Ashura ME In Panch Mujarrab Amaal Ke Amil Bane | عاشورہ میں ان پانچ مجرب اعمال کے عامل بنیں | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔ ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔ اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
جب حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو حضرت ''امِ ایمن'' جو آپکے والد ماجد کی باندی تھیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خاطر داری اور خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں۔ امِ ایمن کا نام ''برکۃ'' ہے یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو آپ کے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میراث میں ملی تھیں۔ یہی آپ کو کھانا کھلاتی تھیں کپڑے پہناتی تھیں آپ کے کپڑے دھویا کرتی تھیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا تھا جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا گہوارہ یعنی جھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا اور آپ بچپن میں چاند کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ فرماتے تھے توچاند آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔جب آپ کی زبان کھلی تو سب سے اول جو کلام آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا اللہ اکبر اللہ اکبرالحمد للہ رب العالمین وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا بچوں کی عادت کے مطابق کبھی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کپڑوں میں بول و براز نہیں فرمایا۔ بلکہ ہمیشہ ایک معین وقت پر رفع حاجت فرماتے۔ اگر کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی شرم گاہ کھل جاتی تو آپ رو رو کر فریاد کرتے۔ اور جب تک شرم گاہ نہ چھپ جاتی آپ کو چین اور قرار نہیں آتا تھا اور اگر شرم گاہ چھپانے میں مجھ سے کچھ تاخیر ہو جاتی تو غیب سے کوئی آپ کی شرم گاہ چھپا دیتا۔ جب آپ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوئے تو باہر نکل کر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہیں ہوتے تھے لڑکے آپ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تو آپ فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا ہوں۔ (مدارج النبوۃ ج2 ص21)