام | سیرت مصطفےٰ ﷺ

 قبائل میں تبلیغ اسلام

   حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ حج کے زمانے میں جب کہ دور دور کے عربی قبائل مکہ میں جمع ہوتے تھے تو حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام قبائل میں دورہ فرما کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسی طرح عرب میں جا بجا بہت سے میلے لگتے تھے جن میں دور دراز کے قبائل عرب جمع ہوتے تھے ۔ان میلوں میں بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ چنانچہ عکاظ، مجنہ،ذوالمجازکے بڑے بڑے میلوں میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبائل عرب کے سامنے دعوت اسلام پیش فرمائی۔ عرب کے قبائل بنو عامر،محارب،فزارہ،غسان، مرہ،سلیم،عبس،بنو نصر، کندہ، کلب،عذرہ،حضارمہ وغیرہ ان سب مشہور قبائل کے سامنے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام پیش فرمایامگر آپ کا چچا ابو لہب ہر جگہ آپ کے ساتھ ساتھ جاتا اور جب آپ کسی قبیلہ کے سامنے وعظ فرماتے تو ابو لہب چلا چلا کر یہ کہتا کہ ''یہ دین سے پھر گیا ہے ،یہ جھوٹ کہتا ہے۔'' (زرقانی ج1 ص309)

    قبیلہ بنو ذہل بن شیبان کے پاس جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ اس قبیلہ کا سردار ''مفروق'' آپ کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا کہ اے قریشی برادر! آپ لوگوں کے سامنے کونسا دین پیش کرتے ہیں؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سورهٔ انعام کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں ۔یہ سب لوگ آپ کی تقریر اور قرآنی آیتوں کی تاثیر سے انتہائی متاثر ہوئے لیکن یہ کہا کہ ہم اپنے اس خاندانی دین کو بھلا ایک دم کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ جس پر ہم برسہا برس سے کاربند ہیں۔ اس کے علاوہ ہم ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے زیر اثر اوررعیت ہیں۔ اور ہم یہ معاہدہ کر چکے ہیں کہ ہم بادشاہ کسریٰ کے سوا کسی اور کے زیر اثر نہیں رہیں گے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی صاف گوئی کی تعریف فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ خیر، خدا اپنے دین کا حامی و ناصراور معین و مدد گار ہے۔ (روض الانف بحوالہ سیرۃ النبی)



Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )