Ashura ME In Panch Mujarrab Amaal Ke Amil Bane | عاشورہ میں ان پانچ مجرب اعمال کے عامل بنیں | Sufi Imran Razvee Sb | Idara Roohani Imdad
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔ ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔ اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
حضرتِ سیِّدُنا عبدُالصَّمَد بن مَعْقَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ'' میں نے حضرتِ سیِّدُنا وَہْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' گذشتہ اُمتوں میں ایک شخص تھا ، اس کی بیٹی مرگی کے مرض میں مبتلا ہوگئی۔ بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ و ہ جس معالج کے متعلق بھی سنتا، اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس پہنچ جاتا۔ لیکن اس کے علاج سے سب عاجز رہے۔بالآخر اُسے بتایا گیا کہ فلاں شخص اس وقت سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہے، اگر اس کے پاس جاؤ تو تمہار ی مشکل حل ہو جائے گی۔ چنانچہ، وہ اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دے کر علاج کا سوال کیا اور بتایا کہ میں زمانے بھر کے طبیبوں اور عا ملوں سے ملا، لیکن کوئی بھی اس بیچاری کا علاج نہ کرسکا۔
اس نیک شخص نے دکھیارے باپ کی فریاد سنی تو کہا:'' مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر میں نے تمہاری بیٹی کا علاج کردیا تو تم لوگو ں کو بتاؤگے، اس طر ح میری شہرت ہوجائے گی اور لوگ مجھے مصیبت میں مبتلا کر دیں گے۔'' لڑکی کے باپ نے عہد کیا کہ میں ہر گز کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ چنانچہ، وہ نیک شخص علاج کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ در اصل ایک شریر جن نے لڑکی کے جسم میں داخل ہوکر اسے اذیَّت میں مبتلا کر رکھا تھا، نیک شخص نے عمل کیا اور شریر جن کو مخاطب کر کے کہا :'' اس لڑکی کے جسم سے باہر نکل آ۔'' جن نے کہا : '' ہر گز نہیں ! یہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس کے جسم سے نکل کر تیرے جسم میں آجاؤ ں۔'' نیک شخص نے کہا : ''ٹھیک ہے ! تو اسے چھوڑدے اور میرے جسم میں داخل ہوجا۔'' چنانچہ جن لڑکی کوچھوڑ کر نیک شخص کے جسم میں داخل ہو گیا، اس نے دَم کر کے اپنے جسم کا حصار کیا اور تمام مَسام بند کر کے اسے اپنے جسم میں قید کرلیا ، پھر لڑکی کے والد سے کہا:'' اپنی بیٹی کو لے جاؤ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے اب یہ ٹھیک ہوگئی ہے۔'' اس نے کہا:''مجھے ڈر ہے کہ یہ شریر جن دو بارہ میری بیٹی کو تنگ کرنے نہ آجائے۔'' تو نیک آدمی نے کہا:'' جاؤ ! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! اب کبھی بھی یہ اس کی طر ف نہ آئے گا۔''