Amaliyat Course August 2026 | عملیات کورس ربیع الاول1448 | Sufi Imran Razvee | Idara Roohani Imdad
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ادارہ روحانی امداد ایک مستند اور معتمد روحانی علاج کا پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں قرآن و سنت اور سلف صالحین و بزرگان دین کے طریقے سے روحانی علاجات و معالجات کئے جاتے ہیں۔ ادارہ روحانی امداد میں رابطہ کرنے والے حضرات و خواتین کو قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ ، ادعیہ ماثورہ ، اور بزرگان دین و صوفیائے کاملین کے اوراد و وظائف تعلیم کئے جاتے ہیں۔ اداراہ روحانی امداد بندگان خدا کو دین و سنیت اور تصوف و اخلاق و آداب اسلامی کی صحیح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
مولانا روم رحمہ
اللہ نے مثنوی شریف میں ایک حکایت نقل
فرمائ ہے ۔س کا عنوان ہے ۔حکایت مرد بقال و روغن ریختن طوطی یعنی ایک دوکاندار اور طوطے کے تیل گرانے کا قصہ ۔لکھتے ہیں ایک بقال تھا اس کا ایک خوش
آواز سبز رنگ کا بولنے والا طوطا تھا وہ گاہکوں سے مخاطب ہو کر عقل کی باتیں کرتا
تھا اور سوچوں کے چہچہے میں بڑا ماہر تھا اس کا مالک ایک دن گھر کی طرف گیا ہوا
تھا طوطا دکان کی حفاظت کر رہا تھا اچانک دوکان میں ایک بلی کسی چولہا کو پکڑنے کے
لئے اچھلی تو وہ طوطا جان کے خوف سے دکان کے صدر دروازے سے اچھل پڑا ،اس کے اس طرح
اچھلنے سے روغن بادام کی بوتلیں گر کر ٹوٹ گئیں جب دکان کا مالک واپس آیا تو فرش
کو چکنی پایا غور کیا تو معلوم ہوا کے روغن بادام کی ساری بوتلیں ٹوٹی پڑی ہیں۔
سمجھ گیا کہ یہ طوطے کی کارفرمائی ہے طوطے کو پکڑ کر اس کے سر پے زور سے مارا جس
کی وجہ سے وہ خوبصورت طوطا گنجا ہو گیا اس کے سر کے بال گر گئے۔ اس صدمے کی وجہ سے
طوطے نے کچھ روز بولنا ہی بند کر دیا تو مرد بقال کو افسوس ہوا کہ کاش میں اس خوش
زبان پرندے کو نہ مارتا تین دن تین رات گزرنے پر بقال بھی بڑا مایوس ہوا حیران و پریشان اور مایوسی کے عالم میں بیٹھا
انتظار کر رہا تھا کہ اس کا طوطا پھر کب بولے گا وہ طوطے سے اِدھر اُدھر کی باتیں
کرتا کہ شاید طوطا بولنے لگے لیکن کچھ نہیں بولتا خاموش رہتا پھر اچانک ایک کمبل
پوش شخص اس دکان کے سامنے سے گزرا جس کا سر گنجا تھا طوطے اسے دیکھتے ہی بے ساختہ
بولا
کز چہ ائے کل
باگلاں آمیختی
تو مگر از شیشہ
روغن ریختی
کہ اَے گنجے تو کس سبب سے گنجوں میں شامل ہوا شاید تونے بھی بوتل سے تیل گرا
دیا ہوگااس کے بعد والے شعر میں مولانا فرماتے ہیں ۔
از قیاسش خنده آمد
خلق را
کو چو خود
پنداشت صاحب دلق را
طوطے کے اس قیاس سے لوگوں کو ہنسی آئی کے اس نے کمبل پوش کو بالکل اپنے جیسا ہی
سمجھ لیا۔ (الاوفاق)