Featured Post

Amaliyat Course October 2026 | عملیات کورس جمادی الاولی | Sufi Imran Razvee | Idara Roohani Imdad

Image
  عملیات کورس جمادی الاولی [اکتوبر] ﷽ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم عملیات کورس ماہ جمادی الاولی ۱۴۴۸ ھجری؎ اکتوبر ۲۰۲۶ عیسوی کی تاریخیں احباب نوٹ فرما لیں۔ [۱] عمل سورہ یس شریف (سات روزہ) ؎۲۲ اکتوبر [۲] عمل دعا جامع المطلوب (گیارہ روزہ)؎ ۲۲ اکتوبر [۳] عمل درود تاج شریف (گیارہ روزہ)؎ ۲۲ اکتوبر [۴] عمل بسم اللہ شریف (گیارہ روزہ) ؎ ۲۲ اکتوبر [۵] عمل حزب البحر شریف (بارہ روزہ) ۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۶]عمل سی و سہ آیات (بارہ روزہ)؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۷] عمل دعائے حیدری شریف (بارہ روزہ)؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۸] عمل یا کافی الموسع لما خلق (بارہ روزہ) ؎۲۱ اکتوبر [۹] عمل یا اللہ المحمود فی کل (چالیس روزہ) ؎۲۲ کتوبر [۱۰] عمل بسم اللہ شریف (چالیس روزہ) ؎۲۲ اکتوبر [۱۱] عمل آیۃ الکرسی شریف (تین روزہ) ؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۱۲] عمل آیت قطب شریف (تین روزہ) ؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۱۳] عمل عمل سورہ مزمل شریف (تین روزہ) ؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۱۴] عمل سورہ کوثر شریف (تین روزہ) ؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۱۵] عمل سورہ اخلاص شریف (تین روزہ) ؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۱۶] عمل ناد علی شریف (تین روزہ) ؎۲۱۔۲۲۔۲۳ اکتوبر [۱۷] عمل ناد علی کبیر  (تین...

قریش کا وفد جناب ابو طالب کے پاس | سیرت مصطفئےٰ ﷺ

 قریش کا وفد جناب ابو طالب کے پاس

کفار قریش میں کچھ لوگ صلح پسند بھی تھے وہ چاہتے تھے کہ بات چیت کے ذریعہ صلح و صفائی کے ساتھ معاملہ طے ہو جائے۔ چنانچہ قریش کے چند معزز رؤسا ابوطالب کے پاس آئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام اور بت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی۔ ابو طالب نے نہایت نرمی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر رخصت کر دیا لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے فرمان فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ  کی تعمیل کرتے ہوئے علی الاعلان شرک و بت پرستی کی مذمت اور دعوت توحید کا وعظ فرماتے ہی رہے۔ اس لئے قریش کا غصہ پھر بھڑک اٹھا۔ چنانچہ تمام سردارانِ قریش یعنی عتبہ و شیبہ و ابو سفیان و عاص بن ہشام و ابو جہل و ولید بن مغیرہ و عاص بن وائل وغیرہ وغیرہ سب ایک ساتھ مل کر ابو طالب کے پاس آئے اور یہ کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے اس لئے یا تو آپ درمیان میں سے ہٹ جائیں اور اپنے بھتیجا کو ہمارے سپرد کر دیں یا پھر آپ بھی کھل کر ان کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں تا کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہو جائے۔ ابو طالب نے قریش کا تیور دیکھ کر سمجھ لیا کہ اب بہت ہی خطرناک اور نازک گھڑی سر پر آن پڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب قریش برداشت نہیں کر سکتے اور میں اکیلا تمام قریش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ابو طالب نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انتہائی مخلصانہ اور مشفقانہ لہجے میں سمجھایا کہ میرے پیارے بھتیجے! اپنے بوڑھے چچا کی سفید داڑھی پر رحم کرواور بڑھاپے میں مجھ پر اتنا بوجھ مت ڈالو کہ میں اٹھا نہ سکوں ۔اب تک تو قریش کا بچہ بچہ میرا احترام کرتا تھا مگر آج قریش کے سرداروں کا لب و لہجہ اور ان کا تیور اس قدر بگڑا ہوا تھا کہ اب وہ مجھ پر اور تم پر تلوار اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم کچھ دنوں کے لئے دعوت اسلام موقوف کردو۔ اب تک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری معین، مددگار جو کچھ بھی تھے وہ صرف اکیلے ابو طالب ہی تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اب ان کے قدم بھی اکھڑ رہے ہیں چچا کی گفتگو سن کر حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھرائی ہوئی مگر جذبات سے بھری ہوئی آواز میں فرمایا کہ چچا جان! خدا کی قسم! اگر قریش میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند لا کر دے دیں تب بھی میں اپنے اس فرض سے باز نہ آؤں گا۔ یا تو خدا اس کام کو پورا فرما دے گا یا میں خود دین اسلام پر نثار ہو جاؤں گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ جذباتی تقریر سن کر ابو طالب کا دل پسیج گیا اور وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی ہاشمی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ بھتیجے کی محبت میں گرم ہو کر کھولنے لگا اور انتہائی جوش میں آ کر کہہ دیا کہ جان عم! جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب تک میں زندہ ہوں کوئی تمہارا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ 

 (سیرت ابن ہشام ج1 ص266 وغیرہ)


Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )