Posts

Showing posts with the label حکایات

Healing hand

    شفاء دینے والاہاتھ     حضرت سیدنا ابو بکر حری علیہ رحمۃ اللہ القو ی فرماتے ہیں،میں نے حضرت سیدنا سری سقطیعلیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ''میں تقریباً بیس سال تک ساحلوں، جنگلوں ، پہاڑوں اورصحراؤں میں صرف اس لئے گھومتا رہا کہ شاید اللہ عزوجل کے کسی ولی سے ملاقات ہوجائے اور میں اس کی صحبتِ بابرکت سے فیض حاصل کروں، ایک دن اسی مقصدکے تحت میں ایک جنگل میں گیا۔ وہاں مجھے ایک غار نظر آیا ۔میں اس غار میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک لُنجا، دو اندھے اوربہت سے کوڑھ کے مریض موجود تھے، میں نے ان سے پوچھا: ''تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو اوراس ویران جنگل میں اس وقت تم کس لئے جمع ہوئے ہو؟تو انہوں نے جواب دیا: ''ہم اللہ عزوجل کے ایک ولی کا انتظار کر رہے ہیں ،جس کی شان یہ ہے کہ وہ جس بیمارپر اپنا مبارک ہاتھ رکھ دیتا ہے اس کی سب بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔آج وہ یہاں آ ئے گا، ہم اس کے انتظار میں یہاں جمع ہیں ۔ ''     حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں،میں نے دل میں کہا:''ان شاء اللہ عزوجل آج میری مراد پوری ہو جائے گی اورآج میں کسی و...

The appearance of Khidr (peace be upon him) upon reciting the Ism Azam

  اسمِ اعظم پڑھتے ہی خضر علیہ السلام کا حاضر ہو جانا     حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،ایک مرتبہ میں ا سکندریہ کے ایک شخص سے ملا جسے اسلم بن زید اَلجھنی کہا جاتاتھا ۔ و ہ مجھ سے کہنے لگا :''اے نوجوان ! تم کون ہو؟'' میں نے کہا:'' میں خراسان کا رہنے والا ہوں۔'' اس نے پوچھا: ''تجھے دنیا سے بے رغبتی پر کس چیز نے ابھارا؟'' میں نے جواب دیا :'' دنیوی خواہشات کو ترک کرنے اور ا ن کے ترک پر اللہ عزوجل کی طرف سے ملنے والے ثوا ب کی امید نے۔''وہ کہنے لگا :'' بندے کی اللہ عزوجل سے اجر وثواب کی امید اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر کرنے کا عادی نہ بنالے ۔ یہ سن کر اُس کے پاس کھڑے ایک شخص نے پوچھا :'' صبر کیا ہے؟ ''اس نے جواب دیا:'' صبر کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ انسان ان باتوں کو بھی (خوشی سے) برداشت کرلے جو اس کے دل کو اچھی نہ لگیں۔''میں نے کہا:''اگروہ ایساکر لے تو پھر کیا ہوگا؟''      اس نے کہا :'' جب وہ ناپسند یدہ باتوں کو برد...

Dast e Ghaib Wali Aayat Aur Ek Khabees Jinn | AL AUFAAQ (VOL-3)

  خبیث جن      حضرت ابو اسحاق محمد بن رشیدمعتصم باللہ سے مروی ہے:''بحری جہاز سمند ر کے سینے کو چیر تا قدرت الٰہی عزوجل کا مظاہر ہ کرتا ہوا جانبِ منزل جھومتا چلا جارہا تھا۔ اس جہاز میں ایک شخص کے پاس دس ہزار سونے کی اشرفیاں تھیں۔بحری جہاز کے مسافر اپنی منزل کی طرف گا مزن تھے۔ اچانک کسی کہنے والے نے کہا:''میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص اسے کیسی ہی بڑی مصیبت میں پڑھے اللہ عزوجل اس مصیبت کو اس پاکیزہ کلمہ کی برکت سے دور فرمادے گا،کیا کوئی شخص مجھ سے یہ کلمہ سیکھنا چاہتا ہے؟ جو شخص سونے کی دس ہزار اشرفیاں خرچ کر ے گا میں اسے یہ پاکیزہ کلمہ سکھاؤں گا۔جس کے پاس دس ہزار سونے کی اشرفیاں تھیں اس نے سن کر کہا: مَیں یہ عمل آپ سے سیکھنا چاہتا ہوں۔ کہنے والے نے کہا:''اپنی ساری رقم سمندر میں ڈال دو۔''     اس مردِ صالح نے ساری رقم سمند ر میں ڈال دی ، کہنے والے نے کہا : ''پڑھ! وہ کلمہ یہ آیت مبارکہ ہے: وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿2﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہ...

Qudrat Ka Karishma - Hamal Ki Hifazat

     قدرت کا کرشمہ ۔حمل کی حفاظت     حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگو ں کے درمیان جلوہ فرماتھے کہ اچانک ہمارے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے اپنے بچے کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ان باپ بیٹے کو دیکھا تو فرمایا : ''جتنی مشابہت ان دونوں میں پائی جارہی ہے میں نے آج تک ایسی مشابہت اور کسی میں نہیں دیکھی۔''یہ سن کر اس شخص نے عرض کی : ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے اس بچے کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے، اس کی ماں کے فوت ہونے کے بعد اس کی ولادت ہوئی ہے۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' پوراواقعہ بیان کرو۔'' وہ شخص عرض کرنے لگا:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں جہاد کے لئے جانے لگا تو اس کی والدہ حاملہ تھی،میں نے جاتے وقت دعا کی :''اے اللہ عزوجل! میری زوجہ کے پیٹ میں جو حمل ہے میں اُسے تیرے حوالے کرتاہوں، تُوہی اس کی حفاظت فرمانا۔ ''     یہ ...

Chauthe Asman Ka Farishtah | A powerful Prayer

  چوتھے آسمان کا فرشتہ     حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی   کریم،ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تجارت کیا کرتے تھے، ایک ُملک سے دوسرے ُملک اورایک شہر سے دوسرے شہر مالِ تجارت لے جاتے ، وہ بہت متقی وپرہیزگار تھے اور ان کی عادت تھی کہ اکیلے ہی سفر کرتے ۔      اسی طرح ایک مرتبہ وہ سامانِ تجارت لے کر سفر پر روانہ ہوئے ۔جب ایک جنگل میں پہنچے تو اچانک آہنی زِرہ پہنے ایک مسلّح ڈاکو نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روک لیا اور کہا :'' اپنا سارا مال میرے حوالے کر دو اور قتل ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ ۔'' یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے : ''تمہارا مقصودمال ہے تم میرا سارا مال لے لواور مجھے جانے دو ،مجھے قتل کرنے سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟ یہ لومیں اپنا تمام مال تمہارے حوالے کرتا ہوں ۔''     یہ سن کر ڈاکونے کہا:'' میں تمہارا مال تو لوں گا ہی مگر تمہیں قتل بھی ضرور کروں گا۔'' ا...

Prince's ring | Shahzade Ki Angoothi | شہزادے کی انگوٹھی

  شہزادے کی انگوٹھی     حضرت سیدنا عبداللہ بن الفرج العابد علیہ رحمۃاللہ الماجد فرماتے ہیں :'' ایک مرتبہ مجھے کسی تعمیر ی کام کے لئے مزدور کی ضرورت پڑی، میں بازار آیا اور کسی ایسے مزدور کو تلاش کرنے لگا جو میری خواہش کے مطابق ہو، یکایک میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو سب سے آخر میں بیٹھا ہو ا تھا۔ چہرہ شرافت وعبادت کے نور سے چمک رہا تھا ، اس کا جسم بہت ہی کمزور تھا ، اس کے سامنے ایک زنبیل اور رسی پڑی ہوئی تھی،اس نے اُون کاجبہ پہنا ہوا تھا اور ایک موٹی چادر کا تہبند باندھا ہوا تھا ۔      میں اس کے پا س آیا او رپوچھا:'' اے نوجوان! کیا تم مزدو ری کرو گے ؟'' کہنے لگا:'' جی ہاں۔'' میں نے پوچھا : '' کتنی اُجرت لوگے ؟ ''اس نے جوا ب دیا:''ایک درہم اور ایک دانق (یعنی درہم کاچھٹا حصہ) لوں گا۔'' میں نے کہا: ''ٹھیک ہے ، میرے ساتھ چلو۔'' وہ نوجوان کہنے لگا:''جیسے ہی مُؤذِّن ظہر کی اذان دے گا میں کام چھوڑ کر نماز کی تیاری کرو ں گا اور نماز کے بعد دوبارہ کام شروع کردوں گا، پھر جب عصر کی اذان ہوگی تو میں ف...

Allama Ibn Al-Jawzi's love for the Prophet ﷺ

  علامہ ابن جوزی کا عشقِ رسول    ﷺ      آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نبئ مکرّم،نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آد م صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سچے عاشق تھے، جب ا ۤپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حدیث لکھتے توطہارت وپاکیزگی کابہت اِہتمام فرماتے اور بڑے مؤدبانہ انداز میں بیٹھتے۔ جس قلم سے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حدیثِ پاک لکھتے اس پر لگی سیاہی کو جمع فرماتے رہتے اور اسے بڑے اَدب واِحترام سے رکھتے اور فرماتے :''جب مَیں مرجاؤ ں تو جس پانی سے مجھے غسل دو اس میں یہ سیاہی ڈال دینا، مجھے اللہ عزوجل سے اُمید ہے کہ جس سیاہی سے مَیں نے اس کے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی احادیثِ مبارکہ لکھی ہیں وہ بابر کت سیاہی جب میرے جسم سے لگے گی تو ضرور میری مغفرت ہو جائے گی،جس سیاہی سے مَیں نے اپنے پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا نامِ نامی لکھا جب وہ میرے جسم کو چُھولے گی تواُسے جہنم کی آگ ہر گز نہ چھوئے گی اور نامِ محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی برکت سے مَیں قبر وآخرت کے عذاب سے محفو ظ رہوں گا۔ ''  

Reasons for not accepting prayers | Dua Qubool Na Hone Ka Sabab | دُعاقبول نہ ہونے کاسبب

  دُعاقبول نہ ہونے کاسبب     حضرتِ سیِّدُنا عُبَّاد خوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے منقول ہے: ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلاماسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں عرض گزار ہوئے: ''اے میرے رحیم وکریم پروردْگار عَزَّوَجَلَّ! تو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا ؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپعلیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی: ''اے موسیٰ !اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اس کا دم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔'' حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی :'' میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اس کی کیا وجہ ہے ؟'' ارشاد ہوا: '' یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں حرام مال ہے۔ ''

Ek Sahreer Jinn | ایک شریرجِنّ | A Demon

 ایک  شریرجِنّ     حضرتِ سیِّدُنا عبدُالصَّمَد بن مَعْقَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ'' میں نے حضرتِ سیِّدُنا وَہْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' گذشتہ اُمتوں میں ایک شخص تھا ، اس کی بیٹی مرگی کے مرض میں مبتلا ہوگئی۔ بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ و ہ جس معالج کے متعلق بھی سنتا، اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس پہنچ جاتا۔ لیکن اس کے علاج سے سب عاجز رہے۔بالآخر اُسے بتایا گیا کہ فلاں شخص اس وقت سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہے، اگر اس کے پاس جاؤ تو تمہار ی مشکل حل ہو جائے گی۔ چنانچہ، وہ اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دے کر علاج کا سوال کیا اور بتایا کہ میں زمانے بھر کے طبیبوں اور عا ملوں سے ملا، لیکن کوئی بھی اس بیچاری کا علاج نہ کرسکا۔     اس نیک شخص نے دکھیارے باپ کی فریاد سنی تو کہا:'' مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر میں نے تمہاری بیٹی کا علاج کردیا تو تم لوگو ں کو بتاؤگے، اس طر ح میری شہرت ہوجائے گی اور لوگ مجھے مصیبت میں مبتلا کر دیں گے۔'' لڑکی کے باپ نے عہد کیا کہ میں ہر گز کسی کو نہیں...

The test of the desire for the "Ism e Azam"

  ا سمِ اعظم کے مُتَمَنِّی کا امتحان     حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن حسن رازی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں:''مجھے بتایا گیا کہ حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی '' اسمِ اعظم'' جانتے ہیں۔ چنانچہ، میں مصر کی طر ف روانہ ہوا۔ سفر کی صعوبتیں بر داشت کرتا ہوا بالآخر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ میری داڑھی کا فی بڑھی ہوئی تھی۔ ایک بڑا ساپیالہ میرے پاس تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک نظر میری طرف دیکھا پھردوسری طرف متوجہ ہوگئے پھر میری طرف بالکل التفات نہ فرمایا ۔ میں بھی آس لگائے بیٹھا رہا کہ کبھی نہ کبھی تو نظرِ کرم ضرور فرمائیں گے ، اسی آس میں کافی دن گزر گئے۔      ایک دن ایک تیز طراز چرب زبان شخص جو علمِ کلام میں ماہر تھا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا اور مناظرہ کر نے لگا۔ آپ   رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دلائل سے گفتگو کی لیکن وہ اپنی چرب زبانی کی وجہ سے قابو نہ آیا۔ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو اس سے مناظرہ کیا اور اسے لاجواب کردیا، وہ شکست کھاکر وہاں سے چلاگیا ۔ اب حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّو...

Dua to remove poverty and hardship

  مفلسی وتنگد ستی دورکرنے کاوظیفہ     حضرت سیِّدُنا اِبنِ شِیرَوَیْہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ''ایک دن میں حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابرکت میں حاضر تھا، اتنے میں ایک پریشان حال، تنگدست ،غریب شخص آیا اور اپنی مفلسی کی شکایت کی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اپنی حفظ وامان میں رکھے ، اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹ جا اوریہ الفاظ بار بار پڑھ: ''مَا شَاءَ اللہُ کَانَ،(اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو چاہا وہی ہوا) مَا شَاءَ اللہُ کَانَ، مَا شَاءَ اللہُ کَانَ۔''     حضرت سیِّدُنا ابن شِیرَوَیْہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ پھر وہ شخص چلا گیا۔ جب ایک پُل کے قریب پہنچا توایک سوار بہت تیز رفتاری سے آتا دکھائی دیا۔ اس نے قریب آ کر کہا :'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! ٹھہر جاؤ۔'' تو وہ محتاج وعیال دار شخص ٹھہر گیا ، سوار نے اسے ایک تھیلی دی اورچلاگیا۔'' غریب شخص نے اپنے رفیق سے کہا: ''دیکھو! اس تھیلی میں کیا ہے ؟'' جب تھیلی کھولی تو دیناروں سے بھر ی ہ...

Reward for saying "Ma Sha'Allah"

     مَا شَاءَ اللہُ کَانَ کہنے پر انعام     حضرت سیِّدُنا ابو بَکْر بن زَیَّات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ''ایک شخص حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہا: ''حضور!آج صبح ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ، میں سب سے پہلے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس یہ خبر لے کر آیا ہوں تاکہ آپ کی برکت سے ہمارے گھرمیں خیر نازل ہو ۔'' حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔یہاں بیٹھ جاؤ اورسو مرتبہ یہ الفاظ کہو:''مَا شَاءَ اللہُ کَانَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو چاہا وہی ہوا۔ ''اس نے سو مرتبہ یہ الفاظ دہرائے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' دوبارہ یہی الفاظ کہو ۔'' اس نے سو مرتبہ پھر وہی الفاظ دہرائے ۔آپ نے فرمایا:''پھر وہی الفاظ دہراؤ۔'' اس طرح پانچ مرتبہ اس کو حکم دیا ۔ چنانچہ، اس نے پانچ سو مرتبہ وہ الفاظ دہرائے۔ اتنے میں وزیر کی والدہ اُمِّ جَعْفَر کا خادم ایک خط اورتھیلی لے کر حاضر ہوا اورک...

