Featured Post
Istikhara Masnoon | AL AUFAAQ | Sufi Imran Razvee Sb
- Get link
- X
- Other Apps
نماز ودعائے استخارہ مسنون
حدیث صحیح جس کو مسلم کے سوا تمام محدثین نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہن کو تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم فرماتے جس طرح قرآن کی سورت تعلیم فرماتے تھے ۔
فرمایا جب کو ئی کسی امر کا قصد کرے تو دو رکعت نفل پڑھے پھر دعائے استخارہ پڑھے ۔مستحب یہ ہے کہ اس دعا کے اول آخر درود شریف پڑھے ۔ایک حدیث شریف میں ہے کہ ائے انس جب تو کسی کام کا قصد کرے تو اپنے رب سے اس میں سات بار استخارہ کر پھر نظر کر تیرے دل میں کیا گذرا بے شک اسی میں خیر ہے
بعض مشائخ سے منقول ہے کہ دعا ئے مذکور پڑھ کر قبلہ رو سو رہے اگر خواب میں سفیدی یا سبزی دکھائی دے تو وہ کام بہتر ہے اور اگر سیاہی دکھائی دے تو وہ کام برا ہے اس سے بچے (بہار شریعت)
جب تک کسی ایک طرف رائے پختہ نہ ہو جائے استخارہ کرتا رہے جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی کام کے کرنے سے قبل ایک ماہ مسلسل استخارہ کیا تھا۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَ اَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لَاۤ اَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَاۤ اَعْلَمُ وَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْؕبِ اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَاالْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ اَمْرِیْ وَ عَاجِلْ اَمْرِیْ وَ اٰجِلِہٖ فَاقْدِرْہُ لِیْ وَ یَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ اَمْرِیْ وَ عَاجِلْ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْلِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ
(بخاری
شریف)