BISMILLAHI_BAABUNA_KA_AMAL| بسم اللہ بابنا کا عمل | ROOHANI AMALIYAT COURSE | Sufi Imran Razvee Sb | IDARA ROOHANI IMDAD
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔ ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔ اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ حج کے زمانے میں جب کہ دور دور کے عربی قبائل مکہ میں جمع ہوتے تھے تو حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام قبائل میں دورہ فرما کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسی طرح عرب میں جا بجا بہت سے میلے لگتے تھے جن میں دور دراز کے قبائل عرب جمع ہوتے تھے ۔ان میلوں میں بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ چنانچہ عکاظ، مجنہ،ذوالمجازکے بڑے بڑے میلوں میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبائل عرب کے سامنے دعوت اسلام پیش فرمائی۔ عرب کے قبائل بنو عامر،محارب،فزارہ،غسان، مرہ،سلیم،عبس،بنو نصر، کندہ، کلب،عذرہ،حضارمہ وغیرہ ان سب مشہور قبائل کے سامنے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام پیش فرمایامگر آپ کا چچا ابو لہب ہر جگہ آپ کے ساتھ ساتھ جاتا اور جب آپ کسی قبیلہ کے سامنے وعظ فرماتے تو ابو لہب چلا چلا کر یہ کہتا کہ ''یہ دین سے پھر گیا ہے ،یہ جھوٹ کہتا ہے۔'' (زرقانی ج1 ص309)
قبیلہ بنو ذہل بن شیبان کے پاس جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ اس قبیلہ کا سردار ''مفروق'' آپ کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا کہ اے قریشی برادر! آپ لوگوں کے سامنے کونسا دین پیش کرتے ہیں؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سورهٔ انعام کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں ۔یہ سب لوگ آپ کی تقریر اور قرآنی آیتوں کی تاثیر سے انتہائی متاثر ہوئے لیکن یہ کہا کہ ہم اپنے اس خاندانی دین کو بھلا ایک دم کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ جس پر ہم برسہا برس سے کاربند ہیں۔ اس کے علاوہ ہم ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے زیر اثر اوررعیت ہیں۔ اور ہم یہ معاہدہ کر چکے ہیں کہ ہم بادشاہ کسریٰ کے سوا کسی اور کے زیر اثر نہیں رہیں گے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی صاف گوئی کی تعریف فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ خیر، خدا اپنے دین کا حامی و ناصراور معین و مدد گار ہے۔ (روض الانف بحوالہ سیرۃ النبی)