Featured Post
Dhikr for the openness of the heart | Sufi Imran Razvee Sb
- Get link
- X
- Other Apps
سبحان اللہ و بحمدہ کے ضرب سے تفکرات کا علاج
جب سالک کو ہجوم خیالات گھیر
لیں ،تفکرات غلبہ کریں اور یکسوئی میں فرق واقع ہو جائے تو چاہئیے کہ تازہ غسل
کرکے مصلے پر بیٹھے اور سبحان اللہ و بحمدہ کی ضربیں لگائے۔اس طرح سبحان اللہ
کہے کہ سب کی چوٹ دل پر پڑے اور حان اللہ کو دل میں رکھ لے۔اور بحمدہ کی
ضرب حق تعالیٰ و تقدس کے اس نور پر لگائے جو فوق العرش ساکن ہے ۔فرمایا سبحان اللہ
تمام صفاتِ حادث سے تنزیہہ ہے اور بحمدہ جملہ حمد کا اثبات ہے جو وجوبِ فطرت کے
ممناسب ہے۔
یہ ذکر حضرت شاہ ولی اللہ
محدثِ دہلی رحمۃ اللہ علیہ کا تلقین کردہ ہے۔فرمایا اس ذکر کو تسلسل کے ساتھ کرنا
چاہئیےتا وقتیکہ انشراحِ صدر حاصل ہو۔شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس ذکر کی کوئی تعداد متعین نہیں کی لیکن فقیر
قادری کہتا ہے کم از کم ایک ہزار مرتبہ سبحان اللہ و بحمدہ کا ضرب روز لگانا
چاہئیے ۔
یہ ذکر انشراحِ صدر،دفعہ
وسواس و غلبہ تفکرات کے رفع کرنے میں از حد مفید ہے۔آج کل لوگ Overthinking اور Stress وغیرہ کا علاج بتاتے ہیں ، جاننا چاہئیے ہر قسم
کے نفسیاتی ،روحانی اور جسمانی امراض کا
علاج اللہ کے ذکر میں ہے اور مشائخ سے ہم تک بے شمار اذکار و اعمال اس قسم کے
پہنچے ہیں ۔سالک جو راہ سلوک طے کرتے ہوئے ہمت ہار جاتے ہیں انہیں مشائخ کے ان
تلقین کردہ اذکار سے تمسک کرنا چاہئیے تاکہ ان کے عزم و ارادے میں در آنے والے
تزلزل اور تذبذب کا تدارک ہوسکے اور وہ یقین محکم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے۔ یہ
ذکر بہت پیارہ ہے ، اس کے کرنے سے آپ دلی فرحت و انبساط سے مالا مال ہوں گے اس سے
ہر عام و خاص فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔آج ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ۔قلبی و ذہنی
سکون کے متلاشیوں کو مشائخ کے نسخہ جات سے کام لینا چاہئیے۔
افادے کے طور پر عرض کرتا چلوں کہ عرش کا تصور اور اس پر واقع نار کا تصور جو ساکن ہے ایک عامی کے لئے خاصا مشکل ہے لہذا اس کا آسان طریقہ یہ ہے بحمدہ کا ضرب لگانے والا اگر عرش کا تصور نا باندھ سکے تو وہ یہ ضرب ام ا لدماغ یا سر کے اوپر لگائے کہ انسان کا سر بھی بمنزلہ عرش کے ہے ، جس طرح عالم کبیر کا عرش ہے ایسے ہی انسان جو کہ عالم صغیر ہے اس کا عرش سر یا دماغ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو علم نافع رزق واسع اور خیر کثیر عطا فرمائے آمین۔
اتوار،
31 اگست، 2025
- Get link
- X
- Other Apps