BISMILLAHI_BAABUNA_KA_AMAL| بسم اللہ بابنا کا عمل | ROOHANI AMALIYAT COURSE | Sufi Imran Razvee Sb | IDARA ROOHANI IMDAD
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔ ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔ اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو ''بریدہ اسلمی'' قبیلۂ بنی سہم کے ستر سواروں کو ساتھ لے کر اس لالچ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے آئے کہ قریش سے ایک سو اونٹ انعام مل جائے گا۔ مگر جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد بن عبداﷲ ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔جمال و جلال نبوت کا ان کے قلب پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر دامن اسلام میں آگئے اور کمال عقیدت سے یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری تمنا ہے کہ مدینہ میں حضور کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے،یہ کہا اور اپنا عمامہ سر سے اتار کر اپنے نیزہ پر باندھ لیا اور حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علمبردار بن کر مدینہ تک آگے آگے چلتے رہے۔ پھر دریافت کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مدینہ میں کہاں اتریں گے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اونٹنی خدا کی طرف سے مامور ہے ۔یہ جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے۔
(مدارج النبوۃ ج2 ص62)
اس سفر میں حسن اتفاق سے حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہو گئی جو حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بیٹے ہیں۔ یہ ملک شام سے تجارت کا سامان لے کر آ رہے تھے۔ انہوں نے حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں چند نفیس کپڑے بطور نذرانہ کے پیش کیے جن کو تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قبول فرما لیا۔(مدارج النبوۃ ج2 ص63)
حضورِاکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خبر چونکہ مدینہ میں پہلے سے پہنچ چکی تھی اور عورتوں بچوں تک کی زبانوں پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا چرچا تھا ۔اس لئے اہل مدینہ آپ کے دیدار کے لئے انتہائی مشتاق و بے قرار تھے۔ روزانہ صبح سے نکل نکل کر شہر کے باہر سراپا انتظار بن کر استقبال کے لئے تیار رہتے تھے اورجب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ایک دن اپنے معمول کے مطابق اہل مدینہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی راہ دیکھ کر واپس جا چکے تھے کہ ناگہاں ایک یہودی نے اپنے قلعہ سے دیکھا کہ تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری مدینہ کے قریب آن پہنچی ہے۔ اس نے بہ آواز بلند پکارا کہ اے مدینہ والو!لو تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔ یہ سن کر تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کراور وجد و شادمانی سے بے قرار ہو کر دونوں عالم کے تاجدارصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرہ تکبیر کی آوازوں سے تمام شہر گونج اُٹھا۔(مدارج النبوۃ ج2 ص63 وغیرہ)
مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج ''مسجدقبا'' بنی ہوئی ہے۔ 12ربیع الاول کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے اور قبیلۂ عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ اہل خاندان نے اس فخر و شرف پر کہ دونوں عالم کے میزبان ان کے مہمان بنے اﷲ اکبر کا پرجوش نعرہ مارا۔ چاروں طرف سے انصار جوشِ مسرت میں آتے اور بارگاہ رسالت میں صلاۃ و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرتے۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی حکم نبوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکہ سے چل پڑے تھے وہ بھی مدینہ آ گئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا اور حضرتِ کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان والے ان تمام مقدس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے ۔
(مدارج النبوۃ ج 2 ص63 و بخاری ج1 ص560)
ﷲ اکبر! عمروبن عوف کے خاندان میں حضرت سید الانبیاء صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و سید الاولیاء اور صالحین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نورانی اجتماع سے ایسا سماں بندھ گیا ہو گا کہ غالباً چاند، سورج اور ستارے حیرت کے ساتھ اس مجمع کو دیکھ کر زبانِ حال سے کہتے ہوں گے کہ یہ فیصلہ مشکل ہے کہ آج انجمن آسمان زیادہ روشن ہے یا حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان؟ اور شاید خاندان عمرو بن عوف کا بچہ بچہ جوشِ مسرت سے مسکرا مسکرا کر زبانِ حال سے یہ نغمہ گاتا ہو گا کہ ؎
اُن کے قدم پہ میں نثارجن کے قدوم ناز نے
اُجڑے ہوئے دیار کو رشک چمن بنا دیا
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ
اَلْحَمْدُ ِﷲِ! حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ''مکی زندگی'' آپ پڑھ چکے۔ اب ہم آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ''مدنی زندگی'' پر سنہ وار واقعات تحریر کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ آپ بھی اس کے مطالعہ سے آنکھوں میں نور اور دل میں سرور کی دولت حاصل کریں۔