Fuqara Ke Teen Tabqe Kamyab Hain

فقراء کے تین کامیاب طبقے     حضرتِ سیِّدُناعباس بن دِہْقَان علیہ رحمۃ اللہ الحنَّان کہتے ہیں کہ ''مجھے حضرتِ سیِّدُنا احمد بن زَیَّات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بتایا : ''ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی بارگاہ میں حاضر تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صبر و رضا کا درس دے رہے تھے ۔ اچانک ایک صوفی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مخاطب کر کے کہا: '' اے ابو نَصْر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! کہیں تم حُبِّ جاہ کی خاطر تو لوگوں کے سامنے نیک اعمال نہیں کرتے ؟ اگر تم زُہد میں کامل ہوگئے ہو تودُنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لو اور لوگو ں کے عطیات وغیرہ قبول کرو،تاکہ ان کے نزدیک تمہارا جو مقام ہے اس میں کمی واقع ہو۔ ان کی طرف سے جو چیزیں تمہیں بطور نذرانہ ملیں انہیں فقراء پر خرچ کردو ۔ اور تو کل کی رسی مضبوطی سے تھام لو اگر ایسا کرو گے توغیب سے رزق دیا جائے گا ۔'' اس صوفی کا یہ اندازِ گفتگو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے معتقدین پربہت گراں گزرا۔لیکن وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ادب کی وجہ سے خاموش رہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی...

Murshid Par Mureed Ka Haal Poshida Nahi Rahta

  مرشِدپرمریدکاحال پوشیدہ نہیں ہوتا     حضرتِ سیِّدُنا ابو عمر و بن عَلْوَان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں :''ایک مرتبہ میں کسی کام سے ''رَحْبَہ'' } یمن کا ایک ضلع { کے بازار میں گیا ۔ دیکھا کہ کچھ لوگ جنازہ اٹھائے جارہے ہیں ۔ میں نماز جنازہ کے ارادے سے ان کے ساتھ ہولیا ۔ تدفین کے بعدجب واپس ہوا توبِلاارادہ ایک حسین و جمیل عورت پر نظر پڑگئی اور میں اسے دیکھنے لگاپھر نادِم ہوکر'' اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن'' کہتے ہوئے نگاہ پھیر لی ۔اور اللہ رب ا لعزت جَلَّ جَلَالُہٗ سے اپنے اس فعل کی معافی چاہتے ہوئے گھر چلا آیا ۔      گھر پہنچا توبوڑھی خادمہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا :'' یہ آپ کا چہرہ سیاہ کیوں ہوگیا؟'' میں نے گھبراکر آئینہ دیکھا تو واقعی میرا چہر ہ سیاہ ہوچکا تھا ۔ میں سوچنے لگا کہ آخر ایسا کونسا گناہ سرزد ہوگیا جس کی نحوست سے مجھ پر یہ مصیبت آ پڑی؟۔ پھر خیال آیا کہ اس غیرعورت کو دیکھنے کی وجہ سے اس عذاب میں گرفتار ہوا ہوں ۔چنانچہ میں چالیس روز تک اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتا رہا۔ پھر خیال آیا کہ مجھ...

NADIR ILM | نادر علم

  نادر علم حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ   بیان فرماتے ہیں: ایک شخص نے سید عالم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسول اللہ ﷺ! مجھے نادر علوم میں سے کچھ سکھا دیجئے!‘‘آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تم نے اصل علم میں کیا سیکھا ہے جو نادر علوم طلب کر رہے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’اصل علم کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’ کیا تم نےاللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ پھر تم نے اس کا کتنا حق ادا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کی:’’ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا   اتنا اداکیا ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے استفسار فرمایا:’’ کیا تم نے موت کو پہچان لیاہے؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’ جی ہاں!‘‘فرمایا:’’تم نے اس کے لئے کس قدرتیاری کی؟‘‘اس نے عرض کی:’’جتنی اللہ  تعالیٰ نے چاہی اتنی میں نے موت کی تیاری کرلی ہے۔‘‘توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جاؤ پہلے ان چیزوں کو پختہ کرو پھر آنا میں تمہیں نادر علوم سکھادو ں گا۔‘‘