Featured Post
پہلی وحی اور غارِ حرا | سیرت مصطفےٰ ﷺ
- Get link
- X
- Other Apps
حضور اقدس ﷺ کی عمر جب چالیس برس ہوئی
جب حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا چالیسواں سال شروع ہوا تو ناگہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں ایک نیا انقلاب رونما ہو گیاکہ ایک دم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خلوت پسند ہو گئے اور اکیلے تنہائی میں بیٹھ کر خدا کی عبادت کرنے کا ذوق و شوق پیدا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر اوقات غور و فکر میں پائے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بیشتر وقت مناظر قدرت کے مشاہدہ اور کائنات فطرت کے مطالعہ میں صرف ہوتا تھا۔ دن رات خالقِ کائنات کی ذات و صفات کے تصور میں مستغرق اور اپنی قوم کے بگڑے ہوئے حالات کے سدھاراور اس کی تدبیروں کے سوچ بچارمیں مصروف رہنے لگے اور ان دنوں میں ایک نئی بات یہ بھی ہو گئی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اچھے اچھے خواب نظر آنے لگے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہر خواب اتنا سچا ہوتا کہ خواب میں جو کچھ دیکھتے اس کی تعبیر صبح صادق کی طرح روشن ہو کر ظاہر ہو جایا کرتی تھی۔ (بخاری ج1 ص2)
غار ِحراء
مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کی دوری پر ''جبل حراء'' نامی پہاڑ کے اُوپر ایک غار(کھوہ)ہے جس کو ''غار حراء'' کہتے ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر کئی کئی دنوں کا کھانا پانی ساتھ لے کر اس غار کے پرسکون ماحول کے اندر خدا کی عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔ جب کھانا پانی ختم ہو جاتا تو کبھی خود گھر پر آکر لے جاتے اور کبھی حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کھانا پانی غار میں پہنچا دیا کرتی تھیں۔ آج بھی یہ نورانی غار اپنی اصلی حالت میں موجوداور زیارت گاہ خلائق ہے۔
پہلی وحی
ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''غار حراء'' کے اندر عبادت میں مشغول تھے کہ بالکل اچانک غار میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ ظاہر ہوا۔(یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے جو ہمیشہ خدا عزوجل کا پیغام اس کے رسولوں علیہم الصلاۃوالسلام تک پہنچاتے رہے ہیں) فرشتے نے ایک دم کہا کہ ''پڑھئیے'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ''پڑھنے والا نہیں ہوں۔'' فرشتہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پکڑا اور نہایت گرم جوشی کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زور دار معانقہ کیا پھر چھوڑ کر کہا کہ '' پڑھئیے'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ''میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔'' فرشتہ نے دوسری مرتبہ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے چمٹایا اور چھوڑ کر کہا کہ ''پڑھئیے'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر وہی فرمایا کہ ''میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔'' تیسری مرتبہ پھر فرشتہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بہت زور کے ساتھ اپنے سینے سے لگا کر چھوڑا اور کہا کہ
اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الْاِنۡسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقْرَاۡ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿۵﴾
یہی سب سے پہلی وحی تھی جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ ان آیتوں کو یاد کرکے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے۔ مگراس واقعہ سے جو بالکل ناگہانی طور پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوپیش آیا اس سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر لرزہ طاری تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے گھر والوں سے فرمایا کہ مجھے کملی اڑھاؤ۔ مجھے کملی اڑھاؤ۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خوف دور ہوا اور کچھ سکون ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے غار میں پیش آنے والا واقعہ بیان کیااور فرمایا کہ ''مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔'' یہ سن کر حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ نہیں،ہر گز نہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کبھی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو رسوا نہیں کریگا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تورشتہ داروں کے ساتھ بہترین سلوک کرتے ہیں۔ دوسروں کا بار خوداٹھاتے ہیں۔ خود کما کما کر مفلسوں اور محتاجوں کو عطا فرماتے ہیں۔مسافروں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق و انصاف کی خاطر سب کی مصیبتوں اور مشکلات میں کام آتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی ''ورقہ بن نوفل'' کے پاس لے گئیں۔ ورقہ ان لوگوں میں سے تھے جو ''موحد'' تھے اور اہل مکہ کے شرک و بت پرستی سے بیزار ہو کر ''نصرانی'' ہو گئے تھے اور انجیل کا عبرانی زبان سے عربی میں ترجمہ کیا کرتے تھے۔ بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے کہا کہ بھائی جان! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔ ورقہ بن نوفل نے کہا کہ بتایئے ۔آپ نے کیا دیکھا ہے؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غار حراء کا پورا واقعہ بیان فرمایا ۔یہ سن کر ورقہ بن نوفل نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ پھر ورقہ بن نوفل کہنے لگے کہ کاش! میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے زمانے میں تندرست جوان ہوتا۔ کاش !میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے باہر نکالے گی۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے (تعجب سے)فرمایا کہ کیا مکہ والے مجھے مکہ سے نکال دیں گے تو ورقہ نے کہاجی ہاں!جو شخص بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرح نبوت لے کر آیا لوگ اس کے ساتھ دشمنی پر کمربستہ ہو گئے۔
اس کے بعد کچھ دنوں تک وحی اترنے کا سلسلہ بند ہو گیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وحی کے انتظار میں مضطرب اور بے قرار رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہیں گھر سے باہر تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی نے ''یا محمد'' صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہہ کر پکارا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھاتو یہ نظر آیا کہ وہی فرشتہ (حضرت جبریل علیہ السلام)جو غار میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں ایک خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکان پر آکر لیٹ گئے اور گھر والوں سے فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ ناگہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سورہ ''مدثر'' کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور رب تعالیٰ کا فرمان اتر پڑا کہ
یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمْ فَاَنۡذِرْ ﴿۲﴾۪ۙوَ رَبَّکَ فَکَبِّرْ ﴿۳﴾۪ۙوَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرْ ﴿۴﴾۪ۙوَ الرُّجْزَ فَاہۡجُرْ ﴿۵﴾
یعنی اے بالاپوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈرسناؤاوراپنے رب ہی کی بڑائی بولواوراپنے کپڑے پاک رکھواوربتوں سے دور رہو۔(بخاری ج1 ص3)
ان آیات کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خداوند قدوس نے دعوتِ اسلام کے منصب پر مامور فرما دیا اور آپ خداوند تعالیٰ کے حکم کے مطابق دعوت حق اور تبلیغ اسلام کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔
- Get link
- X
- Other Apps