Featured Post

Sharaf e Aftab Ka Waqt 2026 | Sun glory timing | شرف آفتاب کا وقت

Image
  اس ویڈیو کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں، جس میں صوفی عمران رضوی صاحب نے شرفِ آفتاب 2026 کے اوقات اور اس میں لکھے جانے والے نقوش کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے: شرفِ آفتاب 2026 کا وقت ویڈیو کے مطابق اس سال شرفِ آفتاب کا درست وقت یہ ہے:  * آغاز: 8 اپریل 2026، رات 1 بج کر 25 منٹ سے۔  * اختتام: 9 اپریل 2026، رات 1 بج کر 45 منٹ تک۔  * گویا 8 اپریل کا پورا دن شرفِ آفتاب کے دائرہ کار میں رہے گا۔ اہم نقوش اور اعمال  * یا اللہ المحمود کا نقش: صوفی صاحب نے اس خاص نقش کی بہت تاکید کی ہے، جو "تسخیرِ خلائق" (لوگوں کی توجہ حاصل کرنے) کے لیے نہایت مفید ہے۔  * عاملین کے لیے ہدایت: جو لوگ کسی خاص عمل (جیسے سورہ مزمل، دعائے حزب البحر، نادِ علی یا چہل کاف وغیرہ) کے عامل ہیں، انہیں چاہیے کہ شرف کے وقت اس عمل کا نقش اپنے لیے ضرور لکھیں، یہ ان کے لیے ایک روحانی تحفہ ثابت ہوگا۔  * اجازت: انہوں نے اپنے زیرِ نگرانی کام کرنے والے احباب اور عاملین کو شرفِ آفتاب میں نقوش و الواح تیار کر کے حاجت مندوں کو دینے کی اجازت دی ہے۔ نقش لکھنے کا طریقہ اور ترتیب  * یہ نقوش کاغذ پر...

دعوتِ اسلام کے تین ادوار| سیرت مصطفےٰ

          دعوتِ اسلام کے لئے تین دور

 پہلا دور

 تین برس تک حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انتہائی پوشیدہ طور پر نہایت رازداری کے ساتھ تبلیغ اسلام کا فرض ادا فرماتے رہے اور اس درمیان میں عورتوں میں سب سے پہلے حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور آزاد مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور لڑکوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلاموں میں سب سے پہلے زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے۔ پھر ـحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت و تبلیغ سے حضرت عثمان، حضرت زبیر بن العوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے۔ پھر چند دنوں کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد، حضرت ارقم بن ابوارقم، حضرت عثمان بن مظعون اور ان کے دونوں بھائی حضرت قدامہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر کچھ مدت کے بعد حضرت ابو ذر غفاری و حضرت صہیب رومی، حضرت عبیدہ بن الحارث بن عبدالمطلب، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل اور ان کی بیوی فاطمہ بنت الخطاب حضرت عمر کی بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چچی حضرت ام الفضل حضرت عباس بن عبدالمطلب کی   بیوی اور حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی مسلمان ہو گئیں ۔ان کے علاوہ دوسرے بہت سے مردوں اور عورتوں نے بھی اسلام لانے کا شرف حاصل کر لیا۔   (زرقانی علی المواہب ج1 ص246)

واضح رہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے جو''سابقین اولین ''کے لقب سے سرفراز ہیں ان خوش نصیبوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ سب سے پہلے دامن اسلام میں آنے والے وہی لوگ ہیں جو فطرۃً نیک طبع اور پہلے ہی سے دین حق کی تلاش میں سرگرداں تھے اور کفار مکہ کے شرک و بت پرستی اور مشرکانہ رسوم جاہلیت سے متنفر اور بیزار تھے۔ چنانچہ نبی برحق کے دامن میں دین حق کی تجلی دیکھتے ہی یہ نیک بخت لوگ پروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے۔

 دُوسرا دور

تین برس کی اس خفیہ دعوت اسلام میں مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہوگئی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سورۂ ''شعراء'' کی آیت وَ اَنۡذِرْ عَشِیۡرَتَکَ الْاَقْرَبِیۡنَ ﴿۲۱۴﴾  نازل فرمائی اور خداوند تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اے محبوب! آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو خدا سے ڈرائیے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک دن کوہ صفا کی چوٹی پر چڑھ کر ''یامعشر قریش'' کہہ کر قبیلہ قریش کو پکارا۔جب سب قریش جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر میں تم لوگوں سے یہ کہہ دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کر لو گے؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ ہاں! ہاں! ہم یقینا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بات کا یقین کر لیں گے کیونکہ ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہمیشہ سچا اور امین ہی پایا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا رہا ہوں اور اگر تم لوگ ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الٰہی اتر پڑے گا۔ یہ سن کر تمام قریش جن میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا چچا ابو لہب بھی تھا، سخت ناراض ہو کر سب کے سب چلے گئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اول فول بکنے لگے۔  (بخاری ج2 ص702 و عامہ تفاسیر)

تیسرا دور

اب وہ وقت آگیا کہ اعلان نبوت کے چوتھے سال سورئہ حجر کی آیت فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(2) نازل فرمائی اور حضرت حق جل شانہ، نے یہ حکم فرمایا کہ اے محبوب! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کو علی الاعلان بیان فرمائیے۔ چنانچہ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علانیہ طور پر دین اسلام کی تبلیغ فرمانے لگے۔ اور شرک و بت پرستی کی کھلم کھلا برائی بیان فرمانے لگے۔ اور تمام قریش بلکہ تمام اہل مکہ بلکہ پورا عرب آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ایذارسانیوں کا ایک طولانی سلسلہ شروع ہو گیا۔

Popular posts from this blog

ADAD NIKALNE KA TARIQA اعداد نکالنے کا طریقہ (Method Of Reckoning Number By Abjad )

Asmaye Baari Ta'ala Ke Mujarrab Amaliyat اسمائے باری تعالی کے مجرب عملیات (The Names Of Allah And Their Beneficial Remedy